پنجاب تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (3)
ہمارا یہ دن بہت بھرپور بھی تھا اور یادگار بھی۔ ہمیں گھر سے رخصت ہوئے تیسرا دن تھا لیکن انھی دو دنوں میں ہم نے بہت مصروف وقت گزار لیا۔ صبح کھیتوں کی سیر، دوپہر کو چھانگا مانگا کی سیر اور اب شام کو مشاعرہ۔ یہ مشاعرہ پتوکی پریس کلب رجسٹرڈ نے کراچی کے مہمان شعرا کے اعزاز میں منعقد کیا تھا۔ چھانگا مانگا سے واپسی پر ہم سب پھر تیار ہونے لگے اور ہم پتوکی پریس کلب روانہ ہوئے۔ پتوکی پریس کلب کے عہدے داروں نے جس شان دار انداز میں ہمارا استقبال کیا وہ ہم بھول نہیں سکتے۔
پریس کلب پہلی منزل پر ہے۔ ہمارے میزبانوں نے نیچے سیڑھیوں سے اوپر دفتر کے دروازے تک، سرخ قالین بچھایا ہوا تھا۔ استقبال صرف یہ ہی نہیں تھا بلکہ دو رویہ کھڑے ہوئے لوگوں نے جو ہاتھوں میں گلاب کی پتیوں سے بھری تھالیاں تھامے ہوئے تھے تمام مہمانوں پر گلاب کی پتیاں برسائیں اور اس وقت تک برساتے رہے جب تک ہم میں سے آخری فرد تک آفس کے اندر نہ چلا گیا۔ ہمارے گروپ کی ایک اور بہت اچھی شاعرہ سحر علی جو کراچی سے ہمارے ساتھ شریک سفر نہ تھیں۔
اس شام وہ بھی ہمارے ساتھ آ شامل ہوئیں۔ پتوکی پریس کلب میں ہمارے استقبال کے لیے نہ صرف پریس کلب کے عہدے داران پتوکی پریس کلب کے در جناب عبیداللہ شیخ، چیئرمین جناب سردار ظہیر حد ڈوگر، سرپرست اعلیٰ شیخ افتخار، سرپرست چودھری آصف شوکت، میڈیا ایڈوائزر پتوکی پریس کلب جناب فیضل حسنین موجود تھے بلکہ شہر کے معززین اور نمایاں شخصیات بھی کراچی سے آئے ہوئے ادبی وفد کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ بار ایسوسی ایشن کے ارکان کے علاوہ جو ایک سب سے اہم نام تھا وہ تھے جناب عمر سرور اسسٹنٹ کمشنر پتوکی۔
ان کی بہت عنایت کہ اپنے مصروف وقت میں سے چند لمحے مستعار لے کر انھوں نے ہمارے نام کیے۔ ہمارے پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد مشاعرے کا آغاز کر دیا گیا۔ باقاعدہ مشاعرہ شروع ہونے سے قبل پریس کلب کے سرپرست جناب افتخار احمد نے کراچی سے آنے والے مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور پتوکی پریس کلب کے بارے میں مختصراً بتایا۔ اس کلب کی کارکردگی اور انتظامیہ کے اراکین کا تعارف کرایا۔ جواباً صائمہ نفیس نے بھی محترم میزبانوں کو اجرک کا تحفہ دیا اور بتایا چوں کہ ہم صوبہ سندھ کے شہری ہیں اور سندھ کی روایت ہے کی کسی کی عزت و تکریم کرنے کی انتہا یہ ہے کہ اسے اجرک اوڑھائی جائے لہٰذا ہم سب کی طرف سے آپ کی میزبانی کی قدر کرتے ہوئے یہ تحفہ ذی وقار نذر میزبانان ہے۔
مہمان شعرا اور صدر مجلس محترم عمر سرور صاحب کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ گویا کہ پھول نگر کے باسیوں نے مہمانوں کو گلدستے پیش کر کے ان مہکتے ہوئے دلکش پھولوں کی زبانی اپنے پرخلوص جذبات کا اظہار کیا۔ جلد ہی مشاعرے کا آغاز ہو گیا۔ ابتدا پتوکی کے شعرا محترم شوکت نوشاہی اور عقیل عباس نے اپنا کلام سنایا۔
”آ بیہہ تیرے دکھڑے پھرولنے
میرے نال تے جو ہوئی سو ہوئ
۔ (شوکت نوشاہی)
”رکتا ہوں تو رفتار بڑھا دیتا ہے اپنی
میں دوڑنے لگتا ہوں تو چلتا ہی نہیں ”
(عقیل عباس)
پتوکی کے ان شعرا کو سننے کے بعد مشاعرے کے ابتدائی حصے کے منتظم محترم افتخار احمد نے مائیک ہماری گروپ لیڈر صائمہ نفیس کے حوالے کیا اور یوں کراچی کے شعرا کے تعارف اور انھیں دعوت کلام دینے کی ذمہ داری صائمہ نفیس کے سپرد ہوئی۔ صائمہ نے پہلے تو اپنے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہم سب کو پتوکی مشاعرے کے لیے مدعو کیا۔ عمر سرور صاحب اپنی مصروفیات کے سبب جلد ہی اجازت لے کر رخصت ہو گئے۔ عمر سرور صاحب نے شاعری کے اسیر ہونے کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے اس دور کا اپنا ایک شعر سنایا۔
”ؒ کاٹے نہیں کٹتے ہیں تنہائی کے لمحات
گھڑیوں میں یہی ایک تو مشکل کی گھڑی ہے ”
(عمر سرور)
پھر کراچی کے شعرا کو دعوت کلام دی گئی۔ ان کے اشعار دیکھیے۔
”مجبور اس قدر ہیں کہ لب کھولتے نہیں
رکھتے ہیں ہم زبان مگر بولتے نہیں
(عشرت حبیب)
” یہ شعر گوئی ہے یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں
اور اس میں آدمی سارے کا سارا لگتا ہے ”
(شبیر نازش)
” بیچ راہ میں چھوڑ کر کیا در بہ در میرے بے خبر
تیری واپسی کے ہیں منتظر تجھے کیا خبر میرے بے خبر ”
(یاسمین یاس)
” سفر یہ کرتے ہیں ایک دل سے دوسرے دل تک
دکھوں کے پاوٴں میں زنجیر تھوڑی ہوتی ہے
(حمیرا راحت)
”بے سبب مجھ پہ یہ تہمت بھی تو ہو سکتی ہے
مسکرانا میری عادت بھی تو ہو سکتی
(آئرین فرحت)
بننا تو چاہتی تھی محبت کسی کی میں
یہ اور بات بن گئی قسمت کسی کی میں
(سحر علی)
حوصلہ حوصلہ علی کوثر
کون سا وقت کٹ نہیں سکتا ”
(علی کوثر)
مشاعرے کے اختتام پہ میزبانوں نے عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ بلاشبہ کھانا بے حد لذیذ تھا۔ جتنا سالن لذیذ تھا میٹھا بھی اسی قدر مزے دار تھا۔ مختلف فلیورز کی کولڈ ڈرنکس نے کھانے کے ہضم کرنے میں خوب حصہ لیا۔ اس سفر کے دوران جس جگہ کا کھانا مجھے سب سے زیادہ پسند آیا وہ پتوکی تھا۔ پریس کلب کا کھانا تو لذت میں بہترین تھا ہی لیکن ہمارے میزبان اعظم بھٹی صاحب کے گھر کا کھانا بھی مزے دار تھا۔ عشائیے سے فراغت پا کے واپسی ہوئی۔
میزبانوں نے واپسی پہ بھی ہمیں ریڈ کارپٹ پروٹوکول دیا اور آفس کے دروازے سے سیڑھیوں کے اختتام تک ہم سب پہ گلاب کی پتیاں برسا کے ہمیں رخصت کیا۔ ان کا پرخلوص انداز میزبانی اور ان کی بے لوث محبتیں ہم لوگ کبھی فراموش نہ کرسکیں گے۔ آدھی رات کو ہماری اپنی جائے قیام کو واپسی ہوئی۔ اگلے دن ہمیں پتوکی سے رخصت ہونا تھا۔
(جاری)




