مائیں اور بچے پیدا کر لیں کیونکہ پہلے والے شہید ہو گئے ہیں


”ماما“ اگر دہشت گرد ہمارے سکول آ گئے تو ہم کیا کریں گے ہمیں تو دیوار بھی ٹاپنی (پھلانگنی) نہیں آتی ”

یہ سوال تھا میری چھوٹی بیٹی کا جس نے ٹی وی پہ اے پی ایس سکول حملے کے مناظر دیکھے۔ اس سوال کا جواب میرے پاس آج تک نہیں آیا۔ ایک ماں ایسے سوالوں کا جواب کیسے دے سکتی ہے۔ یہ صرف مائیں ہی سمجھ سکتی ہیں۔ کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بچے کا پہلا تعارف ماں کی کوکھ سے ہوتا ہے۔ اور عورت کا کوکھ سے رشتہ بے حد مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ نو ماہ تک ایک وجود اس کے اندر سانس لیتا ہے۔ جس سے اس کے خواب جڑے ہوتے ہیں۔ محبت جڑی ہوتی ہے۔

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی جیسے جیسے سولہ تاریخ قریب آتی جاتی ہے۔ دل ہولنا شروع ہو جاتا ہے۔ مٹھی میں آنے لگتا ہے۔ ماؤں کے دل تو اولاد کی ذرا سی تکلیف نہیں سہ سکتے۔ کجا کہ اپنے جگر گوشوں کو اس حالت میں دیکھنا جیسے وہ معصوم فرشتے ملے تھے۔ صبر کہاں سے لائیں۔

میں بے پناہ خواہش کے باوجود آج تک نہ تو مشعال کے گھر جا سکی۔ نہ ہی اے پی ایس سکول کے بچوں کی ماؤں سے ملنے کی ہمت جٹا پائی۔ مجھے وہ ماں نہیں بھولتی جو روزانہ سکول کی طرف بھاگتی تھی۔ وہ جملہ نہیں بھولتا کہ ہم نے اپنے بچے پڑھنے بھیجے تھے، شہید ہونے نہیں۔ مجھے موچی گیٹ پہ افضل خان کی گونج دار آواز اور اس میں چھپا کرب نہیں بھولتا۔ جس باپ نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے منتیں کیں۔ مگر اسے گیٹ سے اندر نہ جانے دیا گیا۔ وہ خون میں لت پت جوتے، کتابیں اور بستے۔ پرنسپل اور ٹیچرز کی قربانی۔ افففف خدایا۔

پرسوں ایک ماں کی دہائی دیتی وڈیو دیکھی۔ ان ماؤں کے نصیب میں تو دہائیاں ہی ہیں۔ مگر ان کے الفاظ نے گنگ کر دیا۔ اپنے بچوں کے لیے انصاف مانگنے والی ماؤں سے کہا گیا کہ آپ اور بچے پیدا کر لیں۔ کیا ہوا اگر آپ کے بچے مر گئے۔ بہت سے لوگ مر جاتے ہیں۔ اگر آپ کو بچے چاہئیں تو اور پیدا کر لیں۔ کیا یہ مشورہ دینے والے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ایک بچہ پیدا کرنے میں عورت کو نو مہینے نو صدیوں جیسے لگتے ہیں۔ پیدا کرنا اور اسے پال پوس کے بڑا کرنا کیا جادو سے ہو جاتا ہے؟

مائیں اور بچے پیدا کریں تا کہ مزید شہید پیدا کیے جاسکیں۔ اور پھر شہادت کا لالی پاپ والدین کے ہاتھ میں دے کر انہیں مزید بچے پیدا کرنے کا مشورہ دے دیا جائے۔ حق ہا۔

چلیں اب چند سوال ریاست سے کرتے ہیں۔ سوال کرنا جرم ہے۔ اور جرم بھی چھوٹا نہیں۔ مگر کیا کریں کہ بقول شاعر

”ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا“ ۔

اب ہمارا رونا بنتا ہے ریاست چلانے والو۔ اب ہمارے پاس صبر نہیں رہا۔ ہم خود پہ تو ظلم سہ سکتے ہیں۔ اپنے بچوں پہ نہیں۔

پچھلے دنوں پنجاب میں پہلے کالعدم اور پھر کالعدم سے عدم میں لائی جانے والی جماعت نے جو تماشا سڑکوں پہ کیا، ریاستی رٹ کہاں نظر آئی سوال یہ ہے؟

سوال یہ ہے کہ جو نو پولیس والے شہید اور متعدد زخمی ہوئے ان کا خون کس کی گردن پہ ہو گا؟ وہ تو اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے۔ ریاست کے ہی ملازم تھے تو پھر ریاست نے کس حق سے ان کے قاتلوں سے معاہدے کیے؟

کیا چند ہزار لوگ جب چاہیں دارالحکومت اور پورا صوبہ بند کر سکتے ہیں۔ خون آشام بھیڑیے بن سکتے ہیں۔ بے گناہ و معصوم لوگوں کی جان لے سکتے ہیں۔ اس نبی کے نام پہ جس کے آخری خطبہ حج میں ایک انسانی جان کی حرمت کعبے سے زیادہ بتائی گئی۔ لیکن ریاست نو انسانی جانوں کے قاتلوں سے معاہدے کرنے لگ گئی۔

سوال یہ ہے کہ پولیس کا ادارہ اور اس میں کام کرنے والے ملازمین کا جو استحصال ان دھرنوں میں انہیں کولیٹرول ڈیمج کے طور پہ استعمال کر کے کیا گیا اس کی ذمہ دار کیا ریاست نہیں؟

ان کے لواحقین کی داد رسی کون کرے گا؟ کس سے پوچھ کے ریاست بقول انہی کے بھارتی فنڈڈ جماعت سے معاہدے کر رہی ہے؟ اگر وفاقی وزرا کے مطابق بھارت فنڈ دے رہا ہے حالات خراب کرنے کے تو ان کے خلاف کارروائی بنتی ہے یا پھر انہیں سیف پیسج دینا بنتا ہے؟

سننے میں یہ بھی آیا کہ ریاست ٹی ٹی پی سے بھی مذاکرات کر رہی ہے۔ ایک سو چونتیس بچوں کے قاتلوں اور دہشت گردی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے اسی ہزار سے زائد پاکستانیوں جن میں اداروں کے جوان اور سویلین دونوں شامل ہیں، ان کے خون کا حساب کون لے گا؟

جن کے گھروں سے جنازے اٹھے ہوں اور وہ بھی ان چاہی موت کے کیا ان سے کسی طرح کی بات چیت کی گئی؟ ان کو تو بولنے ہی نہیں دیا جاتا جناب۔

اور آخر پہ میں پھر سے اپنے ہینڈسم حکمران سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے سپریم کورٹ میں کہا کہ ہم نے مرنے والوں کے گھر والوں کو معاوضہ دے دیا تھا اور کیا کریں۔ بصد معذرت سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کے بچے اے پی ایس میں مارے جاتے تو کیا آپ پیسے لے کر خوش ہو جاتے؟

میں یہ سوال کرتے ہوئے بھی کانپ گئی ہوں حضور۔ بچے تو سانجھے ہوتے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ کبھی آپ نے سانجھے داریاں دیکھی نہیں ہیں۔ ورنہ یہ بات کہہ کے ان والدین کے دل نہ دکھاتے۔

خدا نہ کرے کہ کبھی کسی والدین کو اس کی اولاد کا غم کاٹنا پڑے۔ اس سے بڑا عذاب کیا ہو سکتا ہے۔ یہ تو کوئی غم کاٹنے والے والدین سے پوچھے۔

آخری بات یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جنہوں نے ماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اور بچے پیدا کر لیں۔ تو آپ یہ سوچیں کہ آپ کے ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹ دی گئی ہیں آپ کے پاس باقی آٹھ انگلیاں ہیں۔ مگر کیا آپ اپنی کٹی ہوئی دو انگلیوں کو بھول پائیں گے؟

اگر آپ سرجری سے مصنوعی انگلیاں لگوا بھی لیں تو تب بھی اپنی انگلیوں کے کٹنے کا غم کم نہیں ہو گا۔ آزمائش شرط ہے۔ یقین نہ آئے تو انگلی کٹوا کے شہیدوں میں نام لکھوا کے دیکھ لیں۔ سمجھ جائیں گے۔

سوال تو بہت ہیں مگر جواب کبھی ملیں گے نہیں۔ سو مزید بات کیا کہنی۔ ہم تو بھینس کے آگے بین بجاتے رہیں گے۔ شاید کبھی اثر ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments