امریکہ میں مسلمانوں کا روز افزوں اثر و رسوخ


امریکہ کی وفاقی حکومت میں جون 2021 میں ایک مسلمان زاہد قریشی کو فیڈرل جج مقرر کیا گیا ہے۔ جج زاہد کی ولادت پاکستانی والدین کے یہاں نیویارک سٹی میں ہوئی تھی۔ وہ دو دفعہ عراق میں پراسیکیوٹر کے طور پر متعین رہ چکا ہے جہاں اس کو کیپٹن کا عہدہ دیا گیا تھا۔ اسی طرح فیڈرل ٹریڈ کمیشن کا چئیرمین لینا خاں (Leena Khan) کو مقرر کیا گیا ہے۔ لینا خاں کی ولادت لندن میں پاکستانی والدین کے یہاں ہوئی تھی مگر گیارہ سال کی عمر میں وہ امریکہ ہجرت کر کے آ گئی۔

اس تقرری سے قبل لینا خاں کولمبیا یونیورسٹی لاء سکول میں قانون کی پروفیسر تھی۔ اسی طرح رابرٹ صالح (ولادت 1979 ) کو امریکن فٹ بال نیویارک جیٹس ٹیم کا پہلا مسلمان ہیڈ کوچ جنوری 2021 میں مقرر کیا گیا ہے۔ صالح نیشنل فٹ بال لیگ NFLکی تاریخ میں پہلا مسلمان کوچ ہے۔ صالح اور اس کی بیوی ثناء کے چھ بچے ہیں۔ اس کے آباء و اجداد کا تعلق لبنان سے ہے۔

رامی یوسف (ولادت 1991 ) کامیڈین، ایکٹر اور رائیٹر ہے۔ اس کو اس کی فلم ”رامی“ پر گولڈن گلوب ایوارڈ اور پی باڈی ایوارڈ 2020 Golden Globe and a Peabody Award دیا گیا تھا۔ ماہر شالہ علی Mahershala Ali پہلا مسلمان ایکٹر ہے جس کو اکیڈمی ایوارڈ اس کی فلموں مون لائٹ اور گرین بک میں اعلی درجہ کی بے مثال ایکٹنگ کی وجہ سے دیا گیا تھا۔

امریکہ کی کانگریس کا پہلا مسلمان کانگریس مین کیتھ ایلے سن Keith Ellison تھا جس کا انتخاب 2007 میں ہوا تھا۔ وہ ڈیٹرائٹ میں 1963 میں اس دنیا میں قدم رنجہ ہوا تھا۔ وہ بارہ سال تک کانگریس کا ممبر رہا اور اس وقت ریاست منی سوٹا کا اٹارنی جنرل ہے۔ اس لحاظ سے وہ ریاست کا پہلا مسلمان اٹارنی جنرل ہے۔

کانگریس کی دد ممبرز رشیدہ حبیب طالب (ولادت Rashid Tlaib 1976 ) اور الحان عمر ہیں۔ رشیدہ کا انتخاب ڈیٹرائٹ کی 31 st ڈسٹرکٹ سے 2019 میں ہوا تھا۔ کانگریس کا ممبر منتخب ہونے سے قبل وہ مشی گن ایوان نمائندگان کی ممبر رہ چکی تھی۔ جس وقت رشیدہ کانگریس کی ممبر منتخب ہوئی اس وقت امریکہ کی مختلف ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں دس مسلمان تھے۔ کسی ریاست کی اسمبلی میں سب سے پہلے ممبر جمیلہ ناشید (میسوری) تھی یوں رشیدہ طالب دوسری مسلم خاتون ممبر تھی۔

رشیدہ کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ چودہ بہن بھائیوں میں سے وہ سب سے بڑی ہے۔ اس کے آباء اجداد فلسطین سے امریکہ آئے تھے۔ وہ ڈانلڈ ٹرمپ کے عرصہ صدارت کے دوران اس پر کڑی تنقید کیا کرتی تھی اور برملا کہتی تھی کہ اس کو impeach کیا جائے۔ وہ اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کی امداد بند کر دینی چاہیے۔

جمیلہ ناشید) (born Janice Willimiams b۔ 1972 کا انتخاب ریاست میسوری سے ہوا، اور وہ چھ سال تک ( 2007۔ 2013 ) اسمبلی کی ممبر رہی تھی۔ اس نے سینٹ لوئیس شہر کے مئیر کے لئے الیکشن لڑا مگر خود ہی اپنا نام واپس لے لیا۔ الحان عمر Ilhan Omar b۔ 1982 کا کانگریس کے لئے انتخاب 2019 میں ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ منی سوٹا ریاست کی ایوان نمائندگان کی تین سال تک نمائندہ رہی تھی۔ الحان پہلی صومالی افریقن عورت ہے جو کانگریس کی ممبر بنی ہے۔ وہ ہمیشہ ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ رہی ہے۔

اندرے کا رسن Andre Carson دوسرا مسلمان کانگریس مین ہے پہلا کیتھ ایلی سن تھا۔ اندرے کی ولادت 1974 میں ہوئی اور اس کا انتخاب انڈیانا ریاست سے 2008 میں ہوا تھا۔ اس کی دادی جو لیا کا رسن بھی کانگریس کی ممبر رہ چکی تھی۔ کا رسن صوفی شاعر رومی کی شاعری، اور میلکم ایکس کی سوانح عمری سے اس قدر متاثر تھا کہ وہ حلقہ بگو ش اسلام ہو گیا۔ اس نے دسمبر 2019 میں ٹرمپ کے خلاف impeachemnt کے دونوں آرٹیکلز کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

مسلمانوں کی تعداد

امریکہ میں مسلمان یہاں کے لینڈ سکیپ کا جزو لاینفک بنتے نظر آرہے ہیں۔ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ ملک کی ہر ریاست میں مسلمان پبلک اداروں میں نظر آتے ہیں۔ بیس سال قبل جب 9 / 11 کا واقعہ رونما ہوا تھا اس وقت کی مسلم کمیونٹی اور آج کے دور کی مسلم کمیونٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت سیاہ فام امریکن مسلمان تعداد میں زیادہ تھے مگر آج کے دور میں امیگرنٹ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

بیس سال قبل امریکہ میں ایک ملین مسلمان تھے مگر آج ان کی تعداد امریکہ میں چار ملین کے قریب ہے۔ اس وقت مسلمان زیادہ تر ری پبلکن پارٹی کو ووٹ دیتے تھے چنانچہ جارج بش نے 2000 میں مسلمانوں کا 72 %ووٹ حاصل کیا تھا۔ مگر 9 / 11 کے سانحہ بعد 2004 میں اس کی مسلمانوں میں سپورٹ صرف 7 %رہ گئی اور زیادہ تر مسلمانوں نے جان کیری کو ووٹ دیے تھے۔ سیاہ فام امریکن مسلمانوں کے لئے ان کی شناخت میلکم ایکس اور محمد علی باکسر کا لبرل اسلام تھا۔

ستمبر 2001 کے سانحہ عظیم کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور عداوت پورے شد و مد کے ساتھ سامنے آنے لگی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں نفاذ شریعت کے خلاف قوانین بنائے جانے لگے۔ 2007 میں 84 %مسلمانوں نے رائے دی کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ ستم بنے ہیں۔ جارج بش اور اوباما کے دورحکومت میں اسلامی ممالک سے امیگریشن زیادہ ہو گئی اور چالیس ہزار مسلمان ہر سال یہاں آئے۔ رفتہ رفتہ مسلمان پبلک لائف میں زیادہ نظر آنے لگے۔

سن 2000 میں امریکہ میں مساجد کی تعداد 1200 تھی جب گھروں میں نمازیں ادا ہوتی تھیں مگر اس وقت امریکہ میں 2769 مساجد ہیں۔ یہ بات دلچسپی کا باعث ہوگی کہ امریکہ میں پہلی مسجد Ross، North Dakota میں شام اور لبنان سے آئے ہوئے مہاجرین نے 1929 میں تعمیر کی تھی۔ مرور زمانہ سے اصل مسجد 1979 میں مسمار ہو گئی تو 2005 میں اسی مقام پر نئی مسجد تعمیر کی گئی۔

ٹیلی ویژن پر مسلمان

علی ویلشیb۔ 1969 Ali Velshi پہلا اسماعیلی مسلمان ہے جس نے کسی کییبل کمپنیMSNBC میں اینکر کے فرائض انجام دیے ہیں۔ وہ کئی سال تک سی این این کا بزنس رپورٹر رہا۔ اگرچہ اس کی پیدائش نیروبی میں ہوئی مگر اس نے پرورش ٹورنٹو میں پائی تھی۔ اس کی مادر علمی کوئینز یونیورسٹی کنگسٹن نے اس کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی تھی۔ علی نے نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب مسجد اور کمیونٹی سینٹر کی کھل کر حمایت کی تھی۔ وہ ٹرمپ پر بھی کڑی تنقید کیا کرتا تھا۔ وہ دو پاپولر کتابوں کا مصنف بھی ہے۔

سپورٹس ٹیلی ویژن کے ضمن ایک معروف نام عدنان ورک ہے جس کی ولادت 1978 میں ٹورنٹو میں پاکستانی والدین کے یہاں ہوئی تھی۔ امریکہ کے مشہور سپورٹس ٹیلی ویژن ESPNمیں دس سال سپورٹس اینکر کے بعد اس وقت وہ میجر لیگ بیس بال MLB میں سپورٹس اینکر ہے۔ سپورٹس کے علاوہ وہ movie critic بھی ہے جس کے لئے اس کی پاڈکاسٹ کا نام CINEPHILE with Adnan Virk ہے۔ اس کی فٹ بال کی پاڈکاسٹ کا نام The GM Schuffle ہے۔ ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ممتاز اور نامور نام فرید زکریا کا ہے جو کئی کتابوں کا مصنف، نیوز ویک انٹر نیشنل کا ایڈیٹر اور سی این این کے پروگرام جی پی ایس کا ہوسٹ ہے۔ وہ خود کو سیکولر اور غیر عملی مسلمان کہتا ہے۔

حسن منہاج (ولادت کیلی فورنیا 1985 ) کامیڈین، رائٹر، ٹیلی ویژن ہوسٹ، اور ایکٹر ہے۔ نیٹ فلکس پر اس کی کامیڈی Homecoming King کو دنیا بھر سراہا گیا ہے۔ اس کے والدین نجمی اور سیما علی گڑھ سے امریکہ آئے تھے۔ کامیڈی کے ضمن ایک اور کامیڈین دین عبید اللہ ہے جو کہ پیشہ کے لحاظ سے اٹارنی ہے۔ مگر وکالت کو چھوڑ کر وہ فل ٹائم کامیڈین بن گیا ہے۔ اس کی ولادت لودھی، نیو جرسی میں ہوئی۔ اس کے والد فلسطینی اور والدہ اطالین ہیں۔ وہ ہر دلعزیز پروگرام نیو یارک عرب امریکن کامیڈی فیسٹیول کا بانی ہے۔ اس کا ایک پروگرام جو امریکہ کے مختلف شہروں میں کیا جاتا Stand Up for Peaceہے جس میں امن کے قیام کے لئے مسلمان اور یہودی ایکٹرز مل کر پرفارم کرتے ہیں۔

سیاست کے میدان میں

نومبر 2121 میں مشی گن ریاست کے ڈئر بارن شہر کے میونسپل انتخابات میں شہر کا پہلا عرب مسلمان مئیر چنا گیا ہے۔ 31 سالہ نئے مئیر کا نام عبد اللہ حمود ہے۔ اس سے پہلے وہ ریاست کی اسمبلی کا ممبر تھا۔ اس کے والدین لبنان سے ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے۔ اسی طرح ایک اور شہر Hamtramck کے نئے مئیر کا نام عامر غالب ہے۔

ثاقب علی میری لینڈ کی ریاست کی اسمبلی میں چار سال تک 2007۔ 2011 ممبر رہا تھا۔ ثاقب کی پیدائش شکاگو میں جنوری 1975 کو ہوئی تھی۔ اس کے والدین کا تعلق ہندوستان اور پاکستان سے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر میں سیاسی موضوعات پر گرما گرم بحث ہوتی تھی مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے رشتہ داروں میں سے کسی نے کبھی ووٹ نہیں دیا تو میں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔

ڈاکٹر زہدی جاسر Zuhdi Jasser سابق صدر ٹرمپ کا حامی ہے۔ زہدی فی نیکس (ایری زونا) میں ڈاکٹر ہے جس کو 2012 میں کمیشن آن ری لجس فریڈم کا ممبر مقرر کیا گیا تھا۔ زہدی کی پیدائش 1967 میں ڈیٹن (اوہایو) میں ہوئی تھی۔ زہدی کو سیاسی اور مذہبی امور پر تجزیہ نگار اور وقیع مبصر ہو نے کا درجہ حاصل ہے۔ وہ امریکہ کی نیوی میں لیفٹننٹ کمانڈر رہ چکا ہے۔ وہ اس بات کا حامی ہے کہ سیاست اور مذہب کو الگ الگ ہونا چاہیے۔ وہ امریکہ کے بڑے بڑے ٹیلی ویژن سٹیشنوں پر اظہار خیال کر چکا ہے نیز اس کے مضامین ملک کے مقتدر اخباروں کی زینت بن چکے ہیں۔

ہما محمود عابدین Huma Abedin b۔ 1976 ہلری کلنٹن کی 25 سال تک چیف آف سٹاف، سیاسی مشیر اور قابل اعتماد ساتھی رہی ہے۔ اس کے والد سید زین العابدین

مرحوم ہندوستان سے تھے اور والدہ صالحہ محمود پاکستان سے ہیں۔ اس نے کئی سال وائٹ ہاؤس میں گزارے اور ہلری کلنٹن کے ساتھ دنیا کے متعدد ممالک کے سفر کیے اور درجنوں وزیراعظموں اور صدروں سے ملاقات کی۔ کچھ روز قبل اس کی کتاب BOTH/AND: A Life in Many Worlds شائع ہوئی ہے۔ ہما عابدین 2016 میں ہلری کلنٹن کی صدارتی الیکشن کی مہم کی چئیر مین تھی۔ 2010 میں اس کی شادی کے موقعہ پر ہلری کلنٹن نے کہا تھا میری ایک بیٹی ہے اگر دوسری بیٹی ہوتی تو وہ ہما ہوتی۔

سیاست کے میدان میں صدف جعفر ایک انوکھا نام ہے جو جنوری 2019 میں نیوجرسی کی ریاست میں شہر بلکہ امریکہ میں پہلی خاتون مسلمان مئیر منتخب ہوئی تھی۔ صدف جس کی پیدائش شکاگو میں ہوئی تھی اس کے والدہ کا تعلق کراچی (پاکستان) اور والد کا یمن سے ہے۔ بچپن میں وہ ڈپلومیٹ بننا چاہتی تھی جس کے لئے اس نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں انٹرن بھی کیا تھا۔ مگر مسلمانوں کے خلاف ابھرتی نفرت کے باعث اس نے ہارورڈ میں داخلہ لیا اور ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

2017 میں وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر تھی جب ٹرمپ کا انتخاب صدر امریکہ کے لئے ہوا۔ اس کے نتیجہ میں اس نے سیاست میں جانے کا فیصلہ کیا اور نیوجرسی کی منٹگمری ٹاؤن شپ (آبادی 24,000 ) کی کونسل کا الیکشن جیت لیا۔ اس کے والدین نے اس کو کہا کیا مناسب نہیں کہ اس وقت ہم پبلک کی نظروں سے دور چھپ کر رہیں۔ مگر اس نے کہا ہمیں اپنے حقوق کی جنگ ہمیں لڑنی ہے۔ جون 2021 میں اس کو نیوجرسی اسمبلی کے لئے ڈیمو کر ٹیک پارٹی کی طرف سے نامزد کیا گیا۔

2020 کے الیکشن امریکہ کی 28 ریاستوں میں 170 مسلمان امیدواروں نے حصہ لیا تھا جس میں 62 کامیاب ہوئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق دس لاکھ مسلمانوں نے پچھلے سال کے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ ہر امیدوار کو اینٹی اسلام عداوت کا سامنا کرنا پڑا۔ او ر ہر ایک کو Islamists or Jihadist کا لیبل لگایا گیا۔

مسلمان اولمپک میڈلسٹ

نیو جرسی میں رہنے والی چھتیس سالہ ابتہاج محمدIbtihaj Muhammad امریکہ کی اولمپک میڈلسٹ ہے۔ وہ پہلی مسلمان کھلاڑی ہے جس نے حجاب پہن کر پہلی بار 2016 کی اولمپک گیمز میں Fencing کے کھیل میں برونز میڈل جیتا تھا۔ ٹائم میگزین نے اس کو 100 Most influential people کی فہرست میں شا مل کیا تھا۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وہ سپورٹس ایمبسیڈر کے طور خدمات بجا لاتی ہے۔ اس کی کلو دنگ کمپنی کا نام Louella ہے۔ یاد رہے کہ ابتہاج سے انسپائر ہو کر پہلی حجابی باربی ڈال بنائی گئی تھی۔ اس کی سوانح عمری کا عنوان Proudہے۔

اس مضمون میں سیاست، کھیلوں اور ٹیلی ویژن میں اثر و رسوخ والے مسلمانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ورنہ امریکہ میں اس وقت ہزاروں مسلمان سائنسدان، کمپیوٹر ایکسپرٹ، پروفیسر، بینکرز، فلم انڈسٹری میں ایکٹرز، میوزیشن، نغمہ نگار اور بزنس مین (جیسے لاہور کا بلئین ایئر شاہد خاں ) ہیں جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

Facebook Comments HS