علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی انتظامیہ کے نام کھلا خط
میں حال ہی میں محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے سیکنڈری سکول ٹیچر بھرتی ہوا ہوں۔ امتحانی نتائج کا اعلان جب دسمبر 2020 میں ہوا تو اس کے بعد دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ایم ایڈ میں داخلہ لے لوں۔ تو واحد ذریعہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہی قرار پایا جہاں میں یکسوئی کے ساتھ نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھ پاتا تھا بلکہ اس کے ساتھ بطور استاد سکول کی ذمہ داریاں نبھا سکتا تھا۔
میرا داخلہ ایم ایڈ شعبہ سیکنڈری ٹیچر ایجوکیشن یک سالہ میں ہوا۔ پہلے سیمسٹر کے اسائنمنٹ کا سلسلہ خوش اسلوبی سے انجام پایا۔ سیمسٹر کا پہلا ورکشاپ جس کی ٹائمنگ شام سات بجے رکھی گئی تھی ورکشاپ کو سرانجام دینے میں قطعاً کوئی دشواری درپیش نہیں آئی۔ پریشانی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی نے دوسرے ورکشاپ کا دورانیہ صبح نو سے گیارہ بجے رکھا جسے مسلسل چھ دن انجام پانا تھا۔
ایک طرف ورکشاپ تو دوسری جانب کلاسز دورانیہ، میں دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ایک طرف فرض تو دوسری جانب حصول علم۔ نہ میں صحیح طور پر ورکشاپ اٹینڈ کر سکا اور نہ ہی طلبہ کو وہ تعلیم دے سکا جس کے حصول کے لیے وہ سکول آئے تھے۔ یہ ایک ہیجانی سی کیفیت تھی۔ اب اس کا مداوا بھی ممکن نہیں تھا۔
جیسے تیسے کر کے دوسرا ورکشاپ پایہ تکمیل کو پہنچا۔
کل ہی ایک دوست کی طرف سے اطلاع آئی کہ یونیورسٹی نے پہلے سیمسٹر کے امتحانات کا شیڈول جاری کیا ہے۔ سلپ یونیورسٹی کی ویب سائیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا تو اس میں موجود امتحانی پرچوں کی تاریخ دیکھ کر میں شش و پنج میں مبتلا ہوا کہ جن تاریخوں میں امتحانی دن رکھے گئے ہیں ان کی ترتیب کچھ یوں ہے پہلا پرچہ 2 دسمبر، دوسرا 14 دسمبر، تیسرا 16 دسمبر، چوتھا 24 دسمبر، پانچواں 27 دسمبر اور آخری پرچہ 29 دسمبر کو طے پایا ہے۔
جناب
آواران بھر میں کوئی امتحانی سینٹر ہوتا تو بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔ ضلع بھر میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ایک بھی امتحانی سینٹر موجود نہیں امتحان دینے کے لیے مجھے حب چوکی جانا پڑے گا۔ حب چوکی تک پہنچنے میں ایک یا دو گھنٹے درکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے پورا دن صرف ہوتا ہے۔ ایک دن آنے میں، ایک دن جانے میں اور ایک دن پیپر دینے میں۔ پرچوں کی ترتیب کو اگر مدنظر رکھا جائے تو پورا مہینہ امتحانی پرچوں کو دینے میں خرچ ہو گا۔ اور رہی بات ذمہ داری اور فرائض کی وہ میرے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
امتحانی پرچوں کے آغاز میں ابھی کافی وقت باقی ہے یونیورسٹی انتظامیہ کو شیڈول میں رد و بدل کرنے کے لیے یقیناً کسی مشکل کا سامنا نہیں ہو گا۔ اور یقیناً میں اکیلا اس مسئلے کا شکار نہیں میرے علاوہ اور ہزاروں امیدوار ہوں گے جو اس صورتحال کا سامنے کر رہے ہیں جنہیں کمپنسیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ امتحانات کے ساتھ ساتھ سکول کی تعلیمی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ تمام پیپرز کو روزانہ کی بنیاد پر لے کر اس مسئلے کا سادہ حل نکال سکتی ہے۔
امید ہے اساتذہ کی مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے شیڈول میں رد و بدل کریں گے۔
والسلام
شبیر احمد
طالبعلم ایم ایڈ
شعبہ سیکنڈری ٹیچر ایجوکیشن


