زمانہ بدل رہا ہے مگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکی سیاسی حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ ملکی معاشی حالات، خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر و تبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہو چلا کہ ”میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے“ ۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنیے دھوتیاں بدلنے۔ ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں (میاں صاحب والا واقعہ) ، پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی، میاں صاحب اور سومنات کا مجسمہ۔ ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔ یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔

سب بدل رہا ہے، اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ”حضرت“ ہوتا چلا جا رہا ہے، حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔ کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرت فضل الرحمٰن۔ مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ”پیٹ اور ویٹ“ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا ۔

اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانیے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔ وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کوے اور لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجیے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سناؤ۔ جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے، لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔

وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سناؤ۔ اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ”میاں صاحبان“ کی طرح فوراً گانا شروع کر دینا چاہیے مگر نہیں اب ایسا نہیں، میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی، اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے، زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ لومڑی بی زمانہ بدل گیا ہے اب تم بھی اپنے گھر کی راہ لو۔

ایسے ہی بندر اور ٹوپیاں بیچنے والے سوداگر کی کہانی بھی سب نے پڑھ رکھی ہوگی۔ کہانی کیا ہم تو حقیقت میں بھی ٹوپیاں پہنانے میں اس قدر ماہر ہو گئے ہیں کہ ہمیں اس کام کے لئے اب بوزنوں کی قدرے ضرورت نہیں رہی۔ یاد دہانی کے لئے عرض کردوں کہ کہانی کچھ اس طرح سے تھی کہ ٹوپیاں فروخت کرنے والا ایک سوداگر دوپہر کی گرمی و دھوپ سے بچنے کے لئے ایک درخت کے نیچے استراحت فرما رہا ہوتا ہے۔ اس درخت پر بہت سے بندر اپنا مسکن بنائے ہوتے ہیں۔

سوداگر کو سوتا دیکھ کر (بندروں نے بھی خیال کیا ہو گا کہ سوداگر بھی پاکستانی قوم کی طرح استراحت میں ہے ) بندروں نے اس کی ٹوپیاں چرا کر ان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔ جب سوداگر نیند سے بیدار ہوتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس ٹوپیاں اب بندروں کی ملکیت میں ہیں لہذا انہیں واپس لینے کے لئے کوئی ترکیب کی جائے۔ چالاک سوداگر جانتا تھا کہ بندر نقل اتارنے کے ماہر ہوتے ہیں لہذا اس نے اپنے سر کی ٹوپی اتارتے ہوئے پورے زور سے زمین پر دے ماری۔

بندروں نے بھی یہ فعل دہرایا، ٹوپیاں سر سے اتار کر زمین پر دے ماریں۔ سوداگر نے اپنی ٹوپیاں اٹھائیں اور گھر کی راہ لی۔ لیکن میں نے عرض کیا نا کہ زمانہ تبدیل ہو چلا ہے۔ اب وہ کہانی بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ جب سوداگر نے بندروں سے ٹوپیاں واپس لینے کے لئے اپنی ٹوپی سر سے اتار کر زمین پر پٹخی تو درخت سے اچھلتا کودتا ایک بندر نیچے آیا، سوداگر کی ٹوپی اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے واپس درخت پر ”پٹوسی“ ماری کہ ابے نالائق اب زمانہ بدل گیا ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم وہی پرانے زمانہ کے بندر ہے۔ ہمارے بڑھوں نے تم لوگوں کی طرح ہمیں بھی دھوکہ دینا سکھا دیا ہے۔

ایسے ہی ایک کہانی اتفاق میں برکت ہے، جس میں ایک بوڑھا اپنے بچوں کو لکڑیوں کے گٹھے سے مل جل کر رہنے کا سبق سکھاتا ہے۔ اب ظاہر ہے زمانہ بدل چکا ہے تو اب اگر کوئی بزرگ اتفاق میں برکت ہے سکھانے کے لئے لکڑیوں کا گٹھا توڑنے کو کہتا ہے تو نوجوان نسل بوڑھے کے منہ پر ہی کہہ دیتی ہے، بابا کیا ہو گیا ہے کس زمانے کی بات کرتے ہیں اب زمانہ بدل گیا ہے لکڑیوں کی گھر میں ضرورت کیا ہے، ابھی تو ہر گھر کا چولھا گیس سے چلتا ہے۔

اور ان بچوں میں سے جو سب سے چھوٹا ہوتا ہے وہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر گھر سے باہر پھینک آتا ہے۔ آج کے دور میں یہ ہے اتفاق میں برکت۔ ایک دن اپنے بیٹے کو میں یہی کہانی سنا رہا تھا کہ میرا بیٹا بڑی ہی معصومیت سے گویا ہوا کہ بابا یہ انکل برکت تو مر چکے ہیں تو پھر یہ کون سے والے برکت ہیں۔ بات میرے بیٹے کی بھی ٹھیک تھی کہ ”برکت“ تو کب کی اٹھ چکی اس ملک سے۔ اگر برکت ہوتی یا برکت مر بھی گیا ہوتا اور زمانہ کتنا بھی تبدیل ہو گیا ہوتا مگر ضمیر کبھی نہ مرتا۔ کیونکہ ضمیر کا مر جانا قوموں کی موت ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments