آواران آگے بڑھتا ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: زبیدہ مصطفیٰ
انگریزی سے ترجمہ: شبیر رخشانی

16 اکتوبر بلوچستان کی تاریخ میں ایک یادگار دن تھا جب لنجار کے ٹیچر نے سکول کے اوقات کار کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کو جمع کر کے بلوچی لینگویج کلاس کا آغاز کیا۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس میں ایسا کیا خاص ہے جس کا جشن منایا جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ سے اس کا زبان چھینا جا چکا ہے۔ عرصہ دراز سے یہ فسانہ گڑھا جا چکا ہے کہ بلوچی زبان جس کی کوئی ادبی روایات موجود نہیں صرف بول چال تک محدود ہے۔ مگر اسکالر سید ظہور شاہ ہاشمی اور پروفیسر صبا دشتیاری کی کوشش اور کاوشوں نے اس تاثر کو غلط ثابت کیا۔ اب اس حوالے سے ہم سب باخبر ہیں۔

ابھی تک حکومت یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ زبان لوگوں کی سماجی، ثقافتی اور تعلیمی ترقی میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے بلوچی کی طرح براہوی اور پشتو زبان نظرانداز ہوتی چلی آ رہی ہے۔ وہ بلوچ بچہ جو اپنی زبان میں پڑھ کر علمی صلاحیتوں کا لوہا بہتر انداز میں منوا سکتا ہے یہ سہولت چھین کر انہیں علمی فیض سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بچے کو اردو میں اس لیے پڑھایا جاتا ہے کہ یہ سکول کا تدریسی زبان ہے اور بچے اس کے برعکس اردو زبان سے ناآشنا ہو کر سیکھنے کے عمل میں حصہ لینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تضاد حصول علم کو ان کے لیے مشکل بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے بھر کی تعلیمی اداروں میں داخلے کی شرح کم جب کہ ڈراپ آؤٹ ریشو زیادہ ہے۔

اس پژمردہ صورتحال میں لنجار میں لینگویج کلاسز کا آغاز معصوم بچوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس عمل کے پیچھے ایک 36 سالہ نوجوان کا جذبہ کارفرما ہے جسے پانچ سال کی عمر میں اپنا گاؤں چھوڑ کر ہمسایہ علاقہ اس لیے منتقل ہونا پڑا کہ گاؤں میں سکول دستیاب نہیں تھا۔ یہ تکلیف دہ تجربہ اس پر نفسیاتی طور پر اثرانداز ہوا۔ کوئی بچہ اس کی طرح سکول کی عدم دستیابی کے سبب گھر بار چھوڑنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ اسی سوچ نے اسے تعلیمی میدان میں متحرک بنایا۔ ایجوکیشن ایکٹویسٹ کا نام شبیر رخشانی ہے جسے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کراچی جانا پڑا۔ بلوچستان واپسی پر اس نے سکولوں کی فعالیت کے لیے مہم چلائی۔

شبیر کے اس جذبہ نے اسے لائبریریز کھولنے اور کتابی میلہ منعقد کرانے پر آمادہ کیا۔ مگر بچوں کی کتابیں جو لاہور اور کراچی سے منگوائی گئیں اردو زبان میں تھیں اور ان کتابوں سے صرف سینیئر طالبعلم ہی استفادہ کر سکے۔ پرائمری سطح کے طلبہ ان کتابوں کی چاشنی سے محروم رہے جن کی چاشنی انہیں لوک داستانوں اور ثقافتی کتابوں میں نظر آتی ہے۔ بلوچی زبان کی کتابیں اس لیے دستیاب نہیں ہوتیں کہ ان کے پڑھنے والے موجود نہیں۔ جواز یہ پیش کیا جاتا رہا کہ بچے بلوچی پڑھ نہیں سکتے۔

اسی سوچ و فکر نے شبیر کو بلوچی کلاس کے آغاز کے لیے آمادہ کیا۔ پروفیسر صبا دشتیاری نے لیاری اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بلوچی لینگویج منصوبے کا آغاز کیا۔ مگر 2011 میں صبا دشتیاری کے قتل کے ساتھ ہی یہ منصوبہ ختم ہوا۔ شبیر کا حالیہ تجربہ کامیاب اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ بغیر کسی تاخیر کے اس نے جراتمندانہ قدم اٹھایا۔ اس نے نصاب کی منصوبہ بندی اور کتابوں کی لکھائی پر وقت ضائع نہیں کیا۔ اس کام کو ابتدا فراہم کرنے کے لیے اس کے پاس جو چیز دستیاب تھا وہ تھا اس کا احساس و جذبہ، لوگوں کا علمی خزانہ اور ان کی ثقافت اور بچوں کے لیے اس کی محبت۔ ایک تختہ سفید، ایک مارکر، بلوچی میں اس کی ذاتی صلاحیتوں (کم معلومات، جس کا وہ اعتراف بھی کرتے ہیں ) اور تعلیمی جذبہ یہ وہ عوامل تھے جنہوں نے اس کام کو آغاز فراہم کیا۔

اسے یقین ہے کہ اضافی مطالعے کے مواد کے بطور بلوچی کتابیں شامل ہوں گی

حال ہی میں اردو قارئین کے لیے جو کتابیں میں نے بھیجی تھیں اس نے کتابوں میں معمولی ردو بدل کر کے ان پر سفید کاغذ چسپاں کیا گیا اور ان کا ترجمہ ناموں کی تبدیلی کے ساتھ بلوچی میں کیا۔ شبیر پر امید ہے کہ بلوچی اکیڈمی اس خلا کو پر کرنے کے لیے کردار ادا کرے گی۔

بلوچستان میں لسانیات کی دو طرفہ تقسیم کا ردعمل ہے جو شبیر نے دیا ہے ان بچوں کے لیے جو بلوچی بول اور سمجھ سکتے ہیں مگر لکھ اور پڑھ نہیں سکتے۔ یہ بچے اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں اس وقت تک جب تک وہ بالائی کلاسز تک رسائی حاصل نہ کریں۔

شبیر اپنے اس تدریسی طریقہ کار سے کافی پرجوش دکھائی دیتے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ اس طریقہ کار سے بچوں میں سیکھنے کا رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ آغاز میں کلاس طلبہ کی تعداد سترہ تھی دو ہفتے بعد یہ تعداد بڑھ کر 42 ہو گئی ہے۔ دوسرے سکولوں کے ساتھی بھی اس طریقہ کار کو اپنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

شبیر محسوس کرتا ہے کہ وہ دوران کلاس بچوں سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ اس کا طریقہ کار کلاس کو متحرک اور جاندار بنانا ہے۔ کیوں نہ ہو آخر کلاس روم کی زبان بلوچی ہے۔

شبیر کی سحر انگیز تجربے نے بچوں کے سیکھنے کے عمل پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ اس سے قبل صبح کے درمیانی اوقات میں بچوں کی دلچسپی پڑھائی کی طرف کم ہونی شروع ہو جاتی تھی۔ چہرے پر غنودگی طاری ہوجاتی اور وہ اونگھنے لگتے تھے۔ جب سے اس نے لینگویج کلاس کا آغاز کیا ہے بچوں کی دلچسپی سکول ٹائم کے آخر تک برقرار رہتی ہے اور وہ کلاس میں شرکت کرنے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ وہ اپنے سبق کے ساتھ مصروف ہیں اور جو کچھ انہوں نے پڑھا ہے اس کو ڈرائنگ کی شکل دینے میں سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔

میں نے شبیر سے سوال کیا کہ ”ایک قومی نصاب“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو اس کا جواب تھا ”یہ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا، غیر متعلق ہے جیسے کہ سابقہ نصابیات“ ۔ اس نے سوال اٹھایا ”نصاب کو بناتے وقت حکومت ہم اساتذہ سے رائے کیوں نہیں لیتی اور ہم سے بہتر بھلا کون جانتا ہے کہ بچے کے لیے کیا صحیح ہے؟“

بشکریہ: روزنامہ ڈان


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments