نظریاتی دلدل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1843 میں 60 سالہ چارلس جیمز نیپئر سندھ کے گورنر تھے۔ ایک دن سندھ کے مذہبی پیشوا ان سے ملنے آئے اور ان سے ستی کی رسم پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انگریز گورنر سے کہا کہ ایسا حکم سندھی قوم کی ایک مقدس مذہبی رسم میں مداخلت ہے۔

گورنر نیپئر کا جواب تھا، ”ٹھیک ہے، ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔ بیواؤں کو قتل کرنا آپ کی رسم ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن ہماری بھی ایک رسم ہے اور وہ یہ کہ جو خواتین کو قتل کرتا ہے ہم اسے قتل کرتے اور اس کی جائیداد ضبط کر لیتے ہیں۔ تو چلیے ہم اپنی اپنی رسومات پر عمل شروع کرتے ہیں۔“

ستی کی رسم ہندوستان میں زمانہ قدیم سے چلی آ رہی تھی۔ اس رسم میں خاوند کی موت پر بیوی/بیویاں خاوند کے مردہ جسم کے ساتھ ہی زندہ جل مرتی تھیں۔ مسلمانوں میں یہ رسم خاوند کی نعش کے ساتھ زندہ دفن ہو جانا تھی۔ حالانکہ ماضی قریب میں اکبر، جہانگیر اور اورنگزیب نے اس پر پابندی لگائی تھی مگر پھر بھی یہ رسم جاری و ساری تھی۔

انگریز دور میں مربوط انتظامیہ کی وجہ سے یہ معاملہ زیادہ ابھر کر سامنے آنے لگا کیونکہ اس میں کئی قانونی و سماجی پیچیدگیاں ظاہر ہو رہی تھیں۔ زیادہ تر معاملات میں خواتین کو اپنے شوہر سے وفاداری دکھانے کے لیے شرمندہ کیا جاتا جس کا مقصد دوسری خواتین کو اپنے شوہروں سے وفادار رہنے پہ مائل کرنا ہوتا۔ خواتین کو جائیداد سے محروم کرنے کے لیے اور ان کی کفالت کے بوجھ سے بچنے کے لیے انہیں مرنے پر مجبور کیا جاتا۔

چنانچہ تمام تر قانونی، سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر جنرل ہندوستان لارڈ ولیم بینٹنک نے بروز اتوار، 4 دسمبر 1829 کو ایک خصوصی حکم نامے کے تحت ستی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے مجرمانہ فعل قرار دے دیا۔

جب کمپنی حکومت نے سختی سے اس حکم کی پابندی کروانی شروع کی تو پہلے پہل تو عوام نے اسے سنجیدگی سے لیا ہی نہیں جیسے دیگر سماجی احکام مثلاً انسانی قربانی، خواتین کا وراثت میں حصہ اور راہ گزر پر راتیں گزارنا وغیرہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا مگر پھر حکومتی سختی سے عاجز آ کر مذہبی رہنما چارلس نیپیئر کے پاس پہنچے جنہوں نے انہیں مندرجہ بالا تاریخ ساز جواب دیا۔

یہ جواب آج تک سیاسیات کے طلباء کو حکومت کی عمل داری چیلنج کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے ضرب المثل کے طور پر بتایا جاتا ہے۔ کاش کوئی موجودہ حکومت کو بھی اس جواب سے آگاہ کر دے اور اسے بتائے کہ حکومت کا جواز اس کی عمل داری ہی ہوتی ہے اور جب ایک دفعہ کوئی حکومت اپنی عمل داری چیلنج ہونے پر جھکتی ہے تو پھر اسے بار بار جھکنا پڑتا ہے۔

برصغیر میں کبھی بھی انگریز اہلکاروں کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی۔ یہ سوال ہمیشہ سے اچنبھے کا باعث رہا ہے کہ کیسے محض تیس ہزار افراد کے ساتھ انگریزوں نے برصغیر کے تین کروڑ عوام پر دو سو سال کے قریب حکومت کی؟ برصغیر کا رقبہ ناصرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ سے بھی زیادہ تھا چنانچہ اپنے وطن سے 14000 کلومیٹر دور متنوع آبادی کی فراوانی اور طاقتور معیشت والے ملک پر حکومت کرنے کے پیچھے انگریز انتظامیہ کی عملداری ہی کارفرما تھی۔

پچھلے تقریباً تین ہفتوں سے جی ٹی روڈ بند پڑی تھی۔ آمد و رفت، رابطہ کاری اور نقل و حمل معطل رہی۔ ایک سیاسی جماعت نے مذہب کے نام پر حکومت کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ ریاستی طاقت پر اختیار ہونے کے باوجود حکومت گھٹنے ٹیک گئی۔ کیوں؟ اس کیوں کا تعلق نظریاتی مشکلات سے ہے۔

ایک کیوں بہت سے کیوں کا پیش خیمہ ہے۔ کیوں ایک مذہبی جلوس ایک سیاسی مارچ میں تبدیل ہو گیا؟ کیوں حکومتی اداروں کو اس طوفان کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی؟ کیوں اس جلوس کو لاہور میں ہی نہیں روکا جا سکا؟ کیوں حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے؟ اور کیوں خفیہ معاہدہ ہونے کے باوجود بھی مارچ کے شرکاء تب تک واپس نہیں گئے جب تک ان کے مطالبات پر عمل نہیں ہو گیا؟

اس سیاسی جماعت، اس کے طریق ہائے کار، حالیہ افراتفری، اس کے پس منظر اور پیش آمدہ پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ اس سیاق و سباق میں یہ دلچسپی کا باعث ہو گا کہ یہ سیاسی جماعت ایک بیرون ملک پاکستانی کی جانب سے رجسٹرڈ کروائی گئی، کبھی اس کی فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو جواب جمع نہیں کروایا گیا، کبھی پیمرا یا پی ٹی اے نے اس جماعت کے برانگیختہ کرنے والی نفرت انگیز مہم کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کیوں؟

اس کیوں کا جواب نظریاتی پیچیدگیوں میں الجھا ہوا ہے۔ ریاست نے شروع دن سے ہی اپنا جواز مذہب میں ڈھونڈا ہے چنانچہ مذہب کے نام پہ کی جانے والی کسی بھی کارروائی پہ سوال اٹھانا ریاست کی اپنی ہی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔ چونکہ ریاست مذہب کی بہت ہی نازک بنیادوں پر قائم ہے لہذاٰ مذہبی معاملات میں ریاستی ہچکچاہٹ اور تذبذب سمجھ میں آتا ہے۔ اس نزاکت کا یہ عالم ہے کہ کوئی تنقیدی سوچ، کوئی تحقیق اور کوئی سوال بھی اس کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔

اس تناظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے ارد گرد جدت اور سیکولر ازم کی ایک دیوار چین اٹھانا پڑے گی تاکہ وہ مذہبی طالع آزماؤں کے پے درپے حملوں سے بچ سکے۔ مشرق اور مغرب سے جارح مزاج جتھے مذہبی بھیس میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دارالحکومت پہ چڑھائی کرتے رہتے ہیں۔ ملکی قیادت ان گروہوں کے سامنے اس لیے کمزوری دکھاتی ہے کیونکہ مقتدرہ مذہب کو چیلنج نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ایسا کرنے سے سارا ریاستی ڈھانچہ ہی ڈگمگا کر رہ جائے گا۔ یہ دو تباہیوں میں سے کم خطرناک تباہی کا انتخاب کرنے جیسا ہے۔

کچھ معمولی تفصیلات دخل در معقولات ہیں۔ مثلا یہ کہ وزیر داخلہ کیسے یہ کہتے رہے کہ دھرنا دینے والی سیاسی جماعت کو انہوں نے کالعدم نہیں کیا حالانکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مذکورہ جماعت کو انہوں نے کالعدم تو کیا مگر غیر کالعدم انہوں نے نہیں کیا۔ کیسے وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں فرمایا کہ مذکورہ جماعت سے دہشتگرد گروہ کی طرح نمٹا جائے گا۔ کیسے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اگر فوج کو پنجاب میں بلانا ہے تو فوج ہتھیاروں سمیت آئے گی۔

کچھ مزید نامعقولات میں دو درجن علماء کا اچانک اسلام آباد میں ظہور بھی شامل ہے۔ ایک معزول مفتی کا ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ مقتدرہ سے ملاقات کرنا بھی اور ایک مولانا کا مذاکرات کے متعلق کہنا کہ یہ ایک ہزار فیصد آرمی چیف کی وجہ سے ہوئے ہیں، بھی ناگفتنی ہے۔ میر مذاکرات مفتی صاحب کا یہ انکشاف کہ مذکورہ سیاسی جماعت نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا مرے پر سو درے ہیں۔ ویسے بھی اب چونکہ دھرنا ختم ہو چکا ہے تو یہ سوال بنتا ہے کہ کیا فرانس سے تعلقات منقطع کرنے سمیت مذہبی مقاصد پورے ہو چکے ہیں؟ چونکہ ابھی تک فرانسیسی سفارت خانہ کھلا ہے، اس لیے یہ الجھن اپنی جگہ برقرار ہے کہ پھر وہ آخر کون سے مقاصد تھے جن کے حصول پر دھرنا ختم کیا گیا ہے۔

اعتراضات برطرف، جی ٹی روڈ کو بند کرنے، نفرت انگیز سیاسی مہم کے لیے دیدہ دلیری سے مذہب کا نام استعمال کرنے اور عوام کو قتل و زخمی کرنے کی خدمت کے عوض مذکورہ سیاسی جماعت کو آئینی و قانونی سیاسی جماعت قرار دے دیا گیا ہے۔ اس جماعت پہ عائد نمائشی پابندیاں، اس جماعت کو کبھی بھی تحلیل نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے لیے سیاسی حکومت کبھی ہمت ہی جمع نہیں کر پائی، بھی ہٹا لی گئیں ہیں اور تشدد و دہشت پھیلانے والے افراد کو باعزت رہا کر دیا گیا ہے۔ ناصرف یہ بلکہ اہم سیاسی جماعتیں اس مذہبی سیاسی جماعت سے انتخابی اتحاد کے لیے بھی پر تول رہی ہیں۔

اس پس منظر میں ایک اور کالعدم جماعت، سپاہ صحابہ پاکستان نے بھی خود پہ عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے، بصورت دیگر، ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ لندن نے بھی حکومت سے پوچھا ہے کہ اگر بھارت سے فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت سے پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں تو پھر ہمارا کیا قصور ہے؟ یہ کیڑا بھی اذہان میں کلبلا رہا ہے کہ اگر اس سیاسی جماعت سے ’قوم کے وسیع تر مفاد‘ میں مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پھر بلوچ شورش پسندوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا بھی تو کوئی پرامن حل ہو گا ہی نا۔

پچھلے کچھ عرصے سے حکومت پاکستان، طالبان رہنما سراج الدین حقانی کی ثالثی میں تحریک طالبان پاکستان سے افغانستان کے شہر خوست میں خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے ’جذبہ خیر سگالی‘ کے تحت تحریک طالبان پاکستان کی شرط پر 100 کے قریب طالبان جنگجوؤں کو بھی رہا کیا ہے۔ اگر اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو رہا کیا جاتا رہا تو یہ اندیشہ ہے کہ طالبان کہیں پاکستانی سڑکوں پر مونگ پھلی اور ابلے انڈے ہی نا بیچنے لگیں کیونکہ یہی کرنے کی تو انہوں نے پچھلے بیس سالوں میں تربیت لی ہے۔ نہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments