آئی ایم ایف، آئی ایم پاکستان!


گھر کے بھیدی جون پر کنز (John Perkins) کے اعترافات سے کون واقف نہیں جو انہوں نے 2004 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Confessions Of an Economic Hitman میں اپنی ہی لنکا ڈھاتے ہوئے کیے تھے۔ چونکا دینے والی حقیقتوں اور نام نہاد بڑی طاقتوں کے نظام کی گھناؤنی پرتیں کھولتی ہوئی ایسی ہی دس کتابوں کے رائٹر جون پر کنز نے 2016 میں پھر سے مزید اعترافات کی کہانی اپنی نئی کتاب ”The New Confessions of EHM“ میں بیان کی۔ یاد رہے کہ جون پرکنز کے انکشافات محض تجزیہ نہیں بلکہ مصنف خود تمام عمر اس معاشی نظام کا حصہ رہے ہیں جو غریب معیشتوں کو سدھارنے کے لیے امداد کی چمک دکھا کر ان کے اندھیروں کو مزید گہرا کرتا رہتا ہے اور وہ معصوم زیرلب منمناتے ہوئے اتنی سی گزارش کرنے کے قابل بھی نہیں رہ جاتے کہ؛

ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا!

چند جملوں میں سمیٹیں تو نیو یارک ٹائمز کی سب سے زیادہ بکنے والی فہرست میں اونچا مقام پانے والی ان دونوں کتابوں میں یہی اعتراف کیا گیا ہے کہ آئی، ایم، ایف یعنی ( International Monetary Fund) ، ورلڈ بینک اور USAID جیسے ادارے جو بظاہر ”تیسری دنیا“ کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے ان ملکوں کے گاڈ فادر بنتے ہیں اور قرضوں کے انبار لگا دیتے ہیں درحقیقت ان کا کردار ان سود خور مہاجنوں سے بھی زیادہ ظالم ہوتا ہے جو مجبور کسان کی بیٹی کی شادی پر تھوڑا سا پیسہ ادھار دیتے ہیں اور اس کے بدلے اس کی ذاتی زمین کو رہن رکھ لیتے ہیں۔

بس پھر جیسے تمام زندگی قرض دار کسان سود در سود ادائیگی بھی کرتا رہتا ہے اور اپنی زمین کی ملکیت بھی گنوا بیٹھتا ہے اسی طرح ان بین الاقوامی اداروں کے ہاتھوں غریب ممالک نسل در نسل سود چکاتے رہتے ہیں، اپنی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف کرتے ہیں باقی رقم ان اداروں کے حسب منشا بانٹ دی جاتی ہے حتی کہ سوشل سیکٹر پر خرچ کرنے کے لیے مونگ پھلی کے چھلکے ہیرہ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ قرض تاڑ کر ان ممالک کو دیے جاتے ہیں جہاں قدرتی اور معدنی وسائل کے ذخائر تو موجود ہوں لیکن مذکورہ ممالک کی کمزور معیشتیں ان وسائل کو استعمال میں لانے کی سکت نہ رکھتی ہوں۔

پھر ایک بار وہاں گھس گئے تو کون نکال سکتا ہے اور جاتا بھی کون ہے دلی کی گلیاں چھوڑ کر ۔ اب بات یہاں تک بھی ہو تو صبر آ جائے۔ لیکن جناب کہانی تو اب شروع ہوئی ہے۔ یہ قرض اپنی مرضی سے خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور قرض دیتے وقت بہت سخت شرائط بھی رکھی جاتی ہیں جن کو پورا کرنا کمزور معیشتوں کے بس میں نہیں ہوتا۔ قرض کی قسط چکانے کے لیے مزید ”مدد“ کے نام پر مزید ناقابل عمل شرائط لگاتے لگاتے آخر ایک دن غریب ملک کا پورا بجٹ ان اداروں کے ہاتھ آ جا تا ہے جسے وہ اپنی مرضی سے موم کی ناک کی طرح موڑ لیتے ہیں۔

پھر اگلا مقام تو سیاسی نظام میں دخل اندازی ہے جہاں جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابات میں مرضی کی حکومتوں کا چناؤ اور اپنے فائدے کی پالیسی بنوانا اور استعمال کرنا ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف جب کسی ملک کی حکومت سے معاہدہ کرتا ہے تو اپنی سخت شرائط منوانے کے لیے ظاہر ہے کہ اس کی ترجیح کمزور سیاسی نظام ہوتی ہے اور اگر بد قسمتی سے کوئی مضبوط جڑوں والا tough negotiator نکل آئے تو اسے نکال باہر کرنا کون سا جوئے شیر لانا ہے؟ ملکی طاقتوں کا نیٹ ورک اور ریڈی میڈ پریشر گروپس آخر کس لیے پالے ہوتے ہیں۔

جون پر کنز کے دعوے کے حساب سے اور ”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا“ کے مطابق دیکھ لیں کہ جتنے غریب ملکوں میں یہ ادارے امداد کا جھنڈا لے کر اترے ہیں، کسی ایک کی بھی معیشت بہتر نہیں ہوئی بلکہ بگڑتی ہی چلی گئی ہے یعنی ”مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی“

ان معاملات میں سمجھ بوجھ رکھنے والے معیشت دان اور فنانشل جرنلسٹ خوب سمجھتے ہیں کہ جب کسی غریب ملک میں کسی خاص پراجیکٹ کے لیے قرض دیا جاتا ہے تو شرائط کے طور پر اس پراجیکٹ کا سربراہ اور اسے چلانے والے خاص لوگ باہر سے ہی مسلط کیے جاتے ہیں جن کے بھاری بھرکم پیکیج کی ادائیگی منصوبے کی رقم سے ہی ادا کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک بڑی رقم پہلے ہی واپس ہتھیا لی جاتی ہے۔ پراجیکٹ میں اپنی مرضی کی فزیبلٹی بھی نہیں بنانے دی جاتی کہ کم خرچ طریقے استعمال کر کے منصوبے کو کامیابی کی راہ پہ ڈالا جا سکے۔

علاقائی وسائل کو استعمال میں لانے کے بجائے غیر ملکی خام مال کی درآمد پر زور دیا جاتا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ درآمدی مالکی قیمت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے جس سے پراجیکٹ کی مجموعی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر میں پراجیکٹ ہی کام کا نہیں رہتا۔ آئی ایم ایف کی مالی امداد کے نام پر کسے گئے جال کے شکار بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں۔ ورلڈ بینک ہو یا آئی ایم ایف، ناقابل عمل حد تک سخت شرائط نے معیشت کا ڈھانچہ ڈھیلا کر کے رکھ دیا ہے۔ ہر لحظہ جاری رہنے والی اس ان دیکھی جنگ میں ان کا سب سے بڑا ہتھیار ڈالر ہے۔ پاکستانی کرنسی چونکہ ڈالر سے منسلک ہے لہذا

زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور اہم معاشی اشاریوں میں کمزوری کا رجحان روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنتا چلا جا رہا ہے۔ ادھر روپیہ سستا ہوا ادھر سمجھیں ہر شے کی قیمت بیٹھے بیٹھے بڑھ گئی۔ عام آدمی کھڑے کھڑے مزید عام بلکہ عام العام ہوا چلا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ اثر پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی تو روزانہ کے استعمال کی ہر شے مہنگی۔ زیادہ دور نہیں پچھلے تین سال میں ڈالر کی اڑان نے کیا رنگ دکھایا ہے موازنہ کر لیں۔

130 سے 175 روپے فی ڈالر کے بعد پٹرول نوے سے ایک سو چھیالیس روپے فی لیٹر اور بجلی آٹھ روپے سے بائیس روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ خطے کے ممالک سے موازنہ کرتے وقت ان ملکوں کی جی ڈی پی اور فیکس آمدنی سے موازنہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور گھبرانے سے پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے ویسے اب بات گھبرانے کی رہ بھی نہیں گئی، مر جانے تک آ گئی ہے۔

آئی ایم ایف جیسے بڑے اداروں کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ ملکی منصوبوں کے لیے مجال ہے کوئی مقامی خام مال لگانے دیں، پاکستان میں تھرمل بجلی کے مہنگے منصوبے ہی چلتے ہیں جس میں فرنس آئل مہنگے داموں درآمد کرنا پڑتا ہے حالانکہ پہاڑی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر سستی بجلی پیدا کی جا سکتی تھی جس کے ہزاروں موقع ضائع کر دیے گئے۔ سب سے سستی اور ماحول دوست بجلی ہائیڈل پاور ہے لیکن ایسی تمام تجاویز کو رد کر دیا جاتا رہا ہے جن میں ہائیڈل کا ذکر ہو۔

بھلے ہر سال سیلاب میں پانی ضائع ہوتا رہے۔ کچھ سال پہلے ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ خاص طور پر دینا چاہوں گی جس میں اعتراض کیا گیا تھا کہ ڈیم بننے سے مقامی لوگوں کی سائیکی پہ برا اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ علاقے کا حدود اربعہ بدلنے سے disorientation کا شکار ہو جاتے ہیں، مزید یہ کہ وہاں کی آبی حیات کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ”ڈڈو، مچھیوں“ کی نسلیں معدوم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ سوچیے کہ فرنس آئل بیچنے کے لیے کیسی کیسی دور کی کوڑی بلکہ پھوٹی کوڑی لائی جاتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ خود امریکہ میں چھوٹے چھوٹے ہزاروں ڈیم موجود ہیں جو سستی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جناب! آئی ایم ایف کا تو کام ہی ہے قرض دینا لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ آئی ایم ایف اندھا دھند قرضے دیے چلا جائے، یہ سلسلہ نازک وقت پہ روک دیا جاتا ہے اس کے بعد جب آپ قرضوں کے انبار میں دب جائیں اور سود کی رقم چکانے کے لیے سانس بھر ادائیگی بھی نہ کر سکیں تو تھوڑی سی Bailout Package کی آکسیجن بحال کر دی جاتی ہے کہ مریض جاں سے ہی نہ گزر جائے اور گلشن کا کاروبار رک ہی نہ جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments