غیر حقیقی کردار۔ چوتھی قسط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمعو نے بڑی دو بیٹیوں کو گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا ہوا تھا اور وہ بخوشی پڑھنے جاتی تھیں۔ استانی جی کا گھر سکول کی عمارت کے ساتھ ہی منسلک ہونے کی وجہ سے، دونوں چھٹی کے بعد ان کے گھر رک کر ٹیوشن بھی پڑھتیں اور استانی جی کے گھر کے کام بھی کرتیں۔

اکثر شام میں جب شمعو مجھے ان کو بلانے بھیجتی تو استانی جی اور ان کے شوہر، جن کو ہم سب ماموں جی کہہ کر بلاتے تھے مجھے بہت پیار کرتے اور بولتے کہ ہمارے سکول میں اب ایک اور بچی کا اضافہ بھی ہونے والا ہے۔ مجھے ان کی یہ بات کبھی پسند نہ آتی کہ مجھے اس سکول نہیں پڑھنا۔ شمعو کی بڑی بیٹی نازیہ نے جب پانچویں پاس کر لی تو اسے گاؤں سے دس کلو میٹر دور واقع قصبے، گگو منڈی کے گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ میرے اور میرے ماموں کے بیٹے کی عمر سکول جانے کی ہوئی تو میرا ماموں زاد فخر سے بتاتا کہ میرا داخلہ تو گگو منڈی کے انگلش میڈیم علاقہ اقبال سکول میں ہونے جا رہا ہے۔

ہماری حویلی میں، شمعو اور خاندان، شمعو کا جیٹھ اور خاندان اور شمعو کا باپ، ان کی دوسری بیوی اپنے بچوں اور بہو کے ساتھ رہتی تھی۔ سو حویلی میں تین خاندان تھے اور امی کی بھابھی کا بیٹا جو کہ میرا ہم عمر تھا جب انگلش میڈیم کا نام لیتا تو میں نے بھی ٹھان لی کہ جاؤں گی تو انگلش میڈیم نہیں تو سکول نہیں جاؤں گی۔ شمعو کو اندازہ تھا کہ میں کیا خواب دیکھ رہی ہوں، معلوم نہیں اس کا دل اس قدر جلد کیوں پگھلا کہ ایک چھوٹا سا عہد لے کر کہ میں دل لگا کر پڑھوں گی اس نے میرے شوق کی لاج رکھ لی یہ جانتے ہوئے بھی کہ سکول کی فیس اور سکول ویگن کے خرچے کے پیسے دینے کا کوئی خاص وسیلہ نہ تھا۔

مجھے اس وقت شمعو کے مسئلوں سے اس قدر غرض نہ تھی بس شوق تھا کہ انگلش سکول میں پڑھنا ہے اور وہ بھی صرف ماموں زاد کے بار بار شیخیاں مارنے کی وجہ سے اسی سکول میں جانا میری ضد بن گئی تھی سو وہ ضد پوری ہو گئی۔ سکول میں داخلہ ہو گیا اور پہلے دن چھٹی کے بعد میں اور میرا کزن نیر ہم گھر کی طرف پیدل چل پڑے اور بازار اس قدر بڑا تھا کہ ہمیں لگا ہم کھو گئے ہیں اور ہم نے رونا شروع کر دیا۔ ایک قلفی والے نے ہمیں اپنی ریڑھی پہ بٹھا دیا کہ فارغ ہو کے تم لوگوں کا گھر ڈھونڈ لوں گا اور ہمیں ایک ایک قلفی تھما دی تو جیسے ہم گھر بار سب بھول گئے اور شام گئے ہمارے گاؤں والے ہمیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے اعلان کرواتے وہاں پہنچے اور ہمیں گھر لے کر گئے۔

پھر ہر سال بعد میری پہلی پوزیشن آتی رہی اور نیر پاس ہوتا رہا۔ میں سوچتی ہوں کیا یہ شمعو کے عہد لینے کا کمال تھا یا میں واقعی اس قدر قابل تھی یا مجھے اندازہ تھا کہ یہ موقع اگر میری دو بہنوں کو نہیں ملا اور مجھے ملا ہے تو مجھے ثابت تو کرنا ہو گا کہ مجھے یہ موقع ملنا حق بجانب کیسے تھا۔ مجھے آج تک پہلی پوزیشن آنے کی سمجھ نہیں آئی۔ شمعو میرے ہر سال کے کارکردگی کارڈ کو صندوقوں کے اندر سنبھال دیتی۔

صندوق بھی کس قدر کارآمد ایجاد ہیں کہ انسان کی ہر قیمتی یاد کا کباڑ خانہ ہیں جس میں انسان حال کے بہت سے لمحوں کو مستقبل کے لیے ماضی کی صورت قید کرتا رہتا ہے۔ معلوم نہیں ان صندوقوں میں پڑی سبھی یادوں کی کرچیاں اس قدر درد انگیز اور چھبن والی کیوں ہوتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ اس صندوق کا تیار کرنے والا کاری گر بھی ہو سکتا ہے جو اس کو بناتے، تیار کرتے ہوئے ہتھوڑے کے نہ جانے کتنی بار ان جانے میں لگنے والے درد سہتے ہوئے اس صندوق کو تیار کرتا ہو گا۔

مجھے لگتا ہے صندوق اور غلے کا بھڑولہ بنانے والے کاریگر نہیں فنکار ہوتے ہیں۔ کہ اپنے فن کو اپنا پیشہ سمجھتے ہیں۔ اس کی کمائی سے بمشکل گزارہ ہونے کے باوجود ساری زندگی اسی کے نام کر دیتے ہیں۔

جاری ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments