ہم آج کیوں نہیں جیتے


ہم کبھی بھی کوئی ایک لمحہ کھل کر نہیں جیتے۔ ہمیشہ لمحہ موجود کو ضائع کر دیتے ہیں۔ جو لمحہ ہماری دسترس میں ہوتا ہے اس کو فراموش کر دیتے ہیں۔ کوئی خوبصورت پل ہو تو اس میں ماضی کو یاد کر کے رونا شروع کر دیتے ہیں۔ یا پھر آنے والے کل کے اندیشوں میں گر جاتے ہیں۔ ہم آج کو ٹھیک اس طرح سے نہیں جیتے، جس طرح اسے جینا چاہیے۔ ہمیشہ موجود کو، آج کو گنوا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر صبح ناشتہ بھی کر رہے ہوں تو اس ناشتے ہر دھیان نہیں رکھیں گے بلکہ ناشتہ کرتے ہوئے اگلے پل کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر کوئی قیلولہ کر رہا ہو تو اس کو اس وقت کی نیند پوری نہیں کرنے دیں گے۔ بلکہ ”اٹھ جاؤ رات کو بھی سونا ہے“ کہہ کر اسے جگا دیں گے۔ اگر کسی کو محبت ہو جائے تو اس کو ڈرائیں گے کہ محبت کرنا بڑا خونخوار قسم کا کام ہے، اس میں عزت سادات بھی جا سکتی ہے اور جان آفرین بھی۔ ماضی کی مثالیں دے کر دھمکایا جاتا ہے۔ بلکہ آنے والے کل سے ڈرا کر محبت سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ آج کو نہ خود انجوائے کرنا ہے نہ کسی دوسرے کو کرنے دینا ہے۔

ہمیں ہمیشہ ماضی کا غم ستاتا ہے۔ گزرے کل کا افسوس کرتے رہیں گے، دہائی دیتے رہیں گے۔ یاد ماضی کو عذاب کی صورت خود پر مسلط کر لیں گے، ماضی سے چمٹے رہیں گے۔ یا پھر بہت ہوا تو مستقبل کی فکر پال لیں گے، آنے والے کل کے سنہرے خوابوں میں مگن ہو جائیں گے۔ ہم ساری عمر یادوں اور خوابوں میں بسر کر دیتے ہیں۔ ہمیں حال میں جینا آتا ہی نہیں یا پھر شاید ہم آج کے لیے جینا نہیں چاہتے۔ حاضر کو غائب کرنے کا فن ہم کو خوب آتا ہے۔ آج کو ہمیشہ کل پر ٹال دیں گے۔ ہم لوگ آج کو گنوا کر کل کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ آج کو جیتے نہیں اور کل کی دہائیاں دیتے پھرتے ہیں۔ حال کو بے حال کر کے آج کو کل کے سپرد کر کے اس پر یادوں کے کوڑے برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم آج پر توجہ نہیں دیتے، ہمیشہ اسے فراموش کر دیتے ہیں۔

کل کیا ہے؟ آئے گا بھی یا نہیں۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والا کل ایسا ہی ہو گا جس طرح ہم نے سوچا ہے، یا پھر کل کسی اور طرح سے آئے گا۔ ہمارے کل کا دار و مدار صرف آج پر ہے۔ اپنے آج کو، حال کو بہتر بنائیے۔ زندگی کا ایک ایک پل قیمتی ہے اسے مستقبل کے اندیشوں اور ماضی کی یادوں کی نذر مت کریں۔ جو ہے آج ہے اور ابھی ہے۔ کل کبھی نہیں آتا۔ وہ پھر ایک اور کل میں بدل جاتا ہے اور پھر ایک اور کل کی آس لگ جاتی ہے یوں کل کا سفر جاری رہتا ہے۔

ہم ہمیشہ کل کے لیے جیتے ہیں۔ جبکہ کل کچھ نہیں ہے۔ سوچیئے اگر کل کے لیے سنبھالی سانسوں کا رشتہ ہی ٹوٹ گیا تو کل پھر کس نے دیکھی ہے۔ سارے منصوبے دھرے رہ جائیں گے، سارے خواب آپ کے جسم کے ساتھ خاک میں مل جائیں گے۔ بہت ممکن ہے آپ کا کل آج سے زیادہ خوبصورت ہو لیکن یہ بھی تو سوچیئے کہ اگر آپ کی سانس رک جائے، تو کل کیا ہو گا یہ آپ نہیں دیکھ سکیں گے۔ سوچیئے کہ اگر کل آیا ہی نہیں تو۔

ہم ماضی سے وفاداری نبھاتے آج سے بیوفائی کر جاتے ہیں۔ ماضی سے جڑے رہ کر آج کو ختم کر دیتے ہیں۔

ہمیں آج کی اہمیت جاننی چاہیے۔ ماضی کو ماضی ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔ اگر ہم ماضی سے خوشیاں سمیٹنا چاہیں گے تو زندگی ختم ہو جائے گی لیکن ہم کبھی خوشی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

ہم مستقبل کی فکر اور ماضی کی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں۔ اور حقیقت صرف آج ہے جو گزر چکا وہ لوٹ کر نہیں آنا، اور جس کل کے لیے آپ پریشان ہیں ہو سکتا ہے وہ کل زندگی میں آئے ہی نا۔ کل ایک اندھیرا ہے، جس میں کچھ نہیں دیکھا جا سکتا۔

اکثر سننے میں آتا ہے بوتی لنگ گئی تھوڑی رہ گئی۔ جو گزر چکی ہوتی ہے اس کا پتہ بھی نہیں چلتا کدھر گئی۔ اور یہ جو تھوڑی رہ جاتی ہے یہی مشکل ہوتی ہے۔ اس کو اچھے سے گزاریے وقت اور زندگی دونوں چلتے رہتے ہیں۔ پلٹ کر نہ آنا ان دونوں کی مشترکہ خامی ہے یہ دونوں کسی کے لیے نہیں رکتے۔ اگر کبھی یہ رک جائیں تو انسان کسی درخت کی چھاؤں میں تھکے ماندے مسافر کی طرح سستاتے ہوئے ان سے مکالمہ ضرور کرے۔ لیکن یہ رک کر سوچنے اور مکالمہ کرنے کی مہلت ہی نہیں دیتے۔

آپ کو جو کرنا ہے اس دوڑتی بھاگتی زندگی میں ہی کرنا ہے اور آج کرنا ہے۔ کل نہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جو رک جائے وہ چلنے کے قابل نہیں رہتا اور جو دوڑ پڑے وہ تھک کر گر جاتا ہے لیکن آنے والے کل تک کبھی نہیں پہنچ پاتا۔ کل ہمیشہ دسترس سے باہر ہوتا ہے۔ سست رفتاری اور بھاگنے سے گریز کریں، ایک متوازن چال سے چلتے جائیے۔ جو ہے وہ آج ہے، اسے خوبصورت بنائیے۔ کل کی فکر چھوڑ دیں۔ جس دن ہم نے آج کو اچھا بنا لیا مجھے یقین ہے اس دن گزرے ہوئے کل کی پریشان کن یادوں پر اداس نہیں ہوں گے اور نہ ہی آنے والے کل کے ڈراؤنے خواب ہمیں ستائیں گے۔

Facebook Comments HS