پابلو پکاسو کی پینٹنگ اور خوبصورت عورت سے مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پابلو پکاسو دنیا کا مشہور پینٹر تھا۔ یہ اسپین میں پیدا ہوا اور فرانس میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر ایک شاہکار ہوتی تھی اور فوراً ہی نیلام ہو جاتی تھی۔ اس کی پینٹنگز کی قیمتیں ابھی بھی کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر سے لے کر ایک سو چالیس ملین ڈالر تک ہے۔

پکاسو نے ایک مرتبہ اپنی ہی تصویر پینٹ کی اور اپنے گھر میں لگا دی۔ ایک دفعہ گھر میں دوستوں کی محفل میں کسی نے پکاسو کی یہ پینٹنگ دیکھی اور سوال کیا کہ کتنے کی بیچو گے۔ پکاسو نے جواب دیا کہ یہ بیچنے کے لئے نہیں ہے۔

یہ بات باہر نکل گئی۔ لوگوں کو علم ہوتا چلا گیا کہ پکاسو نے ایک اپنی پینٹنگ بنائی ہے لیکن وہ نیلام نہیں کر رہا۔ امیر سے امیر لوگ آئے اور پکاسو کی اس کی پینٹنگ کے زیادہ سے زیادہ دام لگائے۔ پکاسو ان کو منع کر کر کے تھک گیا۔

ایک دن ایک بہت ہی خوبصورت عورت پکاسو سے ملنے آئی۔ پکاسو کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اس کی تصویر خریدنا چاہتی ہے اور اس کے وہ پکاسو کو منہ مانگے پیسے دینے کو تیار ہے۔

پکاسو نے اس عورت کی خوبصورتی کا جائزہ لیتے ہوئے اس عورت کو کہا ”مجھے نہیں پتا کہ لوگ کیوں اس بے جان شے کو خریدنا چاہتے ہیں۔ یہ نہ تمھارے جیسی خوبصورت عورت کا بوسہ لے سکتا ہے، نہ شاعری کر سکتا ہے، نہ ہی گانا گا سکتا ہے اور نہ ہی محبت کا اظہار کر سکتا ہے۔ میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں اور تم میری اس بے جان پینٹنگ میں دلچسپی رکھتی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ تم اس کے مجھے بہت پیسے دے سکتی ہو لیکن یہ بے جان چیز تم بغیر کچھ دیے لے جاؤ“ ۔

پکاسو نے زندگی اور معاشرے میں رہنے کا فلسفہ کتنی خوب صورتی سے اس عورت سے بیان کیا ہے۔ ہم اگر اپنے معاشرے کو دیکھیں تو واقعی کتنی گھٹن ہے۔ ہماری زندگیاں کتنی بے جان ہیں۔ ہم کبھی موسیقی کو حرام قرار دے رہے ہیں تو کبھی مصوری کو۔ ہم لوگ کب لوگوں کو زندگی سے پیار کرنا سکھائیں گے۔ ہم لوگ کب نفرت کی دکان بند کر کے محبت کے چراغ روشن کریں گے۔

جب ہمارے معاشرے میں کنسرٹ ہوتے تھے، مشاعروں کا اہتمام ہوتا تھا، ادبی محفلیں سجتی تھیں، کھیلوں کے مقابلے، غیر ملکی ٹیمیں آتی تھیں، تو زندگی تھی۔ زندگی میں رونق تھی۔ غیر ملکی خواتین اسکرٹ پہن کر بھی کراچی کی زینب مارکیٹ میں شاپنگ کرتی تھیں لیکن پھر بھی محفوظ تھیں۔

کوئی لڑکا کسی خاتون سے بدتمیزی کرتا تو دس لڑکے اس لڑکی کو بچانے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ ہم بچپن میں گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے تھے اور مغرب ہو جاتی تو پتا نہیں کہاں سے ایک بزرگ جن کو ہم لڑکے جانتے تک نہیں تھے، نمودار ہوتے اور گرجدار آواز میں ہمیں اپنے اپنے گھر جانے کا حکم دیتے اور ہم ان کے احترام میں خاموشی سے واپس گھر چلے جاتے۔

پہلے شاید ہی عبایہ کا رواج تھا۔ بہت کم خواتین حجاب لیتی تھیں لیکن پھر بھی محفوظ تھیں لیکن آج 6 سال کی بچی سے لے کر اور 80 سالہ بزرگ خاتون بھی عبایہ اور حجاب میں ہیں لیکن خوف میں مبتلا ہیں۔ رات کو پہلے کھانا کھانے کے بعد میاں بیوی چہل قدمی کرتے تھے لیکن اب رات کو گھر سے صرف گاڑی میں ہی نکلا جا سکتا ہے۔ پہلے نہ اتنی ملاوٹ تھی اور نہ ہی چور بازاری۔

اور اس پر ظلم یہ کہ ہر کسی کے موبائل فون پر درود شریف اور نعت لگی ہوئی ہے۔ گھر میں کارپینٹر کا کام تھا۔ کہا پیر کو 4 بجے آوں گا۔ ہم نے پانچ بجے فون کیا تو جواب دیا لکڑی لے رہا ہوں، ابھی آ رہا ہوں۔ وہ اس دن نہیں آیا۔ اس دن کیا، اس کے اگلے دن بھی نہیں آیا۔ ہم متواتر فون کرتے رہے اور فون پر ہمیں صرف یہ نعت سننے کو ملتی رہی ”مجھے در پے پھر بلانا مدنی مدینے والے“ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments