حکمت بھری کہانی


گھر کا ایک کونہ سبزیوں کی کاشت کے لئے مختص ہے جہاں موسم کے مطابق کھیرے، مولی، مرچیں، ٹینڈے، کدو، مٹر، پالک، میتھی، دھنیا، پودینہ، لہسن، پیاز، ادرک، بینگن، ٹھنڈی اور کریلوں کی بہار نظر آتی رہتی ہے۔ خاتون خانہ یہ سب شوق اور محبت سے کرتی ہیں۔ اور دوائیوں والے اسپرے سے پاک، نامیاتی کھاد سے تیار، پیار اور توجہ سے لگائی ہوئی فصل ذمہ داری اور احساس کی دولت کے بھگار کے ساتھ ہمسائیوں اور دوست احباب میں بانٹتی بھی ہیں۔

آج کل خزاں کے زرد، بھورے اور سرخ رنگوں کا ہر طرف راج ہے اور سوکھے، جھڑتے، گرتے پتوں کی چرمراتی آوازیں لان کے اس گوشے کو مزید آباد رکھتی ہیں۔ خاتون اپنے محبوب گوشے میں ضرور دن کی کسی گھڑی موجود ہوتی ہیں۔ ایک ایک پودے سے پیلے اور کملائے پتوں کو اتارنا، ہر سبزی کے جامنی، سفید، پیلے پھولوں کو دیکھنا، پھر ان کا پھل میں تبدیل ہونا، ان کی روز کی روٹین ہے۔ حتی کہ کس پودے پر کتنے کتنے دانے لگے ہیں، ان میں سے بڑوں اور چھوٹوں کی تعداد کیا ہے؟ ، سب ان کی انگلیوں کی پوروں پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی پودا ان کے لئے صرف فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے کتھارسس کا پلیٹ فارم ہے۔ آکسیجن پھیپھڑوں میں بھرنے کا راستہ ہیں۔ ان کی امیدوں کو پھل لگنے کی جگہ ہے۔ ان کی سہیلیاں اور راز دار ہیں۔

کچھ دنوں سے ہری سبزیوں کے ساتھ بینگن کے پودوں پر بڑی رونق ہے۔ ہر ہفتے چمکیلے، کاسنی لمبے اور گول بینگنوں کی بہار لگ جاتی ہے۔ اس دفعہ جب اتارنے کا وقت آیا تو انھوں نے اپنی ایک بزرگ خاتون دوست (تین چار گلیاں چھوڑ کے دوسرے سیکٹر میں رہتی ہیں ) کو فون کر دیا کہ آپ کی مسی روٹی، پکوڑوں اور بھرتے کے لوازمات تیار ہیں۔ ڈرائیور کو بھیج کے منگوا لیں۔

دوپہر کا کہا، ڈرائیور شام کو آیا۔ لیکن آتے سرما کے دنوں میں شامیں تو سمجھو گھر کے آنگنوؤں میں گھسنے کو ہر پل منتظر رہتی ہیں۔ ادھر سورج آسمان سے ڈھلنا شروع ہوا، ادھر دوپہر کی روشنی، تاریکی میں بدلنے لگتی ہے۔ اوپر سے لان کی لائٹس بھی خراب تھیں۔ اس وجہ سے لان میں خنکی اور اندھیرا معمول سے زیادہ تھا۔ خیر، خاتون نے چھوٹا بلب جلایا، ہاتھ میں موبائل ٹارچ روشن کی اور سٹریٹ لائٹ کی براہ راست آتی روشنی میں سبزی توڑنا شروع کی۔

سبزیاں توڑتے۔ بینگنوں کی باری آئی۔ بارہ ٹوکری میں ڈالے۔ لیکن یہ تو پندرہ تھے۔ ہر بوٹا ٹارچ کی مدد سے اوپر، نیچے کھنگالا۔ ہلایا، جلایا لیکن باقی رہ جانے والے تین نہ نظر آنے تھے، نہ آئے۔ خیر تحفہ تیار ہوا۔ بچے نے ڈرائیور کو پکڑایا، وہ رخصت ہوا اور گھر پہنچنے پر دوسری طرف سے شکریے کا محبت بھرا فون بھی آ گیا۔ لیکن ان کا دماغ ان نہ دکھنے اور چھپے ہوئے تین بینگنوں کی طرف تھا۔

بات کچھ نہیں تھی لیکن بس الجھن تھی کہ روز ان کی نظروں کے سامنے تھے۔ لٹکتے، دور سے دکھائی دیتے۔ لیکن اس وقت اتنی قریب روشنی میں یوں چھپ گئے جیسے وہاں کبھی نہ تھے۔ رات آئی اور گزر گئی۔ اگلا دن طلوع ہوا اور وہ وہ نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد حسب معمول لان میں آئیں لیکن آج عادت کے ساتھ تجسس اور کھوج کی بے چینی تھی۔ اور جب پودوں کے پاس پہنچی تو یہ کیا؟ وہ تینوں وہیں مسکراتے ہوئے جھول رہے تھے۔ ان کے اعصاب یک دم مسٹری کے حل ہونے پر پر سکون ہوئے اور خود وہ آرام دہ کرسی پر بیٹھ کے اوپر آسمان کو تکنے لگیں۔

یوں جیسے پوچھتی ہوں، مولا! یہ کیا تھا؟ اور وہ اوپر آسمانوں سے کہہ رہا ہو۔ یاد ہے غار ثور کا واقعہ؟ جب میں نے اپنے پیارے محمد ﷺ کو دشمنوں سے بچایا تھا۔ کیسے مکڑی کے جالے اور کبوتری کے انڈوں نے ان کے مخالفوں کو نظر کے دھوکے میں ڈالا۔ کیسے تعاقب کرنے والے اپنے شکار کی اتنی قربت سے سالوں کی دوری (ہجرت) تک چلے گئے؟ جی مولا! سب یاد ہے۔ بچپن سے پڑھتے، دہراتے اور سنتے آئے ہیں۔ سمجھتے کتنا ہو؟

جان لو! جسے میں چھپانا چاہوں، کوئی اسے ظاہر نہیں کر سکتا۔ میں عالم الغیوب ہوں۔ جس کو میں اوجھل کر دوں، کوئی اس کو عیاں نہیں کر سکتا۔ میں حفیظ ہوں۔ جو میری پناہ میں ہے، کسی میں اس کو گرانے اور نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں۔ میں قادر ہوں۔ جس کو میں نے خوار کیا، اس کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ میں قہار اور عزیز ہوں۔ میں نے تم سے پہلے گزرنے والوں اور تمہاری زندگیوں میں تمہارے لئے اپنی نشانیاں بنائیں۔ ان میں نظر آنے والی حکمتوں کو سمجھو۔ اس نے سر ہلاتے ہوئے بلندی اور وسعتوں کو دیکھا اور پر تشکر آنسوؤں سے سر کو کرسی پر ٹکا دیا۔

Facebook Comments HS