لہو کی آنچ سے لفظ پگھلانے والا سخن تراش: سلیم فگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی نئی نسل کے نمائندہ شاعر سلیم فگار بیک وقت نظم اور غزل دونوں اصناف میں مشق۔ سخن کے ذریعہ اپنی ادبی حیثیت مستحکم کرنے میں سرگرم ہیں۔ وہ ان صاحبان۔ کمال میں شامل کیے جانے کے وصف سے مالا مال ہیں جن سے شاعری کا مستقبل پر شکوہ ادبی سرمایہ کی امید وابستہ کر سکتا ہے۔ سلیم فگار کو بھی اس کا علم یا اندازہ ہے کہ ان کی دیانت دارانہ کاوش سے سخن کا ایک نیا، معتبر اونچا مکان تعمیر ہو سکتا ہے اس لئے اس امکان پر اشتباہ یا اعتراض کرنے والوں سے وہ سیدھا مکالمہ کرتے ہیں۔

بنیاد کو تو ایسے ہی مت ٹھوکریں لگا
کیا تجھ کو علم کیا بنوں تعمیر ہو کے میں۔
دیدہ وروں کی آنکھ سے اوجھل پڑے ہوئے
بے مایہ ہیں سخن ابھی میرے کہے ہوئے
لگتا ہے ابھی سارا سفر باقی پڑا ہے
ھم جیسے ابھی اپنے ہی گھر سے نہیں نکلے

اس اعتماد کی نیو میں طبع۔ موزوں، زبان دانی، غزل کی روایت سے واقفیت، غزل کے نئے امکانات کا اندازہ، اپنا نظام۔ فکر، شعور کی با لید گی، لسانی رویہ، تجربہ، مشاہدہ اور فرش و فلک کے درمیان بکھری ہوئی ریزہ ریزہ زندگی کے پھیلاؤ پر گرفت جیسی چیزیں ہیں۔ یہ اعتماد ان کی غزلوں اور نظموں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ چونکہ یہاں زیر۔ غور غزل ہے اس لئے نظم کی تکنیک، ٹریٹمنٹ، کرافٹ، ہیئت اور موضوعات پر گفتگو کسی اور موقع کے لئے محفوظ کی جاتی ہے۔ فی الحال اسی پر بات ہو جس سے سروکار ہے یعنی غزل۔

سلیم فگار غزل میں اپنے انفراد کی تلاش میں ہیں اس لئے مجموعی طور پر غزل کے اور غزل گوئی میں اپنے بھی امکانات کا جائزہ لے کر کسی نئی یا غیر پامال پگڈنڈی کی تلاش میں ہیں۔ غزل کے معلوم اور معروف سے الگ ہونے کی تڑپ یا تمنا سے ہر زندہ ذہن آباد ہے اور کئی دوسروں کی طرح سلیم فگار کی بھی کوشش نہ صرف دانستہ و دیدہ بلکہ علم و عقل کی روشنی میں ہے۔

کرن کے اجلے دامن سے ہی سارے رنگ نکلے ہیں
سو خود کو روشنی کی طرح سادہ کر رہا ہوں میں
کچے رنگوں کی اس نمائش سے
میں اٹھا، سادگی کی سمت گیا

قوس۔ قزح کے سات رنگوں میں ہر رنگ کسی نہ عہد اور عہدے، فرد اور فرض، رنگ اور رس، طلب اور تسکین، انتشار اور اہتمام، فتنہ اور فرزانگی، شدت اور شفقت کا نمائندہ ہے اس لئے تمام رنگوں کو آپس میں ملا کر بنائے گئے الگ الگ شیڈز بھی، جن سے مناظر و مظاہر سے لے کر خیالات و خواب تک کائنات کے

ہر رنگ کا احاطہ ممکن ہے، ذہن کو کسی نہ کسی طرف لے جائے ہیں۔ سلیم فگار نے ایک کرن کے رنگوں کے ٹوٹ کر ہفت رنگ ہونے سے قبل کے نقطہ۔ ارتکاز کو پکڑنے اور اس سے فیض حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ یعنی سادگی کو اپنا لیا کہ اسی سے تمام رنگ نکلتے ہیں۔ اور سادگی ان کے دونوں شعری مجموعہ ”ستارہ سی ایک شام“ سے ”تغیر“ تک زبان اور بیان میں ہر جگہ ان کے اعلان کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔

سلیم فگار پاکستان کے چکوال سے برطانیہ جا کر بسے ہیں اور دوسروں کی طرح نئی تہذیب اور نئے تقاضوں کی شدت جھیلتے ہوئے ان تجربات سے گزر رہے ہیں جن میں مہجری ادب پروان چڑھتا ہے۔

انکے یہاں مہاجرت کا تجربہ شخصی یا اجتماعی سے بھی بالا ٹر ہوا ہے۔
کاش ایسا ہی
کوئی دن نکلے
جو ڈھلے تو اپنے گھر جاؤں

وہ غزل میں تمام رنگوں اور حوالوں کو سمیٹنے کی خواہش میں مبتلا ہیں۔ گو کہ نظموں میں سلیم فگار زیادہ راست بیانی اور کھلے پن اور ہم عصر زندگی کے منفی و مثبت پر زیادہ بے تکلفی سے بات کرتے ہیں مگر غزلوں میں ایجاز و ایمائیت اور اشاروں کنایوں سے لطیف اور نرم پیرایہ میں کلام کرنے کی تہذیبی مجبوری ان کو زیادہ گہرے اور گاڑھے رنگوں میں سامنے آنے کا موقع اور مہلت فراہم کرتی ہے۔ ان کی غزلوں کے اشعار میں کبھی کبھی نادر اور نئی شبیہیں جھلک اٹھتی ہیں۔ کہیں حیرانی کو انگیخت کرتی ہوئی کہیں ہولناکی کو متحرک کرتی ہوئی

میں کائنات سے مصروف گفتگو ہوں ابھی
فلک سے آج بھی میرا سوال جاری ہے
ہر اینٹ کے اندر سے کوئی جھانک رہا ہے
اس شہر پر اسرار کی دیوار میں کچھ ہے

ایسے اشعار سلیم فگار کی غزلوں میں اور بھی ہیں۔ اصل میں یہ منظر اس زندگی کا ہے جسے جھیلنے پر نئی صدی کا انسان مجبور کیا گیا ہے۔

میں اپنی عمر کا تاوان بھر کے پہنچا ہوں
تو فکر۔ تازہ کے رستے نکل کے آئے ہیں

ان کے یہاں زیست کی شدتوں کا بیان کم اور شدتوں پر قابو پانے کا رجحان نمایاں ہے۔ مھجری، عشق، اقدار، فرد کی اذیت، زمانے کی کج روی، موسم کا تضاد، تمدنی ٹکراؤ، اور وہ سب جو سانسوں کا قرض چکانے کے عمل میں روانی یا رکاوٹ کا موجب بنے، سلیم فگار کی غزل میں شعر کا موضوع ہے۔

دے وسعت۔ خیال کہ دنیا کو چھان کر
اگلا قدم میں وسعت۔ افلاک پہ دھروں
تم ہوتے ہو ساتھ مرے جب کوہ۔ گراں کے موسم میں
ایسا لگتا ہے بوجھل دن اڑتے بادل ہو جاتے ہیں
بنتا جاتا ہے نقش کاغذ پر
ھم اسے خود کہاں بناتے ہیں
کر
کر کے ویران ان زمینوں کو
چاند پر بستیاں بناتے ہیں
خود میں تجھ کو تلاش کر لوں گا
سر پہ میرے جنون طاری رکھ
کتنے آفاق منتظر تھے مرے
میں ہی گھر بار سے نہیں نکلا
یوں ہی چلتے رہے تو ممکن ہے
خود سے اک روز ہم گزر جائیں

سلیم فگار کی شاعری کا دائرہ بڑا ہے۔ وہ اپنی بات کہنے کے لئے دیگر علوم و فنون سے بھی فیض اٹھاتے ہیں اور اپنے کینوس پر زندگی کا ایک نیا رنگ نئے شیڈ میں اجاگر کرنے کی تخلیقی کوشش جاری رکھتے ہیں۔ پہلے چاند اور پورے چاند کے درمیان کی چودہ راتیں سمندر سمیت ہر ذخیرہ۔ آب اور کچھ حساس انسانوں پر مد و جزر کی سنگینی کے ساتھ گزرتی ہیں۔ ان راتوں کی بے چینی ہمارے یہاں چاند اور چکور کے حوالے سے ہی جانی جاتی ہے چاند کی طرف سمندر کا دل کھنچنے کا جو تجربہ سلیم فگار کے یہاں نظم ہوا وہ میرے بہت محدود اور مختصر مطالعہ میں نہیں تھا۔ چاندنی راتوں میں سمندر کا اچھال یا ابال علم نجوم یا علم الافلاک کا ایک بھرپور موضوع ہے اور اگر پہلی بار نظم ہوا ہے تو بڑی بات ہے۔

وہ شعر یہاں نقل کیے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔
عجب ہے وحشت۔ ہجراں کہ چاند راتوں میں
فلک کی سمت سمندر اچھلنے لگتا ہے
ویسے ہی غزل کے شعر میں پرکار کا استعمال اس خوبی سے پہلی بار نظر سے گزرا
آنکھ کی پرکار سے کیوں کھینچتے ہو دائرے
بے سبب ان ایڑیوں پر گھومنا اچھا نہیں

سلیم فگار غزل میں عشق کے حوالے سے بھی کچھ نئے تجربات نظم کرنے میں مصروف ہیں اور قاری کو ایک لطیف جذبے سے آشنا کراتے ہیں۔

میں اس کی آنکھ کے زیر و زبر سمجھتا ہوں
پلک پہ کیوں وہ پلک لمحہ۔ سوال گری
ردائے شرم لئے آنکھ میں میں آگے بڑھا
ہوا میں اڑ کے جب اس کے بدن سے شال گری
کیا کیا طلسم کھلتے رہے میری ذات پر
تصویر دیکھتا رہا تصویر ہو کے میں
کھو دیے ہیں چاند کتنے اک ستارہ مانگ کر
مطمئن ہوں کس قدر پھر بھی خسارہ مانگ کر
تم آئے تو تنہائی سے
دل نے نقل مکانی کی

ایسے اشعار کثیر تعداد میں ہیں جو ان کی تیز نگاہی اور منظر شناسی کی شہادت ہیں۔ بہت کٹھور سچائیاں بھی ان کے بیان کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں اور اس صورت میں سلیم فگار کے حاوی رجحان سے الگ ہونے کے باوجود ان کے سماجی سروکار کی گواہی دینے کچھ اور اشعار آتے اور شاعر کی فکر کا تکملہ کرنے کی ذمے داری نبھاتے ہیں۔

وہ دیکھ ٹہنیوں پہ نمو پا رہے ہیں خوف
کتنے ہی حادثات ہیں خندہ زمین پر
پہلے مٹی کھیت کی بیچی گئی
پہلے مٹی کھیت کی بیچی گئی تھی اب فگار
بھوک کی کلہاڑیوں سے پیڈ کٹتا دیکھنا
دیکھئے کس سمت جاتا ہے کنارہ چھوڑ کر
اب کے دریا بہ رہا ہے اپنا دھارا چھوڑ کر
دھیرے دھیرے ان ذہنوں میں
کتنے جنگل اگ آتے ہیں

سلیم فگار اپنے انفراد کی جستجو میں نئی زمینیں بھی تلاش کرتے ہیں، شعروں کے نئے پیکر بھی تراشتے ہیں، نئی ترکیبی (جامہ۔ آغاز، اسم۔ ابد راز) بھی وضع کرتے ہیں اور نئے جہانوں کی بھی سیر کرتے ہیں۔ وہ بے شبہ نئی شبیہیں بنانے کے لئے لہو کی آنچ میں لفظوں کو پگھلا کر کسی خیال کو شعر میں ڈھا لتے ہیں۔ ان کی کثیر جہتی اور رنگا رنگی کی ایک معمولی جھلک دکھانے کے لئے ان کے کچھ متفرق اشعار بھی نقل ہونے چاہئیں

اب آسمان سارا مری دسترس میں ہے
انگلی اٹھا، کسی بھی ستارے کے بات کر
رات ہے جشن مری روح کی آزادی کا
صبح پھر جسم کے زندان میں آ جاتا ہے
سفر نشیب سے سوئے فراز ہونے دے
مرا یہ عہد مجھے عہد ساز ہونے دے
یہ کائنات مری رہ گزر ہے دیکھیں اب
جنون۔ شوق۔ سفر کتنی دور جائے گا
چلنا ہے مجھے وقت کی رفتار سے آگے
اب دیکھنا ہے دیدہ۔ بیدار سے آگے
لہو کی آنچ سے پگھلا یا میں نے لفظوں کو
خیال ایسے نہیں شاعری میں ڈھالے ہیں۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عالیہ خان، پٹنہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments