بادشاہ سلامت عمران خان کا انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان کے ریلیف پیکج کے تباہ کن اثرات ابھی زائل ہی نہیں ہوئے تھے کہ اس مہینے کی پندرہ سے پھر پیٹرول کی قیمتیں 11 روپے فی لیٹر بڑھانے کی سمری سامنے آ گئی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی ہے۔ دودھ 140 اور دہی 220 روپے تک تو پہنچ ہی چکی ہے، چینی بھی 140 روپے سے 160 روپے میں مل رہی ہے۔ گزشتہ دنوں کہیں وٹس ایپ پر ایک قصہ پڑھ رہا تھا کہ ایک بادشاہ کے دربار میں ایک مجرم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ جلاد نے کہا کہ مجرم کی گردن موٹی ہے اور ہمارا پھندا چھوٹا ہے اس پر بادشاہ نے بڑے متفکرانہ انداز میں پوچھا یہ جو مجرم کے برابر والا شخص کھڑا ہے کیا اس کی پتلی گردن اس میں فٹ آ جائے گی؟ جلاد نے جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بالکل فٹ آ جائے گی۔ بادشاہ سلامت نے اسی وقت حکم صادر کیا کہ اس پتلی گردن والے کو پھانسی چڑھا دو۔

کچھ یہی حال ہمارے بادشاہ سلامت کم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اب وزیر اعظم صاحب کے حالیہ ریلیف پیکج میں کیے گئے خطاب نما بھاشن کو ہی دیکھ لیجیے۔ وزیراعظم صاحب نے اس دفعہ خطے سے نکل کر یورپی اور امریکی ریاستوں کا موازنہ پاکستان سے کیا۔ چلو ان کا شکریہ کہ ہمیں خطہ نامہ کے بے تکے اور بورنگ بھاشن سے فرصت ملی۔ خان صاحب کے خطاب میں سب سے مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ اگر دو خاندان لوٹی ہوئی دولت میں سے نصف بھی پاکستان لے آئیں تو وہ مہنگائی آدھی کم کر دیں گے۔ وزیر اعظم صاحب اس کا تو یہی مطلب ہوا کہ ان دونوں خاندانوں کے نام پر ہماری غربت اور فاقوں کے ہاتھوں پتلی ہوتی گردنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شوگر مل تو کسی عام آدمی کی نہیں ہے نہ ہی کوئی فلور مل، نہ ہی کرنسی ایکسچینج آج کل عام آدمی کے بس کی بات ہے۔ بلکہ آج کل تو ایک عام پاکستانی کی اتنا بھی اوقات نہیں ہے کہ وہ دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرسکے۔ تو محترم عمران خان صاحب ان دو خاندانوں یا کسی شوگر، آٹا، پیٹرول مافیا کا نزلہ کیوں عام آدمی پر گراتے ہیں آپ؟ کیا ہم نے آپ کے ہاتھ پکڑے ہیں کہ آپ کسی مافیا کے خلاف کارروائی نہ کریں؟ کیا کسی عام آدمی نے آ کر آپ کی کسی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی ہے؟ پھر ایسا کیوں ہے کہ ہر قسم کے مافیا کی ڈالی گئی کارروائی کا نزلہ ہم پر پڑتا ہے؟

آپ تو ایسے نا اہل ہیں کہ آپ کے دور حکومت میں ڈینگی کے مرض نے لاہور میں ایسے سائے ڈالے ہیں جیسے آپ کے ملکی معیشت پر سائے پڑے ہیں۔ اب تو یہ حال ہے کہ لاہور کی بڑی بڑی فارمیسیوں اور میڈیکل سٹوروں پر پیناڈول جیسی گولی بھی نایاب ہے۔ کیا کسی نے ایسا سوچا ہو گا کہ پیناڈول جیسی گولی بھی نایاب ہو جائے گی؟ میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا کبھی ایسا وقت نہیں دیکھا۔ مگر کیونکہ یہ خان صاحب کی ایماندار اور محنتی کابینہ اور ان کے پنجاب پر نازل کیے گئے وزیراعلی اور ان کی کابینہ کی برکات ہیں کہ آج لاہور کے شہری پیناڈول کی گولی کے لئے بھی مارے مارے پھر رہے ہیں۔

آپ کی گورننس کا اس سے برا کیا حال ہو سکتا ہے؟ لاہور مسلسل سموگ کی زد میں ہے، اوپر سے ڈینگی کا بخار، جو ڈینگی سے بچ رہا ہے وہ سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں اور نزلہ، زکام کا شکار ہو کر بخار میں مبتلا ہو رہا ہے۔ خان صاحب قوم کے ساتھ گھناؤنے مذاق چھوڑیں، آپ تو ہمارے ہیرو تھے۔ کیوں نہ مستعفی ہو کر باعزت طور پر اقتدار سے الگ ہوجائیں۔ آپ کی عزت بھی رہ جائے گی، ہمیں بھی سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔

اور ہاں خان صاحب بجائے پتلی گردنیں دیکھنے کے اپنا پھندا کھلا کروائیں۔ تاکہ آپ کا یہ پھندا آپ کے ارد گرد بیٹھے مافیا کی گردنوں میں فٹ آ سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments