سفر نامہ پنجاب۔ تیرے شہر میں یوں زندگی ملی۔ دوسری قسط۔



” جنگل میں منگل“

لاہور ریلوے اسٹیشن سے ہماری گروپ لیڈر نے ایک وین کا بندوبست کیا جس میں تمام لوگ مع ساز و سامان کے سما گئے۔ اس مرتبہ ہمارا سفر پتوکی کے لیے تھا۔ بڑے شہروں سے باہر نکلتے ہی گویا منظر بدل جاتا ہے۔ کہاں شہروں کی گہماگہمی اور کہاں مضافات اور اس سے بھی آگے کے خالص قدرتی مناظر۔ شہر سے دور چھدری آبادی، کھیت، یہاں سے وہاں تک بکھرا ہوا سبزہ جیسے قدرت نے زمین کی خاکی چنری پہ سبز نگینے جڑے ہوں۔ اس سے اوپر کھلتے ہوئے نیلے آسمان پہ جگہ جگہ براق سفید بادلوں کی ٹکڑیاں جو آسمان کی نیلاہٹ کو اور نکھار رہی تھیں۔

یہ سہ پہر کا وقت جو چوبیس گھنٹوں میں میرا سب سے زیادہ پسندیدہ وقت ہے۔ اس وقت مجھے جس قدر سکون کا احساس ہوتا ہے وہ بیان سے باہر۔ دل چاہتا ہے اسی لمحے میں گردش کائنات جم جائے۔ ایسے وقت اگر کھلی فضا میں سبزے کے درمیان ہوں تو طمانیت کا نرم ملائم سا پرسکون احساس مجھے اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ طمانیت کے احساس کو دوبالا کرنے کے لیے کوئی اچھی سی کتاب اور مزے دار سی چائے بھی ہو اور ساتھ کوئی ہم مزاج دوست بھی ہو تو سمجھیے زندگی یہیں مکمل ہے۔

میں وین کی کھڑکی سے باہر کے سرسبز مناظر دیکھتے ہوئے یہ ہی سب سوچتی رہی کہ زندگی میں اس سے پرلطف بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم فطرت کے خالص حسن کو اپنی تمام حسیات کے ساتھ محسوس کرسکیں۔ کراچی سے لاہور کا سفر کا زیادہ حصہ چوں کہ رات میں گزرا تھا اس وقت مناظر رات کی آغوش میں محو خواب تھے لیکن دن کی تابانی مناظر کو اور طرح کا بانکپن عطا کرتی ہے۔ لاہور سے سہ پہر کو شروع ہونے والا سفر شام کو پتوکی میں جا کے ختم ہوا جہاں ہمارے میزبان اعظم بھٹی مع اپنے بھائی مدثر بھٹی صاحب ور اپنے صاحب زادے حسنین کے ہمراہ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔

اعظم بھٹی صاحب بنیادی طور پر تو زمین دار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی بحیثیت قاری شغف رکھتے ہیں۔ ان کی زمینوں میں مختلف فصلیں کاشت ہوتی ہیں جیسے کہ ان دنوں وہاں گنا کاشت کیا گیا تھا۔ یوں تو ان کی رہائش پتوکی شہر میں ہے لیکن اپنی زمینوں پر بھی انھوں نے رہائشی مکانات تعمیر کیے ہوئے ہیں کچھ وقت سے وہ مع اہل و عیال اور اہل خاندان یہاں رہائش پذیر ہیں۔ سر شام دیہات کی کھلی فضا میں آ کے بہت الگ سا اور خوش گوار احساس ہوا۔

بھٹی صاحب کے خاندان نے بہت گرم جوشی سے ہم سب کا استقبال کیا۔ بھٹی صاحب کے گھر پہنچ کے سامان وغیرہ رکھ کے گروپ کے کچھ اراکین نے تو نہانے اور کپڑے بدلنے باری باری غسل خانوں کا رخ کیا اور کچھ نے ”آج کا کام کل رکھو بلکہ ممکن ہو تو پرسوں کرنے کا سوچو“ کے مصداق یہ کام کل پہ رکھا۔ نہانے دھونے اور بننے سنورنے سے گروپ ارکان کی سفر کی تھکن کچھ تو اتر ہی گئی۔ کچھ ہی دیر میں رات کا کھانا چن دیا گیا۔ کھانے میں گوشت کے دو سالن تھے دونوں بہت لذیذ تھے۔

اتنے لمبے سفر کے باوجود ہم سب بہت تروتازہ تھے چناں چہ رات کے کھانے کے بعد باہر نکل کھڑے ہوئے۔ بھٹی صاحب کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک نہر ہے۔ ہم سب ٹہلتے ہوئے اس نہر تک چلے گئے۔ شہروں میں رات کا وہ تاثر نہیں ہوتا جو گاوٴں دیہات کی راتوں کا ہوتا ہے۔ شہروں میں خاص کر کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا (اب تو سوچ کے بھی منہ سے سرد آہ نکلتی ہے کہ ہمارا پیارا کراچی روشنیوں کے شہر کے نام سے موسوم ہے ) ، رات کی تاریکی بھی مدھم سی روشنی لیے ہوئے ہوتی ہے لیکن دیہاتوں میں سرشام رات کی گہری ردا ہر شے کو ڈھانپ لیتی ہے۔

دیہات کی رات کی ایک اور خاص بات اس کا سکون ہے۔ اس قدر خاموشی ہوتی ہے کہ دل کے دھڑکنے کی آواز تک سنی جا سکتی ہے۔ گاوٴں کے اس پرسکون رات نے کراچی کے کچھ من چلوں کے قہقہے حیرانی سے سنے اور پھر دھیرے سے خود بھی مسکرا دی۔ پندرہ تاریخ کا پیلاہٹ مائل نارنجی سا چاند من چلوں کا ہنسنا بولنا گانا گنگنانا بہت دل چسپی سے دیکھ رہا تھا۔ ہم لوگوں کے ہنسنے بولنے سے تمام منظر مسکرانے لگا تھا۔ دو دن پہلے اس وقت ہم سب اپنے اپنے گھروں میں آرام دہ بستر پہ تھے اور اب ایک انجانی جگہ دوستوں کے ساتھ ہلا گلا کر رہے تھے۔

کچھ دیر کی سیر کے بعد واپسی ہوئی۔ میزبان خواتین جن میں بھٹی صاحب کی بیگم، بھٹی صاحب کی سالی جو ہماری یہاں آمد کا سن کر ہم سب سے ملنے یہاں چلی آئی تھیں اور ایک دو دن کے لیے یہیں مقیم تھیں ان کے علاوہ بھٹی صاحب کی بھابی، ہمارے ساتھ آ کے بیٹھیں باتوں کے دوران کھانے پینے کا ذکر ہوا تو ساگ کا بھی تذکرہ نکل آیا میزبان خواتین نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں ساگ کھلائیں۔ سب لوگ ساگ کے دل نشیں خواب آنکھوں میں لیے سو گئے۔

اگلی صبح خوش گوار حیرت ہوئی جب ناشتے میں دسترخوان پہ ہم نے ساگ، مکھن اور مکئی کی روٹی دیکھی۔ اف نہ پوچھیے ساگ دیکھ کے کیسا لگا۔ مکھن گھر کی بھینسوں کے دودھ سے بنایا گیا تھا اسی بات سے اس کی لذت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کئی کی روٹی بھٹی صاحب کی والدہ نے پکائی تھی اور کیا ہی زبردست روٹی تھی۔ سب نے سیر ہوکے ناشتہ کیا۔ گروپ کے کچھ لوگ جو صبح کو سیر کرنے کے شوقین ہیں وہ علی الصبح بیدار ہوکے ناشتے سے بھی قبل پھولوں کے کھیت دیکھنے چلے گئے تھے وہاں سے واپس آ کے انھوں نے ناشتہ کیا۔

پھر ہم تیار ہونے لگے۔ آج چھانگا مانگا کی سیر کا پروگرام تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم لوگ چھانگا مانگا میں تھے۔ چھانگا مانگا مصنوعی طور پہ لگایا گیا جنگل ہے یہ جنگل اور پارک کا ملا جلا تاثر دیتا ہے۔ یہاں سیاحوں کی تفریح کے لیے منی ٹرین اور جھیل میں بوٹنگ کا انتظام ہے۔ اگرچہ یہاں خاصے لوگ سیر کرنے آئے تھے لیکن اس کے باوجود فطرت کا پر سکوت حسن محسوس کیا جاسکتا تھا۔ مجھے تو یوں لگا گویا فطرت بہ زبان خاموشی ہم انسانوں سے ہم کلام ہو رہی ہے اور وہ سب ہم سے کہنا چاہ رہی ہے جو ہم کبھی نہیں سنتے سننا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ کائنات کے حسن پہ غور کیا جائے تو ہر ذرے میں ایک راز پوشیدہ ہے بقول میر;

”سرسری تم جہاں سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا ”

چھانگا مانگا میں پرلطف وقت گزار کر جلد واپسی کا قصد کیا کیوں کہ اسی شام کراچی کے شاعروں کے اعزاز میں ایک مشاعرے کا بھی اہتمام تھا۔

(جاری)

Facebook Comments HS