وہ جو پرندوں سے پیار کی پاداش میں درندوں سے مارا گیا

اسے معصوم پرندوں سے پیار تھا۔ وہ انہیں سرسبز میدانوں میں گھومتے اور کھلی فضاوں میں اڑتا دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ تو جنگل کے قابل رحم جانداروں کا محافظ اور ماحولیات کا خود ساختہ سفیر تھا۔ اسے کیا پتہ تھا کہ وہ اپنے ان دوستوں کو بچاتے بچاتے، خود بھی مارا جائے گا۔ اسے کیا پتا تھا کہ معصومیت کے دشمن درندے، صرف جانوروں کے درمیان جنگل میں نہیں رہتے مگر وہ بظاہر مہذب بستیوں میں انسانوں کے ساتھ بھی بستے ہیں! ۔
جب مقامی ایم پی اے اور سردار کے آوارہ بندے، فارن سے آئے خاص مہمانوں کو پرندوں کا شکار کرواتے کرواتے، ناظم جوکھیو کے قریب پہنچے تو اس ماحولیات دوست نوجوان نے انہیں شکار کرنے سے روک دیا۔ وڈیروں اور سرداروں کے بدمست آدمیوں کے لیے یہ سب کچھ ناقابل قبول تھا، تب ہی تو وہ ہاتھا پائی اور گالم گلوچ تک اتر آئے۔ مگر اس مزاحمتی نوجوان نے جب یہ درندگی فیس بک لائیو پر دکھانا شروع کی تو یہ سرداری ڈیروں کے پالتو غنڈے، بالآخر موت مار دھمکیاں دے کر چلے گئے۔
مگر واپس جا کر انہونے اپنے آقا سے جو کچھ کہا، وہ صدیوں سے موجود سرداری نظام کا ہاضمہ خراب کرنے کے لیے کافی تھا۔ جو لوگ اپنے سرداری جاگیروں میں بسنے والوں کو گونگا اور بہرا سمجھتے ہیں اور جن کی نظر میں انسانی جان کی قیمت، اپنے پالتو جانوروں سے بھی کم ہے، وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ آبا و اجداد سے ان کی غلامی کرنے والوں میں سے کوئی، سرداری نظام کو یوں چیلنج کرے! ؟
چند گھنٹے بعد جب سردار کا شاہی فرمان آیا کہ، ”ناظم جوکھیو قبیلائی فیصلے کے لیے جلد ڈیرے پر آئے“ ، تو بڑے بھائی نے کانپتے ہوئے، ناظم سے کہا، ”سردار نے فیصلے کے لیے آپ کو ڈیرے پر بلایا ہے، کچھ نہیں بولنا، جو جرمانہ لگائے، دے دیں گے۔ جلدی جاوٴ ورنہ ہم سب کی خیر نہیں!“
سہاگن بیوی کے دل میں خوف اور خدشات کے کانٹے پیوند ہونے لگے تھے۔ صدیوں سے مروجہ روایات کی حکم عدولی کرنا تو بس میں نہیں تھا مگر اس نے اداسی سے کہا تھا، ”مجھے ڈر لگ رہا ہے ناظو، آج نہیں کل جانا“
مگر اسے کیا پتہ کہ صدیوں کے سرداری نظام نے، جس انا اور بربریت کو نسل در نسل پروان چڑھایا ہے، وہاں کے احکامات کل تک نہیں ٹلتے!
بڑوں کے دباو تلے، بوجھل قدموں سے جب ناظم، سرداری ڈیرے کی جانب چلے تھے تو قریب کھیلتی چھوٹی بچی نے کہا تھا ”پپا جلدی لوٹنا، مجھے رات کو آپ کے بنا نیند جو نہیں آتی!“ ۔
ناظم نے پریشانی چھپاتے ہوئے کہا تھا، ”فکر مت کرو بیٹی، سردار جوں ہی فیصلہ کر لے گا تو، میں جلدی لوٹ آوں گا!“
مگر اس معصوم کو یہ خبر نہ تھی کہ اس کا پپا، جدید انسانی اور قانونی اقدار سے عاری، اس ”سرداری عدالت“ میں جا رہا تھا، جس میں نہ کوئی وکیل ہوتا ہے، نہ کوئی گواہ، گواہی دیتا ہے اور نہ ہی اپنی صفائی میں بولے گئے الفاظ سنے جاتے ہیں۔ وہاں تو موت سرداری موڈ کی محتاج بن جاتی ہے اور انصاف وحشی جبلتوں کا غلام! ”
یوں ماحولیات کا یہ بہادر علمبردار اس ڈیرے پر پہنچ ہی گیا، جہاں با اثر اور امیر مہمانوں کے سامنے، نہ فقط تلوروں کا خونخوار شکار ہوتا ہے اور غریبوں کی عصمت نیلام ہوتی ہے بلکہ
انسانی جانوں کی قسمت کے فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ صدیوں سے ظلم اور دہشت کی علامت اسی ڈیرے پر ناظم جوکھیو کو بے رحمی سے ٹارچر کر کے مار دیا گیا۔ عہد حاضر کی طاقتور سوشل میڈیا بھی زمانہ جاہلیت کے سرداری نظام میں پھنسے اس قیمتی نوجوان کو بچا نہ پائی۔ یوں انسانیت لاچارگی اور بیچارگی کے عالم میں شرمسار ہوتی رہی اور ناظم جوکھیو پرندوں سے پیار کی پاداش میں درندوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
ناظم جوکھیو کی موت سے نہ فقط اس کے بچے یتیم ہو گئے ہیں مگر وہ لاتعداد پرندے بھی لاوارث بن گئے ہیں، جو شکاری آنکھوں کے دھوکے سمجھنے سے قاسر رہتے ہیں۔ نہ صرف ان پرنم آنکھوں کے خواب خون آلود ہو چکے ہیں، جن آنکھوں کو پپا کے بنا نیند نہیں آتی بلکہ بوڑھے درختوں کے وہ گھونسلے بھی اجڑنے لگے ہیں، جہاں کبھی ننھے منے پرندوں کے میٹھے میٹھے گیت، بندوق کے فائر کی آواز کو شکست دیا کرتے تھے! ۔

