گمراہ لڑکی یا بے داغ چاند؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس کی زندگی میں اٹھائیسواں مرد تھا۔ باپ بھائی اور عام تعلقات والے مرد ان کے علاوہ تھے۔ یہ اس نے مجھے خود ہی بتایا تھا۔ وہ اٹھائیس سال کی تھی اور ایسی خوبصورت لڑکی کم از کم میں نے تو نہیں دیکھی تھی۔ سرخی مائل گھنے بال تھے اس کے اور لانبا قد، چہرہ دودھ کی طرح سفید تھا جس پر بڑی بڑی نیلی آنکھیں ایسے تھیں جیسے دو دیے ٹمٹما رہے ہوں۔ لانبی سی گردن ہونے کے باوجود سارا جسم توازن کے ہر اصول کی پاسداری کرتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔

اسے دیکھتے ہی دل میں اسے چاہنے اور پانے کی شدید خواہش انگڑائی لینے لگتی تھی۔ میں نے یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں کسی ایسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جاؤں گا جس کے تعلقات ستائیس مردوں سے رہے ہوں۔ لندن جیسے شہر میں بھی یہ بات ذرا غیرمعمولی سی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق لندن شہر میں اٹھائیس سال کی عمر تک پہنچ کر لڑکیاں شادی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتی ہیں اور اس وقت تک ان کے تعلقات 16 سے زائد مردوں سے ہوچکے ہوتے ہیں۔ یہ تو عام لڑکیوں کی بات تھی جب کہ وہ غیرمعمولی طور پر خوبصورت تھی اور عام اصولوں کے خلاف غیرمعمولی زندگی ہی گزار رہی تھی۔

میری اس کی ملاقات باربیکن سینٹر میں ہوئی تھی۔ دریائے ٹیمز کے قریب ادب و فنون و موسیقی کا یہ ادارہ اپنے اندر عجیب قسم کی کشش رکھتا ہے۔ مجھے جب کبھی بھی اسپتال کی کوفت زدہ زندگی سے فرصت ملتی تھی تو کنسٹرٹ دیکھنے اور سننے کو یہاں آ جاتا تھا۔ یہ شوق دوسرے پاکستانی لوگوں کو نہیں تھا۔ اپنے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹروں یا دوسرے پاکستانیوں کو جب پتہ لگتا تا کہ میں باربیکن سینٹر جا رہا ہوں تووہ مجھے حیرت سے دیکھتے تھے جیسے میں کوئی عجیب و غریب آدمی ہوں۔ سینگوں والا ایک انسان جس کی آنکھ پیشانی پر ہو۔

اس دن میں کنسرٹ سے محظوظ ہو کر ذہن میں موسیقی کو دہراتا ہوا کافی ہاؤس میں کافی کی چسکیاں لے رہا تھا کہ مرلن میری ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی تھی۔ ”ایک پیالی چائے پی سکتی ہوں تمہارے ساتھ؟“ اس نے بے تکلفی سے کہا تھا۔

”کیوں نہیں ضرور۔“ میں نے جواب دیا تھا۔
”ہندوستانی لگتے ہو۔ کیا کرتے ہو۔“ اس کا دوسرا سوال تھا۔
”ہندوستانی نہیں، پاکستانی ہوں۔ ڈاکٹر ہوں، اسپتال میں کام کرتا ہوں۔“ میں نے جواب دیا تھا۔
”او، ڈاکٹر۔ بہت خوب۔ تم شکل سے ڈاکٹر ہی لگتے ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
میں ہنس دیا تھا۔ ”کیا ڈاکٹر کی شکل پر لکھا ہوتا ہے، تم مذاق کر رہی ہو۔“

نہیں، نہیں۔ تمہاری شکل بہت مہربان قسم کی ہے۔ صرف ڈاکٹر ہی ایسے ہوتے ہیں۔ تم مجھ سے زیادہ ڈاکٹروں کو نہیں جانتے ہو گے۔ مجھ سے دوستی کرو گے؟ ”اس نے بڑی اپنائیت سے کہا تھا۔

”ضرور، کیوں نہیں تمہاری جیسی خوبصورت لڑکی سے کون دوستی کرنے سے منع کرے گا؟“ میں نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔

اس نے میرے ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا تھا اور گرم جوشی سے دبا کر بولی تھی ”مجھے ہمیشہ اچھا دوست پاؤ گے۔“ میں نے دیکھ لیا تھا اس کی انگلیاں میری انگلیوں کی طرح منگنی کی انگوٹھی سے خالی تھیں۔ ہم دونوں اکیلے تھے۔

اس شام ہم ساتھ گھومے تھے۔ آکسفورڈ سرکس کے ایک جاپانی ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا اور وہ میرے اپارٹمنٹ میں چلی آئی تھی۔ وہ ایک آفس کے پرنسپل ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی تھی۔ صبح ناشتہ کر کے وہ میرے اپارٹمنٹ سے ہی اپنے آفس چلی گئی تھی۔

میرا خیال تھا کہ اسپتال جا کر اسے بھول جاؤں گا۔ اس رات میں ڈیوٹی پر تھا اور جب کام سے فارغ ہوا تھا تو بڑی شدت کے ساتھ اس کی یاد آئی تھی۔ وہ اس کا لانبا قد، وہ اس کی آنکھیں، اس کا چہرہ، اس کے رخسار، اس کے لب اور ٹھہر ٹھہر کر اس کے بات کرنے کا انداز۔ کل کی شام اور رات گئے تک نہ جانے ہم لوگ کیا کیا باتیں کرتے رہے تھے ایسا میرے ساتھ بہت کم ہوا ہے۔ لڑکیاں آتی ہیں اور چلی گئی ہیں، میرے ذہن و دماغ پر سمائی نہیں ہیں۔

مگر مرلن مختلف تھی اور میرے پاس تو اس کا نمبر بھی نہیں تھا۔ نہ اس نے دیا تھا نہ میں نے مانگا تھا۔ لندن کی ایک رات ایک چوٹ دے کر چلی گئی تھی۔ اس نے بھی میرا نمبر نہیں لیا تھا مگر تلاش کرنا چاہے گی تو کر سکتی ہے۔ مے ڈے اسپتال میں کام کر رہا تھا اس کو بتا چکا تھا اور ریاض نام کا میں ہی ایک ڈاکٹر تھا۔ میرے دل میں جیسے ایک خلش تھی کہ وہ مجھے ضرور فون کرے گی، اور پھر اس کا فون آ گیا تھا۔

اس نے کہا تھا کہ ایک کھانا اس پر ادھار ہے کل اس کے ساتھ کھانا کھاؤں میں۔ بے اختیار بول اٹھا تھا ضرور۔

دوسری شام کچھ اور افسانے لے کر آئی تھی۔ وہ چودہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر لندن آئی تھی، ماں اور باپ کے مستقل جھگڑوں سے گھبرا کر ۔ اس نے کہا تھا کہ اسے یاد نہیں ہے کہ کبھی بھی اس نے اپنے ماں باپ کو لڑتے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ ہر صبح لڑائی سے شروع ہوتی تھی اور رات گئے تک چلتی رہتی تھی۔ وہ دونوں نہ ساتھ رہ سکتے تھے اور نہ ہی الگ ہوسکتے تھے۔ پیٹر اور آرتھر پہلے گھر سے بھاگے تھے پھر ان کا پتہ نہیں لگا تھا اور ایک دن وہ بھی اپنے دو چھوٹے بھائیوں بہنوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلی تھی۔

لندن بڑا مہربان شہر ہے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ کہیں پر سونے کی جگہ، کسی جگہ پینے کو سوپ، اور پھر گزارہ ہو ہی جاتا ہے۔ تھوڑے دنوں گھومنے پھرنے کے بعد اس نے ادھر ادھر الٹے سیدھے کام بھی کیے تھے اور زندگی کی گاڑی دھکیلتی رہی تھی۔ اس عرصے میں وہ دو دفعہ حاملہ ہو گئی تھی اور دونوں دفعہ اسے حمل ضائع کرانا پڑا تھا۔ ایک ہفتے پر اور ایک سات ہفتے پر ۔ ”میں نے دوسری دفعہ قسم کھائی تھی کہ اب ایسا کبھی نہیں کروں گی۔

حمل ضائع ہونے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ مردوں کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا ہے، ایسا لگتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اندر سے بہت اندر سے جہاں نہ کوئی ٹیلی اسکوپ پہنچ سکتا ہے، نہ مائیکرو اسکوپ کی رسائی ممکن ہے اور نہ لیزر شعاعیں جا سکتی ہیں وہاں سے جسم کا ایک خاص ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہے۔ تم نہیں سمجھ سکو گے اس بات کو ۔ یہ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو تخلیق کر سکتا ہے۔ مرد تخلیق نہیں کرتے ہیں، وہ اس صلاحیت سے محروم ہیں، اسی وجہ سے ان میں غرور ہوتا ہے۔

جھٹکنے کی عادت ہوتی ہے۔ ہم عورتیں تخلیق کرتی ہیں اور اس عمل کی مالک ہونے کے بعد غرور کرنے کو کچھ رہتا ہی نہیں ہے۔ جو ہمارے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں ہو سکتا ہے۔“ اس کے چہرے پر زبردست فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ ”پھر میں پریگننٹ نہیں ہوئی تھی۔ زندگی احتیاط سے گزارنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر چاہو تو گزر سکتی ہے مگر اس کا وقت آتا ہے۔ خودبخود پھر احساس ہوتا ہے کہ اس سے تو میں محروم تھی۔ لندن میں ہی میں نے پھر کمپیوٹر کا کورس کیا تھا جس کے بعد مجھے میری مرضی کی نوکری بھی ملی تھی۔ کبھی کسی فیکٹری میں کبھی کسی اسپتال میں اور کبھی کسی آفس میں۔ ہر نئی جگہ پر نئے لوگ، زندگی بہت دلچسپ ہے۔ ہے نا؟“

زندگی سے زیادہ مرلن دلچسپ تھی۔ اس نے زندگی سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ حسن اور سمجھداری ایک ساتھ میں نے نہیں دیکھی تھی، ایک دن میں نے اس سے یہ بات کہہ دی تھی۔

وہ مسکرائی تھی۔ ”نہیں میں اتنی سمجھدار نہیں ہوں جتنا تم سمجھتے ہو۔ یہ تو تجربہ ہے لندن کی سفاک زندگی کا ، وقت کا تلخ حادثہ ہے۔ میری خوبصورتی کا دیا ہوا سبق ہے۔ اگر میں سمجھدار ہوتی تو ماں کا گھر نہیں چھوڑتی۔ لندن شہر میں مجھے دو دفعہ حمل نہیں گروانا پڑتا اور جنسی بیماریوں کا شکار نہیں ہوتی۔ مجھے گنوریا ہو گیا تھا۔ تم یقین نہیں کرو گے، مگر یہ سچ ہے۔ اس زمانے میں یکایک ہی میری دوستی ایرک سے ہو گئی تھی۔

ایرک اس فرم کا مالک تھا۔ تم نے اس کا نام سنا ہو گا۔ شہر کے بہت بڑے وکیلوں کا آفس ہے۔ میں وہاں انٹرویو دینے گئی تھی نہ صرف یہ کہ اس نے مجھے نوکری دی تھی بلکہ بہت جلد ہی ہم دونوں کے تعلقات بھی ہو گئے تھے۔ گنوریا ایرک نے ہی مجھے دیا تھا۔ پتہ نہیں کہاں سے لے کر آیا تھا لیکن مجھ پر وہ برا وقت تھا۔ جیسے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میں اس بیماری میں مبتلا ہوں مجھے جنسی بیماریوں کے کلینک میں جانا پڑ گیا تھا۔ وہاں کی بوڑھی ڈاکٹر بہت مہربان عورت تھی۔

اس نے نہ مجھے گالیاں دی تھیں نہ مجھے برا بھلا کہا تھا، نہ فاحشہ کا لقب دیا تھا، نہ ایسی نظر سے دیکھا تھا جیسے کہ میں طوائف ہوں۔ بہت پیار سے ملی تھی۔ علاج ختم ہونے کے بعد اس نے میرے کاندھوں پر اپنا مہربان ہاتھ رکھ کر کہا تھا مرلن زندگی کیسی بھی ہو اور مرد جیسا بھی ہو یہ جسم تمہارا ہے۔ علاج بھی ہو جائے گا مگر دوسروں کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بننا۔ میں نے آنسوؤں سے ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔ چھ سال کے بعد ایرک ایڈز کا شکار ہو کر مر گیا تھا۔ میں زندہ تھی۔ مجھے ایچ آئی وی نہیں ہوا تھا اور ہو بھی نہیں سکتا تھا کہ اس رات کے بعد میں نے ہمیشہ ایسی ہی احتیاط کی تھی، جیسی حمل سے بچنے کے لیے کی جاتی ہے۔“

ہم دونوں بہت قریب ہو گئے تھے، گو کہ اس کی زندگی کے عجیب و غریب پہلو میرے سامنے تھے۔ میں کسی حد تک پرانے خیالات کا حامل تھا اس کے باوجود مرلن کو اپنی زندگی کا ساتھی بنانے کی بے قراری سے دل لبریز ہو گیا تھا۔ ایک کسک تھی، دماغ پر ایک سحر تھا، دل میں ایک انمٹ خواہش تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments