قصہ گو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اصل بات یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جب قافلے پڑاؤ ڈالتے تھے تو سرائے خانوں میں کچھ قصہ گو ہوا کرتے تھے۔ جو اپنی چرب زبانی سے لوگوں کا دل بہلایا کرتے تھے۔ زمانہ بدلا تو اصطلاح بھی بدل گئی۔ ان قصہ گوان کہانی کاروں کو اب ادیب، قلم کار کہا جاتا ہے۔ “ کر یمن اپنی کہہ چکنے کے بعد ہماری جانب متوجہ ہوئی۔ ”کیوں صحیح کہ رہے ہیں ناں ہم“ ہم جانتے تھے کہ وہ اپنی رائے سے اختلاف پسند نہیں کرتی۔ سو یہی سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ ”ان لوگوں کا کوئی تعمیری کردار نہ تھا۔ وہ تو محض لوگوں کا دل بہلانے کو بلائے جاتے تھے۔ اور بادشاہ و رؤساء کے یہاں سے مانگ بھر معاوضہ بھی پاتے تھے۔“ کر یمن نے پھر ایک جتلاتی نگاہ ہم پر ڈالی۔

”کیوں؟ صحیح کہ رہے ہیں ناں ہم؟“
”ہوں۔ کسی قدر“ ہم نے کہا تو وہ مطمئن ہو کر مسکرا دی۔

سروتے سے کٹر کٹر چھالیاں کاٹتے پھانکتے وہ اب اٹھ کر پلو پر گرے ذرات کو جھاڑنے لگی۔ ”ہم نے سنا تم بھی یہی کرو ہو“ اس نے اب براہ راست ہم پر حملہ کیا۔

”ہوں۔ کسی قدر“ جو اب حسب توقع جواب نہ پاکر تو جیسے اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ اس کی اتاؤلی فطرت سے ہم بخوبی واقف تھے۔ ذرا سی بحث کو موضوع بنا کر بڑے بڑے جھگڑے کیا کرتی تھی۔

” ہاں یہ تو کام تو خاصا معیوب لگتا ہے۔ نہیں“ اب اس نے تائید چاہی۔ ”کبھی اخبار کھولا ہے؟ وہاں لکھنے والے کیسے اتنے سے قصے کو ہوا دے کر بات کا بتنگڑ بنا ڈالتے ہیں۔ اور ہم نے تو یہ تک سنا کہ وہ سرکار سے اس کا معاوضہ بھی لیتے ہیں۔“

”اخبار تو کھولا ہے۔ لیکن ہماری نظر ذرا کمزور ہے۔ تمہارے مثل عمیق نگاہی میسر آئے تو ہم بھی دیکھ سکیں کہ کون کیا دیتا ہے اور کیا پاتا ہے“ ہم نے دامن بچایا۔

”طنز کرو ہو؟“ وہ بگڑی۔
”ہماری مجال“ ہم نے دونوں ہاتھوں سے دونوں کانوں کو چھوا۔ وہ مطمئن پلٹ گئی۔
اری او کریمن۔ اے کر یمن کہاں رہ گئی تو ؟ ”نسیمن دوڑتی ہوئی آئی۔

”اے ہے۔ کیا ہوا۔ کاہے کو ایسی بولائی پھرتی ہو؟ ذرا دم تو لو“ نسیمن کو ہانپتا دیکھ کر کریمن منہ بنا کر بولی۔ نسیمن دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر پلنگ پر بیٹھ کر ہانپنے لگی۔ ”اری وہ ہے ناں۔ کرامت کی ساس۔ کیا نام ہے اس نگوڑی کا ؟ ہاں۔ سلطانہ۔ ہائے خدا غارت کرے اس نگوڑی کو ۔ ہماری پھول سی بہن کو ایسا پٹوایا۔ کہ محلے والوں نے آ کر چھڑایا۔“ کر یمن نے بہن کی داستان الم سن کر منہ پر ہاتھ رکھا۔

”ہائیں۔ ارے چلو ساس تو تھی ہی ایسی پیر جلی۔ لیکن میاں کی عقل کیوں ماری گئی تھی؟ اسے نہ نظر آتا تھا کہ اس کی ماں غلط بیانی کرتی ہے۔ جیسی کوکو ویسی کو کو کے بچے۔ وہ بھی ماں کا پرتو نکلا ہائے ہماری بہن کے نصیب۔“ کر یمن سینہ کوبی میں مصروف اور نسیمن اشک شوئی میں۔ اور ایک ہم تھے کہ ٹکر ٹکر ان دونوں کا منہ دیکھتے جاتے تھے۔

کچھ پل یہی منظر چلا۔ پھر کچھ یاد آنے پر کر یمن ہماری طرف دیکھ کر بولی۔

”ہم تو بھول ہی گئے۔ تم بھی تو ان کی ہم دیوار ہو۔ تمہیں اصل بات معلوم ہوگی۔ سب سچ سچ بتاؤ کیا ہوا تھا؟“ کرامت کے میاں انوار علی اچھے انسان تھے۔ مار پیٹ ان کی سرشت میں نہ تھی۔ ہمسائے تھے۔ اور ہماری سہیلی کے بہنوئی بھی۔ ان کی والدہ سے اماں کے برسوں کے مراسم تھے۔ سو ان کے طور اطوار و مزاج اچھے سے معلوم تھے۔

”ہم تو کہہ دیں۔ جو اصل ہے۔ لیکن کیا ہو اگر کوئی ایمان نہ لائے تو ؟“ ہم نے کہا۔
”یہ کیا کہی؟ تم کہو اور ہم ایمان نہ لاویں؟“

”تو سنو۔ بات کچھ یوں تھی کہ کرامت بی کی ساس جو کہ ایک نہایت وضع دار اور خوش مزاج خاتون ہیں۔ ان کی یہ بات کہ انھوں نے بیٹے کے سامنے بہو کی اس بات کی تائید نہیں کی۔ جو وہ میاں سے منوانا چاہتی تھی پر بی کرامت پہلے ہی خار کھائے ہوئے تھیں۔ اب ان جوڑوں کا قصہ تو تمہیں معلوم ہے ناں؟ جن کے متعلق انوار بھائی نے کرامت کو کہہ دیا تھا کہ وہ اسے مہینے کے اوائل دنوں میں لے دیں گے۔ لیکن پچھلے دو تین ماہ سے وہ مسلسل ٹرخائے چلے جا رہے تھے۔

دونوں ساس بہو کے بیچ طے یہ پایا تھا کہ وہ اپنا مشترکہ معاہدہ انوار علی سے اس طرح سے منوائیں گی کہ ایک ساتھ اس معاہدے کی یاددہانی کروائیں گی۔ لیکن ہوا یہ کہ انوار علی جن کا والٹ کسی عاقبت نا اندیش سڑک چھاپ نے راہ چلتے چھین لیا۔ وہ جب گھر لوٹے تو یہ دونوں ساس بہو ایک محاذ کیے اپنی منوانی کی ٹھانے راہداری میں کھڑی تھیں۔ ماں نے پریشان خاطر بیٹے کو دیکھا تو اپنی بات دبا گئی۔ لیکن کرامت ابھی بھی اپنے مطالبے کی تکرار کیے جاتی تھی۔

ساس نے لاکھ اشاروں کنایوں میں سمجھایا کہ انوار علی کا مزاج برہم ہے۔ تم چپکی رہو۔ لیکن وہ سن کے نہ دیتی تھی۔ ہوا وہی جس کا اندیشہ تھا۔ انوار علی جو غصے میں بولے۔ تو بی کر یمن بھی لحاظ بھول گئیں۔ پھر کیا تھا؟ آسماں نے ورطۂ حیرت میں وہ سب دیکھا جو دیکھنے جیسا نہ تھا۔ انوار علی جو کبھی اونچی آواز میں بھی بات نہ کرتے تھے۔ ان کی دھاڑ سن کر کرامت بی پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔ اور ان کے واویلے پر اہل محلہ بھی متوجہ ہوئے۔ انوار علی کو ان کی ماں نے بے نکت سنائیں۔ لیکن سبھاؤ سے۔ “ کریمن کو شبہ گزرا کہ ہمیں اپنی ہم دیوار کرامت کی ساس سے زیادہ ہمدردی ہے تو فوراً بولی۔

”ہاں بھئی بیٹا جو تھا۔ کھری کھری سنانی چاہیے تھیں۔ لیکن نہیں۔“

”ایسا نہیں۔ انوار علی کی ساری جمع پونجی لٹ گئی تھی۔ ایسی بے بسی میں کسی کا مشتعل ہونا فطری سی بات ہے۔ “ اب نسیمن نے ہمیں گھورا۔ اور پہلو بدل کر بولی۔

کرامت کو اپنے میاں پر غصہ نہیں۔ اس کی ساس پر غصہ ہے۔ جس نے پہلے تو منصوبے سے ہٹ کر اسے زک پہنچائی اور پھر جب معاملہ رفع دفع ہوا تو لگی منہ چڑانے ”

” بس کیجیے۔ ایسا کچھ نہیں۔ کرامت بی کو مغالطہ لگا۔ ان کی ساس کا چہرہ جو لقوے کی وجہ سے ٹیڑھ پن کا شکار تھا۔ ان کی مسکراہٹ سے لگا کہ وہ منہ چڑا رہی ہیں۔ بھئی جب کرامت بی نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ ساس ہی سارے فساد کی جڑ ہے۔ تو عام فہم سی بات ہے اسے ساس کی مسکراہٹ بھی منہ چڑانے جیسی لگی ہوگی“ کر یمن اب کے چپ ہو رہی۔ پھر ہم نے آنکھ دبا کر نسیمن سے کہا ”اور یہ جو پٹوانے کی تم نے بات کہی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی رائی کا پہاڑ بنا کر اخبار میں خبر لگا دے۔ فلاں نے فلاں کو یوں کر دیا۔ ویسے کیا مبالغہ آرائی ہے۔ ہم تو مشورہ دیں گے کہ اخبار لکھا کریں۔ “ وہ بے اختیار ہنسی۔

”کہتی تو تم سچ ہو۔ کرامت بی کی ساس کے منہ سے میں نے کبھی بہو کی بدخوئی نہیں سنی۔ کرامت کو سمجھنے میں کوتاہی ہوئی“ اب نسیمن اور کر یمن دونوں خاموش بیٹھی تھیں۔ یوں جیسے سپاہی جنگ سے تائب ہو کر ہتھیار پھینک کر بیٹھتے ہیں۔ ”سوچو اگر تم نہ کہتیں تو ہم دونوں اس وقت کرامت بی کے گھر واویلا کر رہے ہوتے اور محلے والوں کو دیکھنے کے لیے ایک نیا ڈرامہ مل جاتا۔ ویسے سوچنے والی بات ہے۔ گھر انھی چھوٹی چھوٹی صحافیانہ قسم کی باتوں سے بگڑتے ہوں گے۔ شاید اسے ہی گھریلو سیاست کہتے ہیں۔ جس گھر میں رشتوں میں سیاست آ جائے تو اس گھر کا حال ریاست جیسا ہوتا ہو گا۔ جہاں ایک طبقہ ہمیشہ پستا ہے اور دوسرا ان کے حقوق کی لاشوں پر عیش کرتا ہے۔“ کر یمن بلا کی ذہین تھی۔ ہم اس کی قوت تجریدی کو سراہے بغیر نہ رہ سکے۔

” پرانے زمانے میں جب داستان گو دل لبھانے کو کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ انھی سرائیوں میں مخبر بھی ہوا کرتے تھے۔ جو جنگوں کی منصوبہ بندیوں میں اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ ہم زیادہ کچھ تو نہیں جانتے۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ادبی داستان گوئی اور خبر کہنے میں کچھ ایسا ہی فرق ہوتا ہو گا۔

ہاں نہ ہو گا ادب کا کوئی ملکی ترقی میں تعمیری کردار۔ لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ ثقافت و ریاست کو بنائے رکھنے میں ان کا کوئی تخریبی کردار نہیں ”


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments