ان کا بھی شکریہ


بلا شبہ پیر نصیر الدین نصیر اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ ایک بھرپور شخصیت۔ ان کا علمی مقام ہو ’ان کا شاعرانہ ذوق ہو‘ ان کا انداز خطابت ہو ’ان کا موسیقی اور ردھم پہ تبصرہ ہو‘ ان کا لحن داودی میں تلاوت کلام الہی ہو ’ان کا صوفیانہ دبدبہ ہو یا ان کا فقیرانہ ڈھنگ ہو‘ وہ اپنے ہر رنگ میں دل پسند ’دل عزیز‘ دل بہار اور دل نگیں تھے۔ اپنے لطیف انداز گفتگو اور سادہ سے روز مرہ کے لفظوں میں رمز کی بات کمال مہارت سے بیان کر جاتے تھے۔

ایک محفل میں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کریم کے درمیان ہونے والا مکالمہ بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک روز اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا اللہ تو نے مجھے بہت کچھ بن مانگے عطا کیا ہے ’کئی معجزے عطا کیے ہیں لیکن ایک فرمائش ہے اگر پوری کردو۔ تو بھلا اللہ سے بڑا سخی کون ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ موسیٰ مانگو‘ آپ تو میرے اولوالعزم پیغمبر ہو ’آپ کی پوری نہیں کروں گا تو کس کی کروں گا۔ یہاں پیر صاحب اپنے مخصوص انداز میں فرمانے لگے کہ اول تو نبی کچھ مانگتے نہیں لیکن جب فرمائش کر بیٹھتے ہیں تو پھر عجیب چیز ہی مانگتے ہیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یا اللہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں محفل سے اٹھ کے جاؤں تو لوگ میرے پیچھے میری برائی نہ کیا کریں ’میرے بعد میرے متعلق غلط بیانی نہ کریں۔ تو اللہ کریم نے فرمایا کہ موسیٰ اے تے ما نہیں چھوڑ دے‘ تد کیویں بخش سن (موسیٰ یہ تو مجھے نہیں چھوڑتے ’تمہیں کیسے بخش دیں ) ۔

یہ بات سنی تو دل میں گرہ سی بندھ گئی ’اب کون اس گتھی کو سلجھائے‘ پھر ایک دن موقع ملا اور ایک محفل میں اس کا جواب مل گیا۔ وہاں بھی ایسے ہی کسی موضوع پہ بات ہو رہی تھی کہ اپنا مدعا سامنے رکھنے کی اجازت مل گئی تو کیا خوب سرا ملا۔ سمجھانے والوں نے بتایا کہ مولا علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ اگر ہر کوئی کسی ایک شخص سے راضی ہو ’اور وہ سب کی نظروں میں اچھا ہو تو جان لو وہ شخص منافق ہے۔ یعنی وہ حق بات کہنے کی بجائے اگلے بندے کے مطابق کی بات کرتا ہے‘ ہر کسی کی خوشنودی کی خاطر اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے ’حق کہنے سے باز رہتا ہے اور سچ کے لبادے کو تراش خراش کر کے ایسا لباس بنا دے جو سب کو موزوں آ جائے تو یقیناً ایسا شخص منافق ہی کہلائے گا۔

دس بندے اگر حمایت میں بولیں اور چند ایک آوازیں مخالفت میں بھی اٹھنی ضروری ہیں تا کہ اپنی تسلی رہے کہ درست سمت میں جا رہے ہیں۔ مخالفت کی آوازوں اور الزام تراشیوں کے ڈر سے حق گوئی اور خدمت کا جذبہ ماند نہیں پڑنا چاہیے۔

بابا جی اشفاق صاحب نے بھی ایسی ہی بات کی کہ الزام تراشی کرنے والے زیادہ توجہ اور پیار کے مستحق ہیں کہ ان بے چاروں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ وہ صرف سطحی سی چیزیں دیکھ کر بات بنا لیتے ہیں۔ اور اس بات کا چرچا کرنے کے لئے من گھڑت دلائل اور تاویلیں نکالتے رہتے ہیں۔ چونکہ بات میں تاب تو ہوتی نہیں اس لئے کچھ وقت کے بعد ایسی باتیں اپنی موت آپ ہی مر جاتی ہیں۔ اور یہ الزام تراش لوگ شاید اس لئے بھی زیادہ عزیز ہونے چاہئیں کہ یہ آپ کی شخصیت کو مکمل کرنے والے اور آپ کی ذات کو منافقت سے مبرا قرار دینے میں اہم کردار ادا کرنے والے ہیں۔ ان کو برا بھلا کہنے کی بجائے ہمیں ان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

اسی لئے دانائے راز بتاتے ہیں کہ اگر کوئی کام اللہ کی رضا کے لئے کرو تو اس کا ذکر اس کی مخلوق کے سامنے نہ کرو اور اگر کوئی کام مخلوق کی رضا کے لئے کرو تو اس کا صلہ اللہ سے نہ چاہو۔

Facebook Comments HS