سڑک پر کھڑی رات کی تتلیاں
تتلی حشرات کی وہ قسم ہے جس پر قدرت نے اپنی نقش نگاری کی ہے، دنیا میں اتنی خوبصورت تتلیاں پائی جاتی ہیں جن کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، بچپن میں جب ہم پارک یا باغ میں جایا کرتے تھے تو رنگ برنگی تتلیاں پھولوں کا رس چوستی ملتی تھیں، ہمارے گھر کے لان میں بھی صبح کے وقت اکثر تتلیاں نظر آتی تھی مگر جوں جوں ہم ترقی کرتے گئے اس حسن کو کھوتے گئے، اب لاہور جیسے دنیا کے آلودہ ترین شہر میں شاذونادر ہی تتلیاں نظر آتی ہیں
تتلیوں کی ایک اور قسم ہمارے معاشرے کے شرفاء نے متعارف کرائی ہے، یہ تتلیاں کم عمر حسین لڑکیاں ہوتی ہے جو اپنی اداؤں سے شرفاء کی ہوس کی پیاس بجھاتی ہیں اور ان کا رس چوس کر مال زر اکٹھا کرتی ہیں، تتلی کی ٹرم زمانہ طالب علمی میں سنی تھی، ہم ایک بار موت کا کنواں دیکھنے گئے جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ ایک لڑکی کا کنواں بنا ہوتا ہے جس میں نوجوان موٹر سائیکل چلا کر اپنے کرتب دکھاتے ہیں
نوجوانی سے ہی ایڈونچر کا بہت شوق تھا اس لئے اکثر بارڈر کے قریب شکار کھیلنے بھی جایا کرتے تھے، ایک روز دوستوں کے ساتھ پروگرام بنالیا کہ موت کا کنواں دیکھنے چلتے ہیں، شاید اس وقت ایک روپیہ ٹکٹ تھی، ہم پروگرام کے مطابق میلے میں لگے موت کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ باہر ایک اوپر کر کے سٹیج بنا ہوا ہے جہاں کچھ حسینائیں رقص کر نوجوانوں کے دل بہلا رہی تھیں اور نوجوان میں جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو دیہاڑی دار تھے یا پھر تانگہ ریڑھی چلانے والے تھے
ہم پیچھے کھڑے ہو کر دیکھنے لگے کیونکہ یہ ہم سب دوستوں کے لئے یہ نئی بات تھی، تھوڑی دیر بعد ہی احساس ہو گیا کہ یہ سب تو خواجہ سراء ہیں، خواجہ سراء کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اندھا دھند میک اپ کرتے ہیں، تھوڑی دیر بعد ایک ”دلا“ ہمارے قریب آیا اور کہا باؤ جی آگے آئیں کیوں شرما رہے ہیں، ہم نے جواب دیا کہ آگے آ کر کیا کریں، یہ سب تو خواجہ سراء ہیں، یہ بتاؤ شو کب شروع ہو گا، اس نے جواب دیا، باؤ جی ان میں دو تتلیاں بھی ہیں
میں نے فوراً پوچھا، تتلیاں؟ ، تو وہ بولا وہ پنک اور نیلے سوٹ والی تتلیاں ہیں، پھر پوچھا، جناب یہ تتلیاں سے کیا مراد ہے تو دلا بولا باؤ جی تتلیاں یعنی لڑکیاں ہیں، آپ آئیں وہ صرف آپ کے سامنے ہی ڈانس کریں گی، ہمیں حیرت ہوئی، ایڈونچر کا موڈ بناتے ہوئے ہم اس کے ساتھ چل دیے، اس نے لڑکیوں کو اشارہ کیا کہ یہ باؤ لوگ ہیں، ان کو خوش کرو
پھر دونوں تتلیاں ہم چھ دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے لگیں، یہ منظر دیکھ طبیعت تماشبین ہو گئی، میں نے فوراً سگریٹ سلگایا اور ایک لمبا سا کنجر کش لگایا، اس زمانے میں 555 امپورٹڈ سگریٹ بہت معروف اور مہنگا تھا، ابھی دو کش ہی لگائے تھے کہ ایک خواجہ سراء سٹیج سے اتر کر میرے پاس آیا اور بولا سرکار۔ ولایتی پی رہے ہیں، میں بولا ولایتی نہیں ہے، یہ صرف سگریٹ ہے، تو خواجہ سراء بولا وہی پوچھا ہے، ولایتی ہے تو ایک سگریٹ ہمیں بھی پلا دو، آپ کو یاد رکھیں گے
پہلی بار تتلی سے متعارف ہونے کے بعد جب بھی تتلی پر نظر پڑتی ایک منٹ میں اندازہ ہوجاتا ہے کہ تتلی ہے، عشق کے بازار میں تتلی سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ کمر عمر لڑکیاں جو دکھی اور پیاسے دلوں کو سکون پہنچائیں، تتلیوں پر لوگ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے لٹاتے ہیں، کسی نے خوبصورت فقرہ کہا ہے کہ لوگ طوائف میں بیوی جیسی وفا اور بیوی میں طوائف جیسی ادائیں تلاش کرتے ہیں
تتلیوں کا دھندا پہلے مخصوص علاقوں میں ہوتا تھا، مثلاً میلے ٹھیلوں میں تتلیاں اپنی اداؤں اور حسن کے جلوؤں سے تماشائیوں کو اپنی جانب راغب کرتی تھیں، کہتے کہ دل آ جائے گدی پر تو پری کیا شے ہے والی مثال اس پر صادق آتی ہے، کسی کو پتلی پسند ہے تو کسی کو موٹی، کسی کو آنکھ بھا گئی تو کسی کو لمبے بال
جن لوگوں کو تتلیوں کا چسکا لگ جائے پھر وہ ان کے عاشق بن جاتے ہیں جن میں سے اکثریت نامراد ہی رہتی ہے، تتلیاں میلوں، ٹھیلوں میں لوگوں کو پھنسا لیتی پھر ان کو اپنے کوٹھوں کا ایڈریس دیتی اور پھر یہ سلسلہ سالوں تک چلتا ہے، اچھے بھلے لوگ گاڑیوں پر ان کوٹھوں پر جایا کرتے ہیں پھر پیدل واپس آتے ہیں
وقت کے ساتھ زمانے کے رنگ بدلتے گئے، لوگوں کو تفریح کے لئے بہت کچھ مل گیا، پہلے وی سی آر آیا تو لوگوں نے تفریح کے لئے سستے ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیے، زمانے کے ساتھ ساتھ نئی نئی ایجادات آ گئیں، سوشل میڈیا وغیرہ نے عوام کو اپنی کھینچ لیا تو تتلیوں کا دھندا ماند پڑنے لگا، پھر تتلیوں کے اخراجات بڑھنے لگے مگر ان کے عاشق کم ہوتے گئے
کسی دور میں لاہور کی نہر کنارے خواجہ سراء کھڑے ہوتے تھے، یہ بھی سستی تفریح فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ تھے، خواجہ سراؤں نے تتلیوں کے ”کام“ کو متاثر کیا جس پر تتلیاں بھی سڑکوں پر خواجہ سراؤں کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی ہیں، ڈیوٹی سے رات گئے گھر جاتے ہوئے فیصل ٹاؤن کی مین سڑک کے ساتھ سروس روڈ پر تتلیوں اور خواجہ سراؤں کی بھرمار ہوتی ہے، یہی مناظر شہر کے کئی علاقوں میں ہیں جہاں حسن اور جسم کی سرعام بولی لگتی ہے
فیصل ٹاؤن کی سروسز روڈ پر گپ اندھیرا ہوتا ہے، جہاں بڑی بڑی گاڑیوں والے لائٹس بند کر کے معاملات طے کرتے ہیں، ان میں سے کئی تتلیوں کے شوقین ہوتے ہیں اور کئی خواجہ سراؤں کے، اپنی پسند کی تتلی اور خواجہ سراء کو ریٹ طے کر کے لے جاتے ہیں، اس صورتحال میں بے چارے موٹر سائیکل سوار صرف کھڑے ہو کر اپنی ٹھرک پوری کرتے ہیں، کئی بار بار تو لڑائیاں بھی دیکھی ہیں، تتلیوں اور خواجہ سراؤں کا موقف ہوتا ہے کہ اس نے کرنا کچھ بھی نہیں، ہمارا وقت ضائع کرتا ہے جس پر دونوں جانب سے شدید گالم گلوچ بھی ہوتی ہے
اس فیلڈ عاشقوں کی اکثریت چھچھوروں کی ہے جو اس کام کا شوق رکھتے ہیں ان کو شکرے کہا جاتا ہے، وہ دور سے ہی اپنے شکار کا اندازہ لگا لیتے ہیں، رات کا وقت ہوتو لائٹس مارتے ہیں، دن کا وقت ہو تو گاڑی یا موٹر سائیکل کو آہستہ کر کے آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہیں اور ہلکا سا اشارہ کرتے ہیں، جواباً اشارہ ملنے پر وہ اپنی سواری تھوڑی دور روک لیتے ہیں تو تتلی چل کر آتی ہے اور گاڑی میں سوار ہو کر ان کے ساتھ چلی جاتی ہے، راستے میں ہی معاملات طے ہوتے ہیں اور اگر طے نہ ہوں تو دور تھوڑی چند روپے دے کر ان کو باعزت اتار دیا جاتا ہے
یہ مناظر کئی سالوں سے دیکھ رہا ہوں، یہی وہ اصل وجوہات ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے تباہی کی کھائی میں گر چکا ہے، نوجوان دن کو سڑک کنارے بس یا رکشہ کے انتظار میں کھڑی خواتین کو تتلی سمجھ کر ان سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے ہیں، ریپ کیسز میں اضافہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے، پولیس کبھی کبھی کارروائی کرتی ہے مگر اکثر چائے پانی لے کر چھوڑ دیتی ہے
پہلے ایک، دو تتلیاں الگ الگ کھڑی ہوتی تھیں، ان کی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں تھی مگر چند سالوں میں تتلیوں اور خواجہ سراؤں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، اب چار سے چھ کی تعداد میں کھڑی یا کھڑے ہوتے ہیں، پہلے یہ دھندا ایک بجے ختم ہوجاتا تھا مگر اب یہ کام رات تین بجے چلتا ہے
تتلیوں اور خواجہ سراؤں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا سبب مہنگائی ہے، ہمارے کپتان کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں سب سے سستا ملک ہے، جہاں پٹرول بھی سستا ہے، اشیاء خرد و نوش دنیا کے مقابلے میں بہت سستی ہیں، میں بھی اسی ملک کا باسی ہوں اور آپ بھی، سب جانتے ہیں کہ ملک میں کیا سستا ہے اور کیا مہنگا ہے، عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے، لوگ ایک وقت کا کھانا تک چھوڑ کرچکے ہیں اور ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ پاکستان سب سے سستا ملک ہے، حکمرانوں کی بات مان لیتے ہیں کیونکہ نہ ماننے پر ان کے وزراء، معاون خصوصی اور مشیران گھٹیا زبان استعمال کرنے لگتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے پاکستان میں اگر سب سے سستی کوئی چیز ہے تو وہ صرف اور صرف جسم ہے، یقین نہ آئے تو ایک رات فیصل ٹاؤن کی سڑک کا دورہ کر کے دیکھ لیں


