جب درویش کے سیل فون نے خودکشی کر لی
جب سے درویش کے سیل فون نے خودکشی کی ہے درویش تو چین سے ہے کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے بے نیاز ہو چکا ہے لیکن اس کے دوست اور بہت سی سہیلیاں بے چین ہیں کیونکہ وہ اپنے محبت بھرے پیغام درویش تک نہیں پہنچا سکتیں اور اگر وہ جدید سیل فون کی بجائے کوئی روایتی قاصد تلاش کرتی ہیں اور اسے دل کے راز بتاتی ہیں تو انہیں خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ایک دن انہیں کف افسوس ملتے ہوئے غالب کا یہ مصرعہ نہ گنگنانا پڑ جائے
؎ بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
سیل فون کا تحفہ ملنے سے پہلے بھی درویش بغیر سیل فون کے چین کی زندگی گزار رہا تھا لیکن اس کی بھانجی وردہ میر مصر تھی کہ وہ سیل فون خرید لے۔ جب درویش کہتا تھا کہ مجھے سیل فون کی ضرورت نہیں تو وہ کہتی تھی آپ کو ضرورت نہ ہو لیکن ہمیں اس کی ضرورت ہے کیونکہ ہم آپ سے رابطہ قائم نہیں کر سکتے۔
درویش اپنی شان بے نیازی سے سیل فون لینے کو برسوں ٹالتا رہا لیکن پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو حادثہ بنتے بنتے رہ گیا۔ اس واقعہ کے بعد درویش کی سالگرہ پر اس کی بھانجی نے سیل فون کو سالگرہ کا دیدہ زیب تحفہ بنا کر پیش کیا تو وہ انکار نہ کر سکا۔
وہ واقعہ یہ تھا کہ درویش ایک زمانے میں ایک سرخ رنگ کی سپورٹس کار TRANS AM چلاتا تھا اور ہر پانچ سال بعد نئی ٹرانز ایم خرید لیتا تھا لیکن پھر ٹرانز ایم بنانے والی کمپنی نے کہا کہ انہوں نے وہ گاڑی بنانی بند کر دی ہے۔ اس وقت درویش نے سوچا کہ وہ اس وقت تک ٹرانز ایم کو الوداع نہیں کہے گا جب تک وہ ٹرانز ایم خود اسے الوداع نہیں کہہ دیتی۔ جب کوئی درویشنی درویش سے شرارت کے انداز میں پوچھتی تھی کہ آپ کس قسم کے درویش ہیں کہ سیل فون تو استعمال نہیں کرتے لیکن سپورٹس کار چلاتے ہیں تو درویش کہتا تھا کہ وہ ماڈرن درویش ہے۔ وہ ماڈرن گاڑیاں تو چلاتا ہے لیکن ان سے دل نہیں لگاتا۔ اس پر درویشنیاں کہتی تھیں کہ علامہ اقبال جدید دور کے بارے میں صحیح فرماتے تھے
؎ کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری
اور درویش مسکرا کر کہتا تھا کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
ایک شام درویش اپنی ایک درویشنی سہیلی سے ملنے اپنے شہر سے بہت دور کسی گاؤں میں گیا۔ واپسی پر ہائی وے پر وہ سپورٹس کار خراب ہو گئی۔ درویش نے گاڑی ہائی وے سے ذرا فاصلے پر روک دی۔ اندھیرا بڑھنے لگا درویش ایک میل پیدل بھی چلا لیکن کوئی گیس سٹیشن نہ ملا کہ فون کر سکے۔ اس کے پاس سیل فون بھی نہ تھا۔ آخر ایک پولیس کی گاڑی آ کر رکی اور ایک مہربان پولیس افسر کیون میکیلسٹر نے اس کی مدد کی۔ درویش نے جب پولیس افسر کو بتایا کہ وہ ماہر نفسیات ہے اور CAA کا ممبر بھی ہے لیکن اس کے پاس سیل فون نہیں ہے تو پولیس افسر نے نہ صرف سی اے اے کو کال کی بلکہ درویش کو بارہ کلومیٹر کے سفر کے بعد واپس کار تک پہنچایا اور مشورہ دیا کہ وہ کار میں بیٹھا رہے کیونکہ باہر مچھر بہت ہیں۔ سی اے اے نے بتایا تھا کہ وہ ایک گھنٹہ بعد آئیں گے۔
درویش ایک گھنٹہ گاڑی میں بیٹھا رہا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ سپورٹس گاڑی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا ہے۔ جب سی اے اے کا ڈرائیور ڈیوڈ ایک ٹرک کو لے کر آیا تو ٹرانز ایم کو ٹرک پر چڑھاتے ہوئے کہنے لگا کہ میرا جوان بیٹا سٹیون کئی سالوں سے ٹرانز ایم کی تلاش میں ہے۔
درویش نے پوچھا۔ خریدنا چاہو گے؟
ڈرائیور کہنے لگا۔ ضرور۔
درویش نے کہا۔ کتنے ڈالر؟
ڈیوڈ نے کہا۔ پندرہ سو ڈالر۔
درویش نے کہا۔ گاڑی تمہاری ہے۔
اس شام تو ڈیوڈ نے ٹرانز ایم درویش کے گھر پہنچا دی لیکن اگلے دن پندرہ سو ڈالر دے کر گاڑی لے گیا۔
اس واقعہ کے بعد درویش کو اس کی بھانجی نے سیل فون SAMSUNG 7 تحفے کے طور پر دے دیا۔
درویش نے جب بھانجی سے پوچھا کہ اسے سیل فون چلانا بھی سکھا دے تو وہ کہنے لگی سہیل کی سہیلیاں کب کام آئیں گی۔ چنانچہ
پہلی سہیلی نے فون کرنا سکھایا
دوسری سہیلی نے ای میل چیک کرنا سکھایا
تیسری سہیلی نے میسنجر پر میسج بھیجنا سکھایا
چوتھی سہیلی نے وٹس ایپ پر مسیجز وصول کرنا سکھایا
اور درویش نے ایک اچھے طالب علم کی طرح سب کچھ سیکھ لیا اور کئی سال سیم سنگ کے سنگ گزار دیے لیکن اس کی بے نیازی اور لاپرواہی اور غیر ذمہ داری میں کوئی کمی نہ آئی۔
اب جبکہ سیل فون نے خود کشی کر لی ہے تو درویش تو چین سے ہے لیکن اس کے دوستوں کے ساتھ ساتھ سہیلیاں بہت بے چین ہیں۔
ایک درویشنی نے کہانی سنی تو کہا کہ ہو سکتا ہے سیل فون SAMSUNG 7 نے خودکشی نہ کی ہو وہ طبعی موت مر گیا ہو کیونکہ اب نئے سیل فون SAMSUNG 21 خریدنے کا وقت آ گیا ہے۔ درویش کی بھانجی نے کہا آپ بالکل فکر نہ کریں میں آپ کی مدد کروں گی نیا فون خرید دوں گی تا کہ آپ کے دوست اور سہیلیاں زیادہ بے چین نہ ہوں۔ درویش نے بھانجی سے کہا کہ دہریہ درویش ایک سیکولر دعا کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتا ہے۔
اب درویش نئے فون کے تحفے کی راہ تک رہا ہے جو کسی دن بھی من و سلویٰ کی طرح غیب سے چلا آئے گا اور جدید ٹیکنالوجی سے دوستی کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔ اس دفعہ درویش اس کی نفسیاتی ضرورتوں کا خاص خیال رکھے گا تا کہ اسے مستقبل کی اقدام خود کشی سے بچایا جا سکے۔
۔ ۔ ۔


