اولڈ ایج ہوم کے مسائل کا ممکنہ حل؟

ہم جب عمر بھر کی تھکان لیے ایک ایسی عمر میں داخل ہو جاتے ہیں جس کے لیے ہم نے سوچ رکھا ہوتا ہے کہ اس عمر میں کوئی کام دھندا نہیں کوئی فکر و فاقہ نہیں۔ اولاد اپنے پیروں پر کھڑی ہے (خودکفیل ہے ) سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔ تو ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیں اس عمر میں جی بھر کے جینا چاہیے لیکن ایسے میں اگر پارٹنر ساتھ چھوڑ جائے، جوان اولاد اپنی زندگیوں

Read more

ودرنگ ہائیٹس

ایملی برونٹے کا ناول ”ودرنگ ہائیٹس“ ایک شاہکار ناول ہے۔ جو کہ 1847 میں مس کاٹلی نیوبی پبلشرز لندن سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔ ایملی برونٹے برطانوی مصنفہ ”شارلٹ برونٹے“ (جن کی شہرہ آفاق تصنیف ”جین آئر“ ہے ) کی بہن تھیں۔ ایملی برونٹے، شارلٹ برونٹے اور این برونٹے تینوں نہ صرف بہنیں تھیں بلکہ لکھاری بھی تھیں۔ وودرنگ ہائیٹس کی اشاعت کے 92 برس بعد 1939 میں اس پر فلم بنائی گئی۔ جسے 1940 کے آسکر ایوارڈز میں

Read more

بچیوں کے لئے بامعنی اور باشعور زندگی کی ضرورت

پچھلے سال ایک عزیزہ کی شادی اپنے ہی خاندان میں ان کی اماں کی ضد پر خالہ کے ہاں طے ہوئی۔ شادی سے پہلے یہ طے پایا کہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ماسٹرز کے لیے آسٹریلیا جائے گی۔ شادی ہو گئی۔ جب آسٹریلیا جانے کی باری آئی تو میاں کو یاد آیا کہ جب پاکستان میں بھی ماسٹرز ہوجاتا ہے۔ تو آسٹریلیا کیوں جانا؟ ساس نے یاد دلایا کہ غیر ملکوں میں جاکر لڑکیاں کس طرح ہاتھوں سے نکل

Read more

قصہ گو

”اصل بات یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جب قافلے پڑاؤ ڈالتے تھے تو سرائے خانوں میں کچھ قصہ گو ہوا کرتے تھے۔ جو اپنی چرب زبانی سے لوگوں کا دل بہلایا کرتے تھے۔ زمانہ بدلا تو اصطلاح بھی بدل گئی۔ ان قصہ گوان کہانی کاروں کو اب ادیب، قلم کار کہا جاتا ہے۔ “ کر یمن اپنی کہہ چکنے کے بعد ہماری جانب متوجہ ہوئی۔ ”کیوں صحیح کہ رہے ہیں ناں ہم“ ہم جانتے تھے کہ وہ اپنی رائے سے اختلاف پسند نہیں کرتی۔ سو یہی سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ ”ان لوگوں کا کوئی تعمیری کردار نہ تھا۔ وہ تو محض لوگوں کا دل بہلانے کو بلائے جاتے تھے۔ اور بادشاہ و رؤساء کے یہاں سے مانگ بھر معاوضہ بھی پاتے تھے۔“ کر یمن نے پھر ایک جتلاتی نگاہ ہم پر ڈالی۔

Read more

میں اور خدا

اس پر ایمان لانا میری مجبوری ہے۔ وہ میری محنت کا کچھ حصہ اپنے پاس ادھار رکھتا ہے۔ میں جب سرتوڑ کوشش کروں تو نتیجہ امید سے گھٹا کر اور کچھ محنتوں پر میرے استحقاق سے بڑھا کر دیتا ہے۔ اب ایسی ہستی جس کی طرف آپ کا حساب کتاب (خصوصاً ادھار) نکلتا ہو۔ اسے کیسے نہ مانیں؟ کوئی تیسری بار میں نے مولانا صاحب کے سامنے رکھے اس طشت کو دیکھا جس میں مٹھائی رکھی تھی۔ وہ اور ساری

Read more

ہم لکھاری دنیا کو کیا دے رہے ہیں؟

پنجم (ففتھ) کے سالانہ امتحان سے فراغت کے بعد ، گھر میں رکھی ایک پرانی کتاب پڑھی، جس کا عنوان تھا ”قیامت کب آئے گی؟“ اور سب ٹائٹل تھا ”قیامت کی ہولناکیاں“ ” پڑھ کر دل و دماغ بڑے عجیب خوف سے بھر گیا۔ قیامت آئے گی۔ سب مر جائیں گے۔ اچھے بھی۔ برے بھی۔ لیکن ان کے درمیان انفرادیت بھی تو ہوگی کوئی؟ نہیں؟ سب مریں گے۔ ٹھیک ہو گیا۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ ایک شخص

Read more

کتاب چور

وہ کن اکھیوں سے گرد و نواح کا جائزہ لیتے ہوئے، بلی کی طرح دبے پاؤں بک شیلف کی طرف بڑھی۔ بناء آواز پیدا کیے ، شیلف پر ہاتھ مارا، مطلوبہ شے اٹھا کر اپنے تھیلے نما بیگ میں ڈالی اور جس خاموشی سے آئی تھی واپس اسی خاموشی سے لکڑی کی سیڑھیاں اور اپنے کمرے کی کھڑکی پھلانگ کر اپنے اصل مقام پر پہنچ گئی۔ وہ ایسی وارداتوں کے بعد ، ”مال غنیمت“ کی تسلی کرنے میں وقت ضائع

Read more

میں اور شیطان

وہ میرا ہم عصر و ہم نوا۔ میرے آباء کے زمانے کی آخری، ”غیر تبدیل شدہ“ نشانی ہے۔ اس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں، اس کے وجود سے انکار، اس کی چالوں سے فرار ممکن نہیں۔ میرے اور میرے آباء کے بہت سے راز اس کے پاس محفوظ ہیں۔ ایسا شخص جو آپ کے متعلق سب کچھ جانتا ہو، اسے یا تو آپ کا دوست ہونا چاہیے یا پھر ہونا ہی نہیں چاہیے۔ گو کہ میں آخر الاذکر کلیے

Read more

تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچہ

وہ آنکھیں بند کر کے کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹی ہی تھی کہ دروازہ زور زور سے دھڑ دھڑایا۔ اس نے ہڑبڑا کر دروازہ کھولا۔ ”مس گل کیا آپ نے ولی بخت کو کہیں دیکھا ہے؟ ولی بخت کو تو جانتی ہیں ناں آپ؟ اسکول کے سب سے بڑی فنانسر، عثمان بخت کا بیٹا۔ پونے بارہ ہونے کو آئے ہیں وہ نہ تو اسکول گیا ہے نہ ہی ہاسٹل میں کہیں ہے۔ بلڈنگ کا کونا کونا چھان مارا

Read more

بھلکڑ

اس نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے تیسری بار سوچا، وہ کہیں کچھ بھول تو نہیں آیا؟ اس کا آفس بیگ اس کے پاس تھا، موبائل و وائلٹ اس کی پاکٹ میں تھا۔ نہیں! وہ کچھ نہیں بھول رہا تھا۔ اس نے خود کو اطمینان دلایا۔ گاڑی پارکنگ سے نکال کر وہ روڈ پر لایا تو اسے یاد آیا۔ آج باس نے اسے ایک گھنٹہ لیٹ جانے کا کہا تھا۔ اوہ نو! اسے جب پتہ چلے گا کہ وہ اسے

Read more

قلم کار۔ افسانچہ

”میں ایک ایسے قلم کار کو جانتی ہوں، جس کے لکھے پر لوگ لکھتے ہیں۔ سب لکھنے والے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ بنا جھول، بنا طوالت، بنا بے کیفی کے ایک کہانی کو کیسے لے کر چلنا ہے یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دنیا میں جنم لینے والی کوئی ایسی کہانی نہیں جو اس کے قلم سے نہ گزری ہو۔“ کینٹین پہ کھڑی ایک بلوچ لڑکی نے انکشاف کیا۔

میں واقعی اس قلم کار کو نہیں جانتی تھی۔

”اس کی لکھت کہاں ملے گی؟ میرا مطلب ہے کس لائبریری، بک شاپ یا کس کی سٹڈی میں؟ میں اگر خرید نہ پائی تو چرا تو لوں گی۔ خیر سے اس معاملے میں بچپن سے خود کفیل ہوں۔“ میں نے پلٹ کر پوچھا۔

Read more