اسلامی بنیاد پرست تنظیم ”بوکو حرام” میں آدم خوری کی روایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں لائبیریا کی خانہ جنگی سے متعلق ایک دستاویزی فلم دیکھ رہا تھا۔ اس فلم کے مشاہدے کے دوران کئی بار وقفہ لینا پڑتا تھا کیونکہ فلم کے بعض مناظر میں وحشت و بربریت اس انتہا پر تھی کہ اسے دیکھ کر متلی ہونے لگتی تھی۔ آپ ذرا تصور کیجئے کہ دشمن کے سینے کو چیر کر اس کا دل نکال کر کچا چبایا جا رہا ہے۔ جنرل بٹ نیکڈ جو ننگا ہو کر لڑنے کی شہرت رکھتا تھا وہ دشمن کے اغوا کردہ بچوں کا خون پینے کا اقرار کر رہا ہے تاکہ اس مشروب سے طاقت اور برکات حاصل کی جاسکیں۔ براعظم افریقہ کے کئی ممالک میں آدم خوری کی روایات قدیم ہیں۔ بہت سے افریقی قبائل سے یہ روایات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ میڈیا ہاؤس الجزیرہ نے دو نائجیرین مغوی خواتین کا انٹرویو شائع کیا تھا جس میں ان خواتین نے انہیں بازیاب کروانے والے چاڈین سپاہیوں کو بتایا کہ بوکو حرام کا ممبر بننے کے حلف کی تقریب میں انہیں انسانی خون میں تر کھجوریں اور خاص چائے پیش کی گئی تھی۔ ان کھجوروں میں انسانی گوشت بھرا ہوا تھا۔ بوکو حرام کے کیمپ سے آزاد ہونے والی خاتون نے بتایا کہ جب وہ بوکو حرام تنظیم کا ممبر بنی تو اس سے پوچھا گیا کہ ”کیا تم اللہ پر یقین رکھتی ہو؟

“ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا تم پیغمبر پر یقین رکھتی ہو اور تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا تم قرآن پر یقین رکھتی ہو؟ اس نے ان تینوں سوالات کا جواب اثبات میں دیا تو پھر اس کو کچھ کھجوریں ایک خاص چائے کے ساتھ پیش کی گئیں، چائے کی پیالی میں کچھ پتے اور جڑی بوٹیاں تیر رہی تھیں۔ کھجوریں کھا کر اور چائے پی کر اسے گہری نیند آ گئی۔ کچھ گھنٹے بعد وہ جاگی تو تو اسے لگا کہ وہ بہت بدل چکی ہے۔

چاڈین انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں نے الجزیرہ کے صحافی کو بتایا کہ انسانی گوشت کھانا اور مخصوص چائے پینا بوکو حرام کے لڑاکا مجاہدین میں عام ہے۔

بوکو حرام کے کیمپ سے فرار ہونے ایک سابق مجاہد نے ایک دل دہلا دینے والی آپ بیتی سنائی۔ جنگل کے بیچوں بیچ بسے ہوئے بوکو حرام کے کیمپ میں کھانے کی قلت ہو گئی تو مجاہدین کے رہنما ابو عمر شیخ نے غیر لڑاکا مجاہدین کو ذبح کر کے ان کے گوشت کا سالن پکانے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ ہر روز چند غیر لڑاکا اراکین تنظیم کو ذبح کر کے ان کا سالن کیمپ میں رہنے والوں کو کھلایا جاتا تھا۔ فرار ہونے والے مجاہد کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ایک دن اسے بھی ذبح کر کے تناول کر لیا جائے گا۔ وہ پانی کی تلاش میں کیمپ سے باہر جانے والے اراکین کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے بہانے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

بوکو حرام کی خودکش سفاک عورتیں دہشت گردی دنیا میں اپنی سفاکیت کی انتہا کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کئی عورتیں اپنے آپ کو پیٹھ پر لادے ہوئے اپنے شیر خوار بچے سمیت دھماکے سے اڑا چکی ہیں۔ عام طور پر بچوں کو اٹھائی ہوئی ماں پر خود کش حملہ آور ہونے کا شک نہیں کیا جاتا تھا۔

پاکستان اور افغانستان خوش نصیب ہیں کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں صرف عرب مجاہدین بھرتی کیے گئے تھے جو سر کاٹنے کی ثقافت یہاں لے کر آئے تھے۔ شکر ہے کہ امریکہ بہادر نے افریقی مجاہدین کو جنگ افغانستان میں شریک نہیں کیا ورنہ آج سر قلم کرنے اور ان کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلنے کے ساتھ آدم خوری اور انسانی لہو پینے کی روایات بھی یہاں پہنچ جاتیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments