چار سفیروں سے ملاقات کا حال


کرونا نے دنیا میں تبدیلی اس نوعیت کی قائم کر دی ہے کہ جس سے ہر معاملے میں تباہی تنزلی معاملات میں بدنظمی ابھی تک جوں کی توں موجود ہے۔ اس موذی کے سبب سے اسلام آباد کا سفر موقوف ہو کر رہ گیا ہے سفر موقوف تو دوستوں شناساؤں سے رابطہ بھی بس موبائل تک محدود، چین کے سفیر سے ملاقات بھی اسی سبب دیر کا شکار ہو رہی تھی حالاں کہ راقم الحروف کی چینی دوستوں سے دوستی دو عشروں سے زیادہ پر محیط ہے۔ قصہ کوتاہ اس ہفتے اسلام آباد روانہ ہوا تو اس سے قبل چینی سفیر سے ملاقات طے ہو چکی تھی اور انہوں نے اپنے گھر پر کھانے پر مدعو کر رکھا تھا۔

چینی سفیر درحقیقت چین میں اعلی پائے کے سیاستدان ہیں وہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اعلی کانگریس کے ممبر بھی ہے جبکہ ایک صوبے کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ چنانچہ ان میں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ چینی ویسے بھی گفتگو بہت صاف کرتے ہیں اور سفارتکاری کا مطلب بھی یہی ہے کہ شائستہ انداز پر اپنے موقف سے آگاہ کر دیا جائے۔ پاک چین دوستی جب سے قائم ہوئی ہے اس دن سے آج کے لمحے تک اس میں عوامی اور ریاستی سطح پر ایک دوسرے کی خیر خواہی اور دوستی کے جذبات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی معاملات ہوں یا خطے کے حالات ان پر بھی ان دونوں ممالک کے نقطہ نگاہ بہت حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں تو پھر بھی حکومتوں کی تبدیلی سے معاملات پیچ و خم دنیا کے معاملات میں اختیار کرتے رہتے ہیں مگر چین میں کسی کو سیاسی سطح پر نیچا دکھانے کے لئے بین الاقوامی معاہدوں تعلقات کو زیر بحث نہیں لایا جاتا ہے اسی لئے صدر شی جب اقتدار پر فائز ہوئے تو ان کا نظریہ یہ تھا کہ ماضی کی کامیابیوں کو مزید کامیابیوں میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے اور یہی چیز ان کی ٹیم کے پیش نظر ہے۔ چین اس وقت اجتماعی ترقی اور ترقی برائے امن کے مقاصد پر آگے بڑھ رہا ہے اس کی عالمی حیثیت اور طاقت مسلمہ ہے مگر اس کا رویہ ایسا نہیں کہ وہ پوری دنیا کے معاملات میں ٹانگ اڑاتا پھرے یا چودھراہٹ جماتا پھرے۔

چودھراہٹ جمانے کا معاملہ گزشتہ کئی عشروں سے عرب دنیا میں موجود ہے بلکہ صرف عرب دنیا میں ہی نہیں بلکہ عربوں عجم نے اس کو حاصل کر نے کی غرض سے پوری مسلم دنیا میں مسلمانوں کے مابین فکری اختلافات کو بھی استعمال کیا کہ زمین بھی خون سے رنگین ہو گئی۔ مگر وسائل رکھنے کے باوجود قطر ایسی کسی سیاست سے کوسوں دور رہا قطر کے سفیر سے میری ملاقات چینی سفیر کی ملاقات کے بعد ہوئی تھی ان سے گفتگو انسانی آزادیوں پاکستان اور قطر کے تعلقات سے لے کر عالمی منظر نامے تک ہوئی۔

قطر میں حال ہی میں انتخابات ہوئے ہیں اور انتخابات بھی ویسے ہوئے جیسے قانون میں درج ہیں اور ایسے انتخابات کا انعقاد قطر میں سیاسی استحکام اور سیاسی نظام پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے اور یہ مظہر قطر کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔ قطر اس کے باوجود کے مالی وسائل اور توانائی کے معاملات میں بہت امیر ملک ہے مگر پاکستان کو مسلم دنیا کی سپر پاور کے طور پر دیکھتا ہے اور پاکستان کے مسلم دنیا اور عالمی منظر نامے پر موجودہ کردار سے بڑے کردار کی توقع رکھتا ہے بلکہ اس کے کردار کا خواہشمند بھی ہے۔

خواہش مند تو رومانیہ بھی ہے کہ وہ پاکستان سے مزید افراد قوت منگوانا چاہتا ہے اگلی ملاقات رومانیہ کے سفیر سے تھی رومانیہ کے سفیر کو یہ تو امتیاز حاصل ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعینات سفرا میں سب سے طویل عرصہ تک تعینات رہنے والے سفیر ہے اور ان کی ذاتی کاوشوں کے سبب سے پاکستان سے رومانیہ افرادی قوت جا رہی ہے ایک ہزار لوگ تو اسی سال ہی رومانیہ بسلسلہ روزگار گئے ہیں۔ جب کہ بہت زیادہ افرادی قوت وہاں جانے کی گنجائش موجود ہے اور رومانیہ اس کے لیے تیار بھی ہے۔

اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے قبل جاپان نے بھی افرادی قوت منگوانے کے لیے ایسی ہی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر بدقسمتی سے جاپان کو افرادی قوت بھجوانے میں ہزار طرح کی رکاوٹیں حائل کردی گئی۔ اسلام آباد سے واپس لاہور روانہ ہوا اگلی صبح جرمنی کے سفیر سے ناشتے پر لاہور میں ملاقات طے تھی۔ جرمنی یورپی یونین کے اہم ممالک میں سے ایک ہے جس زمانے میں پاکستان یورپی یونین سے جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے کی بات کر رہا تھا تو اس زمانے میں بھی جرمنی کی دعوت پر وہاں کا دورہ کیا تھا۔

اس وقت اس حوالے سے کوئی دوسری بات کی ہی نہیں جا سکتی کہ جرمنی یہ سٹیٹس دلانے کے حوالے سے پاکستان کی ضروریات سے مکمل طور پر آگاہ تھا اور ابھی بھی جرمنی پاکستان کی ضروریات سے آگاہ ہے۔ پاکستان سے تجارت بڑھانے کے لیے لاہور میں جرمن کمپنیوں کی بہت بڑی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ کرونا کی وجہ سے جو ویزے کے حصول میں سختی آ گئی تھی وہ نرم کر دی گئی ہے جرمنی ائر لائن لفتھانزا کی پاکستان میں سروس کو بھی دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے۔ ان چار ملاقاتوں سے بس ایک ہی نتیجہ اخذ کیا کہ یورپ سے لے کر مشرق وسطیٰ اور چین تک ہمارے شانہ بشانہ چلنے کے لیے دوست ممالک تیار ہیں، اصل امتحان ہماری صلاحیت کا ہے کہ ہم بھی ان کے شانہ بشانہ چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟

Facebook Comments HS