تم مر کیوں نہیں جاتی!

بال بکھرے ہوئے، خستہ کپڑوں میں ملبوس باون سالہ شہزاد کمرے میں داخل ہوا۔ میشا کا ذہن کلبلایا۔ تین زندگیاں! نہیں دو زندگیاں اور ایک! ایک کیا؟
پھر پچپن سالہ چست و چوکس میشا نے نے شہزاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ ’کل پورا ایک سال ہو جائے گا۔ ایک سال سے میں اور تم باری باری اس کے سرہانے بیٹھے ہوئے ہیں! ‘
’ہوں۔ ‘ پھر شہزاد کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی، پیلے چہرے میں دھنسی ہوئی آنکھیں کتنی خوفناک ہو گئی تھیں۔
’پھر آپ نے کیا سوچا؟‘
’کس کے بارے میں؟‘ شہزاد کتنا معصوم بن گیا تھا!
’ہم دونوں کے بارے میں! زہرہ کے بارے میں! ‘ یہ کہہ کر میشا کا وزن کتنا ہلکا ہو گیا تھا لیکن اس کی نگاہیں زمین پہ مرکوز تھیں۔
’میشا! کیا تم چاہتی ہو کہ میں اس کی ٹیوب کھینچ کر اسے جان سے جان سے مار دوں! یا اس حالت میں زہرہ کو طلاق دے دوں؟‘
’کب تک میں اس آگ میں سلگتی رہوں گی!‘ پھر اس نے اپنی پوری قوت کو جمع کر کے نظریں اٹھائیں۔ ’کیا تم اسے زندہ سمجھتے ہو؟‘
کچھ لمحوں کے بعد دھیمی سی آواز آئی۔ ’شاید۔‘
یہ سن کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل آئی۔
’میشا۔‘
’نہیں، یہ میری خوش فہمی ہے۔ کسی نے مجھے نہیں پکارا۔‘
گھر پہنچ کر اس نے نہ ہی ورزش کی اور نہ ہی کچھ کھایا، اپنی بوسیدہ ڈائری نکالی، قلم اور آنکھیں دونوں نم ہو گئے۔ اس نے روتے ہوئے پہلی سطر لکھی۔
میری دل و جان سے پیاری سہیلی زہرہ! میں تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آخر تم مر کیوں نہیں جاتی؟
اور وہ بہت دیر تک اپنے آنسوؤں سے یہ خط لکھتی رہی۔
خط لکھ کر میشا کے اندر کا کوئی سویا ہوا آتش فشاں پہاڑ پھٹ گیا اور اس کی نیند اور سکون کو بھی خاکستر کر گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ آج کی رات سونا نہیں ہے۔ ایک سال پہلے بھی تو اس نے آج کی رات جاگ کر ہی گزاری تھی۔ وہ کمرے میں تیز تیز چلتی رہی، چلتی رہی اور گھڑی کو دیکھتی رہی۔ پورے سوا دو بجے وہ اپنے گھر سے نکلی اور دس منٹ کے بعد وہ زہرہ کی گلی میں داخل ہوئی۔ اس کی کھٹارا کار کا انجن رات کی خاموشی کا دشمن تھا۔ اس نے ایک درخت کے نیچے اسے بند کر کے ایک سکھ کا سانس لیا۔
’کتنا اندھیرا ہے یہاں اور دن میں کتنی روشنی ہوتی ہے! روشنی اور اندھیرا، شور اور سناٹا، رات کا سکون اور رات کی وحشت، زندگی اور موت، بیماری اور تندرستی۔ ہر شے کا تضاد مو جود ہے دنیا میں سوائے وقت کے۔ اس کا کوئی مقابل نہیں اور نہ یہ ٹھہرتا ہے۔ پورا ایک سال گزار دیا میں نے زہرہ کے سرہانے بیٹھ بیٹھ کر۔‘ پھر میشا نے ایک لمبا سانس لیا۔
پورے ڈھائی بجے میشا نے دستانے پہنے، بہت آہستہ سے کار کا دروازہ کھولا۔ خنک ہوا کے جھونکے سے اسے ایک جھرجھری آئی۔ چند ہی سیکنڈ کے بعد دیوار کی اوٹ میں وہ زہرہ کے مکان کے باہر کھڑی تھی۔ درخت کے پتوں کی سرسراہٹ سے وہ کانپنے لگی۔
اس نے چابی سے زہرہ کے گھر کا دروازہ کھولا۔ وہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں راہداری سے ہوتے ہوئے زہرہ کے کمرے میں داخل ہوئی، زندگی کے سائے، موت کے سائے اس گھپ اندھیرے میں اکٹھے ناچ رہے تھے۔
زہرہ کے بالکل نزدیک پہنچ کر وہ اس پہ جھکی، ٹٹول کر اس کے ہاتھ کو چھوا اور میشا کی چیخ نکل گئی۔
اس کو نہیں پتا کہ وہ وہاں سے کیسے باہر نکلی اور کب گھر پہنچی۔
ایک یخ بستہ ہاتھ، شہزاد کے فون، دروازے پہ دستک! وہ کمبل میں چھپ گئی ایسے کبھی باہر نہیں نکلے گی۔ پھر تھوڑی دیر بعد اس نے اپنی بہن کو فون کیا۔ ’مجھے یہاں سے آ کر لے جاؤ، شہزاد کو میرے بارے میں کچھ نہیں بتانا۔ مجھے اس سے نفرت ہے، اس نے زہرہ کو قتل کر دیا ہے۔ ‘
بہن کا جواب سن کر میشا نے پھولتے ہوئے سانسوں کے درمیان کہا۔ ہاں! ہو سکتا ہے کہ وہ طبعی موت سے فوت ہو گئی ہو، لیکن لیکن شہزاد کل کیوں مسکرا رہا تھا، پہلی مرتبہ ایک سال کے بعد ۔

