یہ وقت شراب کا پیالہ توڑ کر توبہ کرنے کا ہے!


مشہور روایت ہے کہ مغل سلطنت کے بانی بابر نے لودھیوں کے خلاف آخری جنگ لڑنے سے پہلے اپنا شراب کا پیالہ توڑا اور مہ نوشی سے تو بہ کر لی، جس کے نتیجے میں اسے جنگ میں جیتنا نصیب ہوا۔ بادشاہوں کی تاریخ کبھی بھی قابل بھروسا نہیں ہوتی کیونکہ وہ مخصوص نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کے لیے لکھی اور پروان چڑھائی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں تو غیر جانبدار تاریخ لکھنے کا رواج کم ہی رہا ہے۔ آج کل پاکستان کے مخصوص حالات اور عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے حوالے سے شراب کا پیالہ توڑنے والی حکایت میں ہم سب کے لیے ایک سبق پنہاں ہے۔ وہ یہ کہ ہماری اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے پاس اب بھی کچھ وقت باقی بچا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی توبہ کر کے ملکی نظام اور ریاست کے ڈھانچے کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔

پاکستان اس وقت چاروں طرف سے مشکلات میں گھر چکا ہے اور ریاست کا وجود بچانے کے لیے ہمارے پاس آپشن محدود ہوتے جار ہے ہیں۔ عوام کے غیض و غصب سے بچنے کے لیے ایک آپشن یہ ہے کہ کچھ چہرے وقتی طور پر بدل دیے جائیں لیکن پچھلی کئی عشروں سے ہم یہ فارمولا آزماتے چلے آ رہے ہیں، اب شاید اس دوا میں بھی کوئی تاثیر باقی نہیں بچی۔ عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اکثر ریاستیں بیرونی محاذ پر کوئی کارروائی شروع کر دیتی ہیں مگر پاکستان کی ریاست موجودہ صورتحال میں ایسی کسی مہم جوئی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تیسرا حل نظام حکومت کو بدلنے کا رہ جاتا ہے۔ نظام حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر ہی بدلا جا سکتا ہے جو اس وقت ممکن نہیں۔ ہماری قوم اتنی تقسیم ہو چکی ہے کہ آئین اور نظام حکومت میں فی الفور کوئی بھی تبدیلی مشکل نظر آ رہی ہے۔

پاکستان میں جس تیزی سے مہنگائی، عدم مساوات اور بے انصافی بڑھ رہی ہے اس کی چند مثالیں ہی حالات کی نوعیت سمجھنے کے لیے کا فی ہیں جیسے حال ہی میں ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا کھلواڑ، سندھ میں ناظم جوکھیو کا بہیمانہ قتل، جی ٹی روڈ کی شر پسندوں کے ہاتھوں بندش، پولیس والوں کی ان کے سامنے بے چارگی اور اشرافیہ کے عیش کدوں کی تصاویر وغیرہ جنہیں دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہم ایک ناکام ریاست بننے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کو بیرونی محاذوں پر جو خطرات لاحق ہیں وہ سب کو معلوم ہے لیکن اندورنی طور پر بد قسمتی سے پاکستان کسی خونی انقلاب کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کے خدو خال کا واضح ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستان میں انقلاب کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں، اس میں فوجی بغاوت کا خطرہ ہمیشہ سے موجود رہتا ہے لیکن مشرف کے مارشل لاء کے بعد ہماری پاک فوج بہت احتیاط سے کام لے رہی ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ دوسری طرف مذہبی گروہوں کا بڑھتا ہوا زور اور دھونس بھی کسی بڑے اندرونی خطرے کی علامت ہے۔ اب حالات یہ ہیں ایسے شدت پسند گروہوں کو قابو میں لانے کے لیے واحد حل بچا ہے کہ انہیں مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ لال مسجد سانحہ سے جو سبق سیکھا گیا ہے، اس کے بعد اب کسی متشدد مذہبی گروہ پر ہاتھ ڈالنا بھی ایک تکلیف دہ عمل ہو گا اور حال ہی میں جی ٹی روڈ پر قابضین سے صلح میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنا جو کردار کیا وہ ایک احسن اقدام تھا اور اس کے پیچھے سرخ مسجد کی خونی کہانی بھی شامل ہے۔

پاکستان میں بے لگام، بے حس اور لالچی اشرافیہ کو روکنے کے لیے سوشل ازم طرز پر کوئی انقلاب بھی آ سکتا ہے لیکن یہ سر زمین کسی ایسے انقلابی پودے کے لیے بنی ہی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان میں سچے انقلابی لیڈر پائے جاتے ہیں جن کا اپنا طرز عمل اور مقصد بڑا واضح ہو۔ آخر میں پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ سب سے پہلے ہر کوئی اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ یہاں اخلاقی گناہوں کی بات نہیں ہو رہی، وہ خدا اور بندے کا معاملہ ہے۔ یہاں ذکر ان گناہوں کا ہے جو عوام کے حق پر ڈاکا ڈال کر سر زد کیے گئے ہیں، چاہے وہ عوام کے آئینی حقوق غصب کرنے کا معاملہ ہو یا پھر عوامی دولت کی لوٹ مار کی بات ہو۔

وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ اور مقتدر حلقے آپس میں بیٹھ کر طے کر لیں کہ انہوں ملک کیسے بچانا ہے اور عوام کے غصب کردہ حقوق کو کیسے بحال کرنا ہے۔ اس کی شروعات صاف اور شفاف الیکشن سے کی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد تمام سیاسی اور غیر سیاسی قیادت بیرون ملک جمع کردہ اپنی تمام دولت واپس پاکستان لائے۔ دہری شہریت والا تو معاملہ ختم ہی کر دینا چاہے۔ بس پاکستان سے وفاداری کی شرط اولین قرار پائے۔ کوئی باہر جانا چا ہتا ہے تو جائے بس پاکستان میں کمائی ہوئی اپنی دولت کا حساب دے کر جہاں چاہے جا کر رہے۔

عدلیہ کی از سر نو تشکیل کر کے اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا عمل شفاف ہو اور ان کی تعیناتی عوامی نمائندگی کے ذریعے ممکن بنائی جائے۔ انتظامیہ کے احتساب اور نگرانی کے لیے میڈیا کو آزاد رکھا جائے لیکن میڈیا کو بے قابو اور جوابدہ بنانے کے لیے بھی کوئی نظام بنایا جائے۔ سوشل سیکورٹی کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے، بے روزگاری الاؤنسز اور تعلیم و صحت جیسی سہولتوں پر تو جہ دی جانی چاہیے۔ بیوروکریسی اور پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا موثر نظام متعارف کروایا جائے۔

ریاست کا وجود بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اپنے پچھلے گناہوں کا کفارہ عوام کا دل جیت کر ادا کریں ورنہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لوگ انگریز کی حکومت کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں۔ جس کا مطلب کہ ہے ان کے لیے آزاد ریاست اور آزادی کا تصور بے معانی ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کو ہر بار نئی گولی دے کر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر اشرافیہ اور اس کے تحفظ پر مامور محافظوں نے اپنی روش نہیں بدلی تو عوام اس حد تک تنگ آ چکے ہیں کہ اب وہ نظام بدلنے کے لیے لوہے کی گولی کھانے کو بھی تیار نظر آتے ہیں چاہے وہ دشمن کی گولی ہو یا اپنوں کی۔ انہیں جینے سے مرنا عزیز تر نظر آنے لگا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کو عزت سے جینے کا آپشن دیا جائے ورنہ سب کچھ جل کر بھسم ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS