بانکے بہاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راجندر کمار دوبے نام تھا اس کا ۔ اور پہلی ملاقات میں اس نے اپنی زندگی کی کہانی مجھے سنا دی۔ وہ بہاری تھا اور پٹنے کا رہنے والا تھا۔ پرنس آف ویلز میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک مسلمان لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا۔ بات کافی آگے چل نکلی۔ جب اس کے باپ کو پتہ لگا تھا تو انہوں نے اسے بلا کر کہا تھا ”بٹوا ہمرے گھر میں اگر رہنا ہے اور ہمرے سنگ کوئی رشتہ رکھنا ہے تو اس مسلمان لڑکیوں سے ملنا جلنا چھوڑ دو اور ہمرے کو کل شام تلک بتائے دو ۔ ہم خود جا کر اس کا ابا اماں سے معافی مانگ لیں گے۔ اگر شام تلک کچھ اور کہنا ہے تو ہم سے ملنے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سمجھیں گے تم مر گئے اور ہم کو کچھ نا ہی کہنا ہے۔“

راجندر میں بالکل بھی ہمت نہ تھی، اس نے اسی وقت ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی تھی۔ پتا جی کے پیر پر سر رکھ دیا تھا۔ مگر پھر وہ پٹنے میں رکا نہیں تھا، اچھا خاصا ایم ایس پروگرام میں اس کو داخلہ ملا ہوا تھا اور اب تو دوسرا سال بھی ختم ہونے والا تھا۔ مگر اس میں ہمت نہیں تھی کہ پٹنہ میں رہنے اور شکیلہ سے نہ ملے اور اگر شکیلہ سے ملے تو اشت کمار دوبے سے نہ ملے۔ اشت کمار اس کے پتا جی کا نام تھا۔ وہ اسکول ٹیچر تھے۔ پٹنہ شہر کے ایک اسکول میں تمام عمر پڑھاتے رہے تھے۔

راجندر کمار اور نریندر دو بیٹے تھے ان کے اور ایک بیٹی تھی سرلا۔ راجندر چھوٹا تھا اور نریندر بڑا، سرلا سب سے بڑی تھی۔ راجندر شروع سے پڑھنے میں تیز تھا اور قومی سطح کے امتحان میں پاس ہو کر اسے میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تھا۔ نریندر شروع سے ہی لڑاکو تھا، کبڈی کھیلتا تھا اور محلے کے سارے بچوں کی ٹھکائی لگاتا رہتا تھا۔ جب بڑا ہوا انٹر پاس کر گیا تو اتنے نمبر نہیں تھے کہ اسے کسی اچھے کالج میں داخلہ ملتا مگر وہ فوج کے کمیشن کے امتحان میں پاس ہو کر فوجی افسر بن گیا تھا۔ جب راجندر نے ڈوبتے دل اور آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ بہار چھوڑا تھا وہ فوج میں بہت سارے تمغے جیت کر کرنل بن چکا تھا۔

مجھے وہ گالوے میں ملا تھا۔ گالوے جنوبی آئرلینڈ کا ایک ساحلی شہر ہے۔ چھوٹا سا یہ شہر یورپ میں خشکی کا آخری کنارا ہے اس کے بعد بہت دنوں تک سمندر میں تیرتے رہیں اور ڈوبنے سے بچ جائیں تو امریکی شہر بوسٹن آ جاتا ہے۔ کتنی ہی دفعہ میں نے گالوے کے ساحل کلفٹن پر کھڑے ہو کر امریکہ کے خواب دیکھے تھے۔ ایسے ہی ایک دن وہ مجھے سالٹ ہل پہ مل گیا تھا۔ میرے ہی جیسا قد تھا اس کا ۔ سانولا سا بہت ہی جاذب نظر چہرہ تھا۔ بھیگی بھیگی اور بکھری بکھری مونچھوں کے ساتھ غضب کی چمکدار آنکھیں تھیں۔

ایک دفعہ اگر چہرے پہ نظر پڑ جائے تو ہٹانا مشکل تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ شکیلہ کچھ دیکھ کر ہی مری ہوگی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا تھا اور بولا تھا کہ ”کا تک رہے ہیں؟ سمندر میں بہت دیر تک دیکھئے گا اور ہوا میں کھڑے رہئے گا تو جاڑا بھی لگے گا اور ٹھور بھی پھٹ جائے گا آپ کا ۔“ میں فوراً ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ بہاری ہے۔ ایسی ہی، تقریباً ایسی ہی بہاری بولی جاتی تھی ہم لوگوں کے گھر میں۔ پاکستان آنے کے بعد اب تو زبان ویسی نہیں رہی تھی۔ ہم لوگ سب اچھی خاصی اردو بولتے تھے مگر گھر کے بوڑھوں سے بہاری نہیں چھوٹی تھی۔

”تو آپ بھی بہاری ہیں۔“ میں نے بھی لہک کر کہا تھا۔

”تو کا بری بات ہے اس میں، بہاری ہیں تو کا ہوا۔ کیا نوکری نا ملے گی بہاری کو ؟ ارے سارا امتحان ومتحان پاس کر کے بیٹھے ہیں ایسے ہی گالوے میں نہیں گھوم رہے ہیں۔“ اس نے بھی فوراً ہی جواب دیا تھا۔ پھر ہم لوگ دوست بن گئے تھے اور یہ دوستی آج تک قائم ہے۔

وہ گالوے کے مرلن پارک ہسپتال میں سینیئر ہاؤس افسر کی نوکری کے لئے انٹرویو دینے آیا تھا۔ میں بھی مرلن پارک میں ہی کام کر رہا تھا۔ اس نے ایف آر سی ایس کے پارٹ ون کا امتحان پاس کر لیا تھا اور ایک مضمون میں تو اتنے اچھے نمبر تھے کہ اسے گولڈ میڈل بھی ملا تھا۔ وہ بڑا محنتی تھا۔ تھوڑے دنوں میں ہی اس نے اپنے لئے ہسپتال میں مقام بنالیا تھا۔

میں اس زمانے میں غلام مصطفی کے ساتھ رہ رہا تھا۔ مصطفی بھی پاکستانی تھا اور حیدرآباد کے لیاقت میڈیکل کالج سے اس نے ڈاکٹری کی ڈگری لی تھی۔ وہ مجھے آئرلینڈ میں ہی ملا تھا۔ وہ مجھ سے پہلے سے مرلن پارک ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔ سندھ کے بڑے زمیندار گھرانے کا فرد تھا۔ دولت کی فراوانی تھی اور یہاں بھی جو ملتا تھا وہ لٹا دیتا تھا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی اسے اسکالر شپ مل رہی تھی۔ ہم تینوں ہی ایف آر سی ایس پارٹ ٹو کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔

غلام مصطفی کی تو جاب پاکستان میں بھی چل رہی تھی اور جو کچھ کام وہ یہاں کر رہا تھا وہ بھی اس کے تجربے میں شامل ہو رہا تھا۔ جب بھی اس نے پارٹ ٹو کا امتحان پاس کر لیا اسی دن سے اس کو پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر کی نوکری مل جانی تھی۔ میری نوکری پاکستان میں نہیں تھی۔ ڈاکٹر بننے کے بعد جب میں نے ہاؤس جاب مکمل کر لیا تو سندھ پبلک سروس کمیشن نے مجھے مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت نوکری شہری کوٹے میں دستیاب نہیں تھی۔

میرا کراچی کا ڈومیسائل تھا۔ نوکری نہ ملنے پر میں نے کراچی میں ہی کالج آف فزیشن اینڈ سرجن سے ایف سی پی ایس پارٹ ون کا امتحان پاس کیا تھا پھر کوشش کی تھی کہ سول ہسپتال یا جناح ہسپتال میں آنریری جاب مل گئی تھی جس کا مطلب ہوتا ہے کام بہت زیادہ اور پیسے کچھ نہیں۔ اس کے شروع ہونے کے ساتھ ہی میں نے آئرلینڈ میں ڈاکٹری کے لائسنس کے لئے درخواست بھیجی تھی جس کے ملنے کے بعد میں نے مرلن پارک ہسپتال میں کام شروع کیا تھا۔

غلام مصطفی نے بھی میٹرک اور انٹر تو کراچی میں ہی رہ کر پڑھا تھا مگر اس کا ڈومیسائل جیکب آباد کا تھا جس کی بنیاد پر ہی اس کو رورل ایریا کی سیٹ پر لیاقت میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تھا۔ اس کے خاندان کی بڑی پہنچ تھی۔ اس کے ایک چچا پیر پگاڑا کی مسلم لیگ اور ایک ماموں پیپلز پارٹی کے مشہور لیڈروں میں تھے۔ ایم بی بی ایس کے فوراً بعد اس نے سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر لیا تھا۔ یہ امتحان بھی اس نے اپنے ڈومیسائل کی بنیاد پر جیکب آباد کی سیٹ پر پاس کیا تھا۔

نوکری اس کو سول ہسپتال کراچی میں ملی تھی۔ یہ کہنا ذرا غلط ہو گا، اس کو ملی نہیں تھی بلکہ اس نے اپنی مرضی سے کراچی میں لی تھی۔ ایک دن اس نے بڑے غرور سے بتایا تھا کہ بابا ”نوکری جہاں بولوں گا، ملے گی، حکومت کسی کی بھی ہو حکومت ہماری ہی ہوگی۔“ سول ہسپتال میں کام کے دوران ہی اس نے ایک وظیفے کا بندوبست کیا تھا۔ اس کو آئرلینڈ میں 13 سو پونڈ مہینے کے ملتے تھے۔ ایکس پاکستان چھٹی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سول ہسپتال میں وہ رجسٹرار تھا اور سندھ سیکریٹریٹ کی فائلوں میں مرلن پارک کے سینئر ہاؤس افسر کی جاب سینئر رجسٹرار میں شمار کی جا رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا جب بھی وہ پاکستان جائے گا اس کا سارا تجربہ مانا جائے گا اور بہت جلد وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بن جائے گا

مرلن پارک ہسپتال اوسط درجے کا ہسپتال تھا جہاں آئرش ڈاکٹر نوکری کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور جب کرتے تھے تو مجبوری میں کرتے تھے۔ آئرش ڈاکٹروں کے نوکری نہ کرنے کی وجہ سے پاکستانی، ہندوستانی اور سیلونی ڈاکٹروں کو وہاں نوکری مل جاتی تھی۔ غلام مصطفی، مجھے اور راجندر کو یہاں اسی لئے نوکری مل گئی تھی۔ سب کا یہی پروگرام ہوتا تھا کہ کچھ مہینے یا سال کام کر کے ڈبلن کے کسی اچھے ٹیچنگ ہسپتال میں نوکری لے لی جائے۔ زندگی اسی طرح سے چل رہی تھی اور شاید چلتی رہے گی۔

ہم تینوں کی دوستی خوب پھلی پھولی۔ راجندر برہمن تھا اور گائے سمیت ہر قسم کے گوشت اور ہر قسم کی شراب پی جاتا تھا۔ میں اور غلام مصطفی سور کے علاوہ ہر طرح سے ذبح کیا ہوا گوشت کھاتے تھے اور شراب پی جاتے تھے۔ ڈسکو اور پارٹیوں میں ہم تینوں خوب اودھم مچاتے تھے۔ مصطفی اور راجندر تو ایسا ڈانس کرتے تھے کہ لوگ دیکھا کرتے تھے۔

گالوے شہر میں پانچ چھ ڈسکو تھے اور شراب خانوں کی تعداد ہزار نہیں تو سینکڑوں میں ضرور ہوگی۔ آئرش لوگ شراب پینے کے بہانے تلاش کرتے تھے۔ آج بہت خوش ہیں پینا چاہیے، آج پیٹر کو بچہ ہوا ہے پینا چاہیے، آج جان کی ماں مر گئی ہے پینا چاہیے۔ آئرش لوگوں کی یہ اچھی عادت ہم لوگوں نے بھی اپنا لی تھی۔ اکثر پارٹیوں میں ہم تینوں پینے کے معاملے میں آئرش لوگوں کو مات کر دیا کرتے تھے۔

بہار میں شکیلہ مگدھ مہیلا کالج میں پڑھتی تھی جہاں اس کی ملاقات راجندر سے ہو گئی تھی۔ راجندر ڈاکٹر بننے جا رہے تھے، پہلے ہی ملاقات میں دونوں ایک دوسرے پر ایسے فدا ہوئے تھے کہ لگتا تھا شہر میں ہندو مسلم فساد ہو کر رہے گا۔ مگراس کا موقع نہیں آیا۔ راجندر بزدل نکلا تھا۔ ”ارے وہ تو میرے ساتھ بھاگ جانے کو تیار تھی“ ایک دن گاڑی میں ہم لوگ گالوے سے لمرک جا رہے تھے تو اس نے بتایا تھا ”یار وہ تھی بھی بڑی شیرنی۔ تم تو پٹنہ نہیں گئے ہونا ”اس نے اپنے خاص بہاری لہجے میں مجھے بتایا تھا۔“ گاندھی میدان کے سامنے مگدھ مہیلا کالج ہے وہیں اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ پھر ہم لوگ ادھر ادھر ملتے تھے اور نہ جانے کیا بات تھی اس میں کہ میں پاگل ہو گیا تھا، مگر یار میں سب کچھ کر سکتا تھا مگر باپو سے آنکھیں نہیں ملا سکتا تھا اور وہ تو سب کچھ چھوڑنے کو تیار تھی۔ ماں، باپ، خاندان، پٹنہ، بہار۔ دھرم کے معاملے میں میں اتنا کہوں گا کہ وہ دھرم چھوڑنے کو تیار نہیں تھی اور نہ میں چاہتا تھا کہ وہ دھرم چھوڑے کیوں کہ میں خود کتنا برہمن تھا ”یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسا تھا۔

گاڑی میں پاکستان سے میرے چھوٹے بھائی کا بھیجا ہوا کیسٹ بج رہا تھا۔ یکایک لتا کی آواز میں گانا بجنے لگا ”لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو، شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو“ یہ گانا مجھے بہت پسند تھا میں نے دیکھا کہ راجندر کی آواز یکایک رک گئی ہے۔ اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں اور سیٹ کے سرہانے سے سر ٹکا دیا تھا۔ میں نے کن انکھیوں سے دیکھا کہ اس کے دونوں آنکھوں سے موٹے موٹے قطرے بے قرار ہو کر چھلک رہے ہیں۔

اس نے بھی کن انکھیوں سے مجھے دیکھا تھا اور بڑی روہانسی آواز میں کہا تھا ”یار معاف کرنا یہ گانا ہمیشہ رلا دیتا ہے۔ نہ جانے کہاں ہوگی کیسی ہوگی وہ۔ بھگوان کرے بھول گئی ہو مجھے۔“ یہ دوسرا راجندر تھا۔ ہم لوگ اور قریب آ گئے تھے۔ لمرک کے راستے پر سمندر کے کنارے ایک اونچی پہاڑی چوٹی ہے، کلف مہر نام ہے اس کا ۔ اس دن وہاں ہوا کے سامنے کھڑے کھڑے میں نے بھی اپنے لٹنے کی کہانی اسے سنائی تھی اور اس نے بھی شکیلہ کو میرے سامنے لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا ”یار مجھے پتہ ہے تم بھی بہاری ہو، تمرے ماں باپ کیسے مانیں گے کہ تم آئرش لڑکی سے شادی کرلو۔ مت کریو۔ بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گے ببوا۔“ پھر وہ زور سے ہنسا تھا۔

راجندر اس دن بہت دکھی تھا۔ بہت دیر تک شکیلہ کی باتیں کرتا رہا پھر پٹنہ کی باتیں کرتا رہا۔ پٹنہ میڈیکل کالج کے قصے، پاٹلی پتر میڈیکل کالج کے لڑکوں سے فساد کا واقعہ۔ گنگا میں نیا چلانا اور حادثے سے بچ جانے کی داستان۔ اسکوٹر پر پٹنہ سے باہر پھلواری شریف جانا اور جاکر مستان کے اڈے پر تاڑی پینا۔ سلطان پور، افضل پور، لنگر ٹولی اور برلا مندر کے چائے خانے کی بالائی والی چائے۔ بوڑا ہے کی دکان اور اس کا پان، مسلمانوں کے گھرکا بہاری کباب، اس دن اس نے مجھے آئرلینڈ میں بٹھا کر پٹنہ گھما دیا تھا۔ اس نے بھی تقریباً وہی کچھ کیا تھا جو ہم لوگ کراچی میں کرتے تھے، وہی باتیں، وہی قصے، وہی کہانیاں، وہی محرومیاں، وہی آشائیں، وہی داستان۔

آہستہ آہستہ نامحسوس طریقے سے ہم دونوں ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے چلے گئے تھے۔ مرتضیٰ بھی ہمارے ساتھ ہوتا تھا مگر ہماری کمپنی سے اکتا سا جاتا تھا۔ کبھی کبھی وہ ہمارے لہجے کی نقل اتارنے کی کوشش کرتا تھا مگر کر نہیں سکتا تھا اور ہم سب خوب ہنستے تھے، دل کھول کر اور بوتل انڈیل کر ۔

ایک دن وہ بہت خوش تھا اور خوشی میں ہم لوگوں کو گالوے کے مشہور شراب خانے لائنز ٹاور میں لے گیا تھا۔ ہم سب بیٹھے ہوئے دارو پی رہے تھے اور معمول کے مطابق دنیا جہان کی باتیں کر رہے تھے، ہنس رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے۔ اس نے بتایا تھا خوشی کی دو باتیں ہیں، ایک تو اس کا بھائی کرنل سے ترقی پاکر بریگیڈیئر ہو گیا تھا، دوسرا اس کی بہن کے بیٹے کا داخلہ پٹنہ میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا۔ اس دن وہ اپنے بھائی کے قصے سناتا رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments