ناظم جوکھیو قتل کیس اور پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈے کی روایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ اسمبلی کے ایک رکن پر قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے۔ ایک معمول ہے کہ جونہی پیپلز پارٹی کے کسی بھی رکن پر کوئی الزام لگایا جاتا ہے تو اردو شاونسٹ میڈیا اور ہاؤس آف شریف کے بعض حامی ایف آئی آر کے اندراج کی بجائے اسے سرعام پھانسی لگانے اس کی نعش جلانے اور اس کی قبر پر کوڑے مارنے کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔

پی پی پی کے کارکن سیاسی کارکن ہیں اور اعلی ترین اخلاقی طرز عمل پر قائم رہتے ہیں۔ اس لئے جونہی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جس میں پیپلز پارٹی کی قیادت پر الزام آئے تو پیپلز پارٹی کے کارکن بجائے خود اسی مطالبہ میں شریک ہو جاتے ہیں۔

پچاس سال سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر جھوٹے الزامات لگانا ایک پروپیگنڈا کرنے کی ٹیکنیک ہے جس میں جھوٹی کہانیاں بنی جاتی ہیں وقوعہ کی بجائے کہانیوں پر شدت سے زور دیا جاتا ہے اور انہیں میڈیائی مہارتوں کے ذریعے منوا لیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے میں واقعہ بیان کر دوں کہ سندھ میں ایک رکن اسمبلی جو سردار اختر مینگل کے بھانجے بھی ہیں۔ یقینی طور پر بڑے زمیندار اور مالک اراضی ہوں گے۔ ان کی دعوت پر کچھ عرب شیوخ شکار کھیلنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہاں پر ایک مقامی صحافی نے ان کی ویڈیو بنائی جس پر ان کے سیکورٹی کے عملہ نے، یاد رہے کہ عرب شیوخ کی سکیورٹی کے عملہ نے، اس صحافی سے بالجبر اس کا کیمرہ چھینا اور ویڈیو ضائع کردی۔

ابھی تک کسی بھی فرد نہیں یہ بات نہیں بتائی ہے کہ ویڈیو ضائع کرنے اور ویڈیو بنانے کا واقعہ کس روز کا ہے ممکن ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ سال کا ہو۔ جیسا کہ عزیز میمن کے واقع میں ہوا تھا۔ چند روز قبل جوکھیو نامی صحافی کی تشدد شدہ نعش برآمد ہوئی۔ دعوی کیا گیا کہ مقامی ایم پی اے کے ایماء پر صحافی کو قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ درست ہو سکتا ہے۔

اس خبر کے ریلیز ہوتے ہی چاروں طرف پیپلز پارٹی مخالف سیاپا کمپنی نے بلاول بھٹو زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ منظر کچھ یوں پیش کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ یہ ایم پی اے کوئی بہت بڑا غنڈا ہے۔ سندھی وڈیرا ہے۔ دہشت گردوں کا سرپرست ہے۔ قاتل ہے اور ذرا ذرا سی بات ہر ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔

عملی طور پر سیاست میں موجود ہونے کے تجربہ کے پیش نظر اور گزشتہ 50 سال کی میڈیائی مہمات کو تجزیہ کی نظر سے دیکھنے والے ایک فرد، ایک تاریخ کے طالب علم کے طور پر میں اس بات پر مکمل مطمئن ہوں کہ عرب شہزادوں کی ویڈیو بنانا اس قدر بڑا یا گھناؤنا جرم ہرگز نہیں ہے جس پر مقامی ایم پی اے غضبناک ہو جائے اور ایک معصوم اور کمزور شخص کی جان لے لے۔ قتل کرنے کے لئے اس سے کچھ بڑی وجہ درکار ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں اس بات پر اپنے آپ کو قائل کرنے میں ناکام رہا ہوں کہ عرب مہمانوں کی ویڈیو بنانے پر غصہ کر کے میزبان کسی کو قتل کردے۔

عزیز میمن نے بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ کی ایک ویڈیو ایسے سٹیشن پر ریکارڈ کی۔ جس سٹیشن پر بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ گیا ہی نہیں تھا۔ اس علاقہ کے ایم پی اے نے عزیز میمن کو دھمکی دی۔ تو عزیز میمن اپنا علاقہ چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا اور عزیز میمن اپنے علاقہ میں واپس آ گیا۔

ویڈیو بنانے کے ڈیڑھ سال بعد عزیز میمن ایک تالاب میں مردہ پایا گیا۔

ملک کے معتبر ترین منوائے گئے ایک صحافی  نے ٹویٹ کی اور الزام عائد کیا کہ عزیز میمن کو ڈیڑھ سال پہلے ٹرین مارچ کی فیک ویڈیو بنانے پر بلاول بھٹو زرداری نے قتل کروایا ہے۔

اسی طرح موجودہ واقعہ کو اگر دیکھا جائے تو سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ مبینہ ویڈیو بنانے کے کتنے عرصہ کے بعد اس صحافی کو قتل کیا گیا ہے۔

بہرحال جو بھی صورت ہو پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے اعلی ترین اخلاقی معیار کو خود برقرار رکھتی ہے۔ ذرا سا الزام بھی آ جائے تو پیپلز پارٹی کی وفاقی قیادت مرکزی قیادت اور صوبائی قیادت ہمیشہ اپنے آپ کو تفتیشی اداروں کے سامنے سر جھکا کر پیش کرتی رہی ہے۔ 50 سال کی تاریخ میں ہزاروں بار میڈیا الزام لگانے والے اور پیپلز پارٹی کے مخالف جماعتیں اصطبل کے کھلاڑی چھوٹے قرار پائے کسی نے مڑ کر معافی تک نہیں مانگی۔

پورے پاکستان میں مختلف نوعیت کے جرائم ہوتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن وقوعہ کے ملزمان آج تک گرفتار نہیں ہوئے اور کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ نواز کے کسی رکن نے آج تک اپنی لیڈرشپ سے مطالبہ نہیں کیا کیا کہ وہ گرفتاری دیں۔ اے پی ایس کے واقعہ میں عمران خان اور فوجی قیادت پر الزامات لگتے ہیں۔ ساہیوال کے واقعہ میں پی ٹی آئی کی حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔

علی امین گنڈا پور اور پختونخوا کے ایک سکھ رکن اسمبلی کا واقعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ دونوں پی ٹی آئی کے منتخب رکن اسمبلی کے قتل کے نامزد ملزم ہیں اور ان کو قتل کرنے کے بعد ٹکٹ حاصل کر کے وزیر اور رکن اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور آج تک کسی نے ان کو پیش ہونے یا گرفتار کرنے کے لیے نہیں کہا۔

پی پی پی کی قیادت نے چوبیس گھنٹے کے اندر مبینہ ملزم رکن سندھ اسمبلی کو تھانے میں پیش کر دیا ہے۔

اس کے باوجود مخالفین تو بے نظیر بھٹو پر حملہ کے بعد بھی بھی کہتے تھے کہ کارساز حملہ بے نظیر بھٹو نے خود کروایا اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کا مجرم آصف علی زرداری رحمان ملک اور شہنشاہ ہے۔

مجھے تکلیف اور رنج صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اس قدر جوشیلے اور جذباتی ہیں کہ اپنی پارٹی پر اچھالے جانے والے کیچر کو خود اٹھا کر اپنی پارٹی کے چہرے پر ملتے ہیں۔ ‏مجھے ذاتی طور پر شبہ ہے اور کچھ میرا تجزیہ ہے کہ اگر آب پارہ کے ملازم صحافیوں کے علاوہ کوئی بھی کمزور شخص پیپلز پارٹی کی قیادت پر کیچڑ اچھالنے کا جرم کرتا ہے تو اسے پیپلز پارٹی کے مخالفین بھی قتل کروا سکتے ہیں تاکہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر مزید تبرہ کرنا ممکن ہو سکے۔

پیپلز پارٹی کے کارکنان سے التماس ہے کہ ماضی اور تاریخ کو یاد رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے اعلی قیادت کو دباؤ میں لانے کی بجائے یا دباؤ میں لانے کی کوشش کرنے کی بجائے مخالفین کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے اس قدر موقع ضرور دیں کہ مبینہ ملزم ایم پی اے آزادانہ طور پر اپنی صفائی دے سکے۔ اگر اس کے ہاتھ صاف ہیں تو پھر اس کی تذلیل کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اگر وہ مجرم ثابت ہو جاتا ہے تو اپنی سزا پائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شہریار علی خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments