سقراط کی کہانی، افلاطون کی زبانی


یہ تقریباً سات سو مربع میل اور ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل، یورپ کی تاریخ میں پہلی جمہوری ریاست ایتھنز میں رونما ہو نے والے اس المیے کی کہانی ہے جس میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا۔ یہ 399 ق م کا عہد ہے جب سقراط اپنی زندگی کی ستر بہاریں دیکھ چکا تھا۔

ایتھنز پر پیلو پونیشی جنگ اور بدنام زمانہ تیس عمائد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کے دوبارہ لوٹ آنے سے سیاست، مذہب اور اخلاق کے مروجہ اصولوں پر تنقید شروع ہو گئی تھی اور ”نئی روشنی“ کا علم بردار طبقہ ”سوفسطائیت“ وجود میں آ چکا تھا۔ سوفسطائیت کے برعکس افلاطون نے چالیس سال تک ”اکیڈمی“ میں فلسفے اور ریاضی کی تدریس کی ذمہ داری اٹھائی، اور اکیاسی سال عمر پائی۔ سقراط کی ساری حکمت کا نچوڑ یہ ہے کہ اپنے آپ کو پہچاننا نیکی ہے، اور نیکی علم ہے۔

سقراط نے ساری عمر ایتھنز کی ورزش گاہوں، تفریح گاہوں، قہوہ خانوں اور دیگر عوامی اجتماعات میں علم و حکمت، نیکی و بدی اور حق و تصوف جیسے موضوعات پر لوگوں اور خصوصاً جوانوں سے بحث و مباحثہ کرنے اور زندگی گزارنے کے گر سکھانے میں صرف کر دی۔ اسی پاداش میں لائے کن (مذہبی خطیب) ، انائیٹس (سیاسی رہنما ) اور خصوصاً ملے ٹس (معمولی شاعر ) نے مقدمہ درج کر کے الزام لگایا کہ سقراط نوجوانوں کے اخلاق کو بگاڑ تا ہے، قومی دیوتاؤں کو نہیں مانتا اور نیا خودکار دیوتا متعارف کراتا ہے۔ 399 ق م میں 500 ججوں پر مشتمل جیوری نے صرف ایک دن کی سماعت میں 110 کی اکثریت سے سقراط کو سزائے موت سنائی۔

سقراط کو موقع دیا گیا کہ اعتراف جرم کر کے تخفیف سزا کے لیے رحم کی درخواست کریں، جلاوطنی کو ترجیح دیں اور یا سزائے موت قبول کریں۔ سقراط کی دیدہ دلیری قابل دید ہے کہ اس نے مطالبہ کیا کہ سرکاری خرچ پر ان کو معزز مہمان بنا کر ایوان بلدیہ میں رکھیں ، یعنی کہ وہ اپنے اصولوں سے کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے۔ حالانکہ کریٹو نے جیل میں سقراط کو بہت سمجھایا کہ سزائے موت سے بچ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے ، مگر یہ سقراط کے اصولوں کے خلاف تھا۔

افلاطون نے چند مکالمات میں سقراط کی کہانی اپنی زبانی بیان کی ہے۔ ایتھنز کی ایک ورزش گاہ میں سقراط ہپوتھالیس اور اس کے محبوب لائے سس کے ساتھ اس بنیادی نکتے پر بحث کرتا ہے کہ دوستی کس بنیاد پر ہوتی ہے اور ایک انسان کی قدر کس وجہ سے ہوتی ہے؟ سقراط لائے سس کو سمجھاتا ہے کہ دوستی نیکی کی بنیاد پر ہوتی ہے اور نیک آدمی کو ہر شخص اس کی نیکی کی وجہ سے دوست رکھتا ہے، انسان کی قدر علم اور نیکی کی وجہ سے ہوتی ہے

دوستی کے لیے سقراط ہیے سیڈ کا فلسفہ اضداد تفصیل سے پیش کرتا ہے اور فلسفہ امثال کو رد کرتا ہے، پھر امثال کو صحیح کہہ کر اضداد کو رد کرتا ہے، اور دوستی کے لیے دوستوں کا ہم طبع ہونا ضروری قرار دیتا ہے۔ وہ ہم طبیعتی کے لیے یکساں خواہشات اور یکساں محرومیوں کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ افلاطون نے مکالمات کے ذریعے لائی سس اور ہیپوتھالیس کو بہ طور علامت پیش کر کے معاشرے میں دوستی کا درست معیار بتایا ہے۔ سقراط مخرب الاخلاق نہیں بل کہ مہذب الاخلاق تھے، جو اس وقت کے مذہبی، سیاسی اور نام نہاد ادبی حلقوں کو راس نہیں آیا۔

ایک اور مکالمے میں سقراط کا سامنا یوتھائی فرو سے ہوتا ہے جو ایک قتل کے سلسلے میں اپنے والد پر مقدمہ کرنا چاہتا ہے اور اس کام کو دین داری سمجھتا ہے۔ یوتھائی فرو اپنے والد سے کئی اختلافات رکھتے ہیں اور سقراط اس کو سمجھاتا ہے کہ جس مسئلے کا ریاضیاتی اور سائنسی حل نہ ہو وہ اختلافات اور نفرتوں کا سبب بنتا ہے۔ دراصل یوتھائی فرو دیوتا کو خوش رکھنا چاہتا ہے کہ دین داری اس کے ہاں مقدس ہے۔ سقراط کی رائے ہے کہ دین داری اس لیے پسند کی جاتی ہے کہ یہ دین داری بہ ذات خود مقدس ہے، نہ کہ اس لیے کہ دیوتا اس سے پسند کرتا ہے۔

سقراط اسٹالی نس کا نظریہ بھی رد کرتا ہے کہ کسی فرد کا احترام اس کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے، بل کہ ان کے مطابق خوف احترام کی وجہ سے ہوتا ہے، تاکہ بدنامی، رسوائی اور ذلت نہ ہو۔ یوتھائی فرو دیانت داری کو مذہب کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ سقراط کہتا ہے کہ مذہب ایک فن ہے جو دیوتاؤں اور ان کے اقوال و افکار اور نظریات کا خیال رکھتا ہے۔ اس فن کے ماہر مذہبی پیشوا ہوتے ہیں، اور اس فن سے فن کار کو فائدہ ہوتا ہے۔

آخر میں سقراط یوتھائی فرو کے ساتھ کیے گئے مکالمے سے نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ مذہبی دین داری لین دین کا علم ہے، جس کے ذریعے انسان اور دیوتا آپس میں لین دین کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں دیوتا حسد کر کے انسان سے خفا ہوتا ہے۔ ان دونوں کی آپس میں صلح کرانے کے لیے لائے کن کے وضع کردہ قانون پر ملے ٹس کو گواہ بنا کر انائیٹس سقراط کو زہر پینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یوں سوچنے اور بولنے والے موت سے ہم کنار ہوتے ہیں اور تقلید کرنے والے زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS