بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کے روز و شب گزرتے جا رہے ہیں۔ کبھی بھاگتے تو کبھی لنگڑاتے ہوئے، کبھی پاؤں کے بل تو کبھی سر کے بل، ہر چھوٹا، بڑا، امیر، غریب، کافر، مومن فکر معاش میں اجتماعیت سے انفرادیت پہ آ گیا ہے۔ فرائض بھول کر اپنے حقوق کے حصول کے لئے ایک گروہ یعنی یونین کی شکل میں مفادات کے حصول کے لئے سرگرداں ہے اور کچھ لوگ اس آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مادیت پرستی نے قومیت پرستی کے جذبات کو لامحدود گہرائیوں میں پھینک دیا ہے۔

مداری، جوکر، نٹ، میراثی اور بھانڈ ہر شعبہ زندگی میں اپنی زبان کے جادو سے حاوی ہو چکے ہیں۔ ماں کی گود سے لے کر قبر کی آغوش تک ہر انسان نے مال و زر جمع کرنے کی ہوس میں ہر رشتے اور ناتے کو بھلا دیا ہے۔ نہ مرنے والوں کے لئے کوئی دل سے روتا ہے اور نہ کسی کے دکھ پہ کوئی دکھی ہوتا ہے۔ احساس و مروت جو ہمارے معاشرے کا ایک خاصہ تھا زماں و مکاں کی گم گشتہ گہرائیوں میں دفن ہو چکا ہے۔ عوام و خواص رزق اور پیسے کے حصول کے لئے اپنے قریبی رشتوں کا خون کرنے سے بھی بعض نہیں آرہے۔

بچپن میں سنتے تھے کہ ”قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند“ کہ قوم کو بیچ رہے ہو اور اتنا سستا بیچ رہے ہو، تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ قومیں کیسی بک سکتی ہیں لیکن اب جب ہر طرف لا قانونیت اور نفسا نفسی کا دور دورہ دیکھتا ہوں تو اب سمجھ آتی ہے کہ وہ قوم جو ایک ٹھوس نظریہ کی بدولت معرض وجود میں آئی تھی، کیسے زوال کی عمیق گہرائیوں میں پڑی خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ مہنگائی، لاقانونیت، معاشی بد حالی، سیاسی ابتری، بے راہروی اور بھیڑ چال جیسی اہم بیماریاں میں مبتلا ایک ایسی قوم جس کو گیدڑوں کی طرح صرف یہ ثابت کرنے کا شوق ہے کہ ”پدرم سلطان بود“ ، ایک ایسی قوم جو خود کو ایٹمی طاقت کہتے ہوئے نہیں تھکتی، ایک ایسا مضبوط اور جامع نظام نہیں بنا سکی جس کی پیروی کر کے ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہو سکتے۔

اس قوم کی نفسیات، تربیت اور اہتمام کا اندازہ کرنا ہو تو ذرا گھر سے باہر نکل کر ، ہجوم میں دیکھیں یا سڑکوں پر موجود ٹریفک کے اژدہام میں انسانوں کے رویوں کو تلاش کریں۔ ہمیں ہر شخص تیز رفتاری سے کہیں نہ کہیں بھاگتا ہوا دکھائی دے گا۔ اپنے سامنے یا ساتھ بھاگتے شخص کو نیچا دکھانے اور بلا وجہ ہرانے کے لئے بے تاب اس قوم کا ہر فرد شارٹ کٹ کے چکر میں ہو گا۔ ٹریفک کی روانی میں قانون کے پاس دار کم اور 90 فیصد سے زیادہ ہمیں قانون شکن نظر آئیں گے۔

ٹریفک کے ہر اصول کو توڑ کر ہمیں ایک ایسی ناقابل بیان خوشی ہوتی ہے جس کا مجھ سے اظہار بھی ناممکن ہے۔ غور فرمائیں! کچھ اصحاب ٹریفک وارڈن کو دیکھ کر تو قانون پسند بن جاتے ہیں لیکن کسی ٹریفک وارڈن کی گیر موجودگی میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ فرد بھی آپ کو معاشرے کا ایک قانون شکن شہری ہی نظر آئے گا۔ دفاتر میں جائیں یا گھروں میں، کھیل کا میدان ہو یا تعلیمی ادارے، غرض یہ کہ ہر جگہ تربیت اور اصولوں کا فقدان ہی نظر آئے گا۔ لیکن اگر سامنے کوئی ڈنڈا بردار یا بندوق بردار ہو تو ہم سب تیر کی طرح سیدھے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہمارے اکثر احباب مارشل لاء کے ادوار کو پاکستان کی تاریخ کے بہترین ادوار حکومت گردانتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ والدین، اساتذہ یا موجودہ نظام؟

اپنے احباب کی مجالس میں اکثر یہ سوال مجھے سننے کو ملتا ہے کہ آخر ہم ایک قوم کیسے بن سکتے ہیں؟ اگر پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ہمیں شروع سے ہی ایک ایسا لولا لنگڑا نظام دیا گیا جو سامراجی اور طبقاتی تفاوت پر مشتمل تھا، یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں سینئر اور جونئیر، بڑے اور چھوٹے، امیر اور غریب کے حقوق اور فرائض میں واضح فرق رکھ دیا گیا ہے۔ برطانوی سامراجی نظام میں ہمیں ہر افسر کے لئے ملازمین کی ایک بڑی تعداد ملتی ہے۔

صرف ایک لمحے کے لئے سوچ لیں کہ افسران کے دفاتر اور گھروں میں کام کرنے والے مالی، خانسامے، ڈرائیور، بیٹ مین، گن مین، ایلچی، پرسنل سیکرٹری اور سٹینو کے علاوہ درجہ چہارم کی کثیر تعداد صرف بڑے صاحب کے لئے کیوں رکھی جاتی ہے؟ کیا اس بڑے افسر کا کام اپنے دفتر میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرنے، اپنے مہمانان خاص کو چائے پلانے اور ملاقاتیوں کے ساتھ گپ شپ کرنا ہے۔ وہ اس عہدے پر حکومتی خزانے کے لاکھوں روپے اڑانے کے لئے براجمان ہوتا ہے۔

اسی طرح قانون ساز اداروں، عدلیہ، پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران اس قوم کے لئے کون سی عظیم خدمت سر انجام دیتے ہیں کہ ریٹائر منٹ کے بعد بھی کروڑوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں؟ یہ ایک عالم گیر حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں یکساں انسانی حقوق اور مساوات کا فقدان ہو تو وہاں ایک جامع اور مربوط سماجی نظام دینا ایک مشکل بات ہے۔

کوئی بھی انسانی معاشرہ اس وقت ترقی کر سکتا ہے جہاں قانون کی عمل داری ہو، قانون شکن عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور جہاں ہر فرد کو روزگار کے یکساں مواقع حاصل ہونے کے ساتھ آزادی رائے کے اظہار کے مواقع بھی موجود ہوں۔ ہمارے معاشرے کے بارے میں اکثر مجھے وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے کہ ٹرین کے بند پھاٹک پر موجود ایک غیر ملکی سیاح نے ایک سائیکل سوار کو بڑی مشکل سے سائیکل کو کندھے پر اٹھا کر ریل کی پٹڑی پار کرتے ہوئے دیکھا تو اپنے گائیڈ سے پوچھا کہ یہ ایسی قانون شکنی کا کیوں مرتکب ہو رہا ہے؟

گائیڈ نے جواب دیا کہ شاید اسے کہیں جلدی پہنچنا ہو گا۔ ٹرین کا پھاٹک کھلنے کے بعد غیر ملکی سیاح اور گائیڈ نے جب پھاٹک پار کیا تو وہی سائیکل والا سڑک کے ساتھ ایک مجمع میں کھڑا بندر والے کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کو قانون توڑ کر ایک روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ میں اکثر لوگوں کو غلط سائیڈ سے اور غلط طریقے سے سڑک پار کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے حیرانی کے ساتھ ساتھ یہ افسوس بھی ہوتا ہے کہ کاش ہماری قوم کو کم از کم سڑک درست انداز میں پار کر نا ہی سکھا دیا جاتا ہے۔

جہاں اقرباء پروری اور سفارش نے ہمارے نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے دکھ دیا ہے، وہاں نا اہلی، رشوت ستانی، دھونس اور دھاندلی جیسی معاشرتی برائیوں نے ہمارے نظام کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں امیر اور غریب کے لئے دو الگ الگ متوازی نظام مرتب کیے گئے ہیں۔ کسی بھی دفتر میں چلے جائیں، اس دفتر کے دروازے پر بیٹھا چپڑاسی آپ کی وضع قطع سے ہی آپ کی حیثیت کا اندازہ لگا کر دروازہ کھولے گا، اگر آپ کی شخصیت میں اعتماد اور توازن نہیں ہے تو شاید آپ کو اندر داخلے میں دشواری پیش آئے کیونکہ دروازے پر کھڑا چپڑاسی یا گن مین اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے والا ایک ملازم نہیں ہے بلکہ وہ اس سامراج کا ایک ذہنی غلام ہے جس کی تربیت ہی ایسے کی گئی ہے کہ وہ اس دنیا میں ہر ذی حیثیت شخص کی خدمت کے لئے پیدا ہوا ہے۔

ان تمام معاشرتی رویوں اور بے ہنگم نظام کو دیکھ کر ہر محب وطن پریشان ہے لیکن کوئی بھی عملی اقدام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ ہی ایک بہترین نظام کے نفاذ اور حصول کے لئے احتجاج کرتا ہے۔ ہر شخص انقلاب کا خواہاں تو ہے لیکن اس اسلامی انقلاب کو ذہنی طور پر فراموش کر چکا ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام کی شکل میں آیا تھا۔ یہ ایک لافانی اور مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام نے پورے معاشرے کو ایک ایسا مکمل اور جامع ضابطہ حیات دیا ہے جس کی مثال ملنا ناممکن ہے لیکن وائے بد قسمتی ہے کہ ہم نے نہ صرف اغیار کے اطوار اپنا لئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے فرسودہ اور بے کار قوانین اور رسوم و رواج کو بھی اپنے ضابطہ حیات کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔

جس کا خمیازہ ہم نہ صرف اپنی انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی بھگت رہے ہیں۔ اگر ہم سب آج سے اپنے گھر، محلے، قصبے، شہر اور ملک میں آہستہ آہستہ اسلامی نظام کو رائج کریں تو وہ دن دور نہیں جب ہم معاشی اور معاشرتی طور پر ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے۔ ایک ایسی قوم جو نہ صرف سپر پاور ہو گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کی تقدیر کے فیصلے بھی اس کے ہاتھ میں ہوں گے۔

٭٭٭٭


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments