مداحوں کی عقیدت کے وار
کہنے کو خاصا بے ضرر واقعہ ہے، بیان کیا جائے یا نہ کیا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مداحوں کے وار سہتے آئے ہیں۔ لیکن ایک پوسٹ پر رد عمل دیکھ کر محسوس ہوا کہ مداح کی آسمان کو چھوتی عقیدت، کا پلڑا کتنا بھاری ہوتا ہے۔
جون ایلیا کی صاحب زادی نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر برسوں سے دل میں پوشیدہ کچھ زخموں کو نمایاں کیا، تو جون ایلیا کی عقیدت میں گرفتار پس و پیش کرنے لگے۔ اگر پرورش و تربیت کا بار ماں کے کاندھوں پر ہو، اور باپ، ان کی ماں کے ساتھ بد سلوکی ایک حق کے ساتھ مگر نشے یا جنون کی حالت میں کرتا ہو تو بچوں کو اس سے کیا کہ شاعر کے کتنے عقیدت مند اس کے سامنے دو زانو رہتے ہیں۔
میری اور احمد کی زندگی ہمارے دوستوں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ احمد کے متلون مزاج سے سے سبھی دوست اور رشتے دار واقف ہیں۔ مگر یہ بھی ہے کہ احمد کے غصے، کبھی کبھی بد تمیزی کے باوجود سب ہی احمد نوید کی عمدہ شخصیت، اخلاق، انکساری اور شاعری کو سراہتے ہیں جونئیر شعرا ان کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔
کرونا کے دنوں میں سب گھروں میں مقید تھے، اسی زمانے میں احمد نوید کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے جڑا جو، ان کا شدید مداح تھا۔ اس گھرانے کا بچہ بچہ ان کا عقیدت مند۔ احمد جو خود ایک بھرے پرے گھرانے کے فرد تھے۔ مگر آہستہ آہستہ سوائے ایک بھائی کے سب ہی ملک عدم روانہ ہوئے۔ اپنوں کی محبت کو ترسے ہوئے آدمی نے ان کی محبت اور عقیدت کو دل سے قبول کیا۔ اس گھرانے کے افراد سے ہماری بھی بڑی اچھی دعا سلام تھی۔ اس گھرانے کی ایک محترم خاتون کی عقیدت و محبت سوا تھی۔ وہ احمد کو اپنے والد کی جگہ سمجھتی تھیں۔
ہمارے محبوب شاعر اور اکلوتے میاں اپنا زیادہ وقت آن لائن ان کے ساتھ بتانے لگے۔ ہمیں بھی کچھ فراغت کے لمحات میسر آئے۔ لیکن پچھلے ایک ماہ سے ہمارے شاعر کو ہماری پوسٹس اور تحاریر میں خامیاں نظر آنے لگیں۔
پوسٹ اور تحاریر تو ظاہر ہے انہیں وہ خاتون پڑھ کر اپنے لہجے میں سناتی تھیں۔ جو انہیں ہم سے بر گشتہ کر رہی تھیں۔ (ہمارے میاں آئی ٹی کی ہر قسم نابلد ہیں فون نمبر تک سیو کرنا نہیں آتا۔ فیس بک وغیرہ تو آگے کی چیز ہیں۔ کائنات میں کافی حد تک سکون اس وجہ سے بھی ہے )
خرابیاں دیکھنے کو کسی عینک کی ضرورت نہیں وہ ساری ہم میں بدر جہ اتم موجود ہیں۔ لیکن بچوں کو باپ کی حد سے بڑھی شاعرانہ عظمت اور ہماری خامیاں کم نظر آتی ہیں۔ اس لیے ایک روز انہوں نے اپنی ماں سے ان کی بڑھتی ہوئی بد سلوکی پر جواب طلبی کی اور اس سب کا سبب ان کا موبائل فون قرار دیا۔ جس میں زیادہ تر ویڈیو کال پر بات ہوتی تھی اور ان محترمہ کا چوکھٹا ہر وقت اسکرین پر سجا رہتا تھا۔
اس پر موصوف، بچوں پر دشنام طرازی اور دست درازی کے بعد گھر سے چلے گئے۔
دوسرے روز ہمیں ایک نمبر سے پیغام ملا کہ میں اب ساری زندگی لاہور میں بابا صدا حسین کے مزار پر گزاروں گا۔ اور اب مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔
ہم نے اس نمبر پر رابطے کی کوشش کی لیکن فون ریسیو نہیں کیا گیا، ہم نے اس نمبر پر ڈھیروں میسج کیے، مگر کوئی ریپلائی نہیں آیا۔ ہم نے ان کے ایک شدید مداح ہادی کو فون کر کے ساری صورت حال بتائی تب اس نے کہا کہ میر صاحب صبح چھ بجے اس کے گھر اضطرابی کیفیت میں پہنچے تھے۔ اور بتا یا کہ بچوں نے ان پر ہاتھ اٹھا یا تھا۔ ہم نے اسے کہا کہ آج کل انجکشن دستیاب نہیں ہو رہا جنونی کیفیت میں ؓ بات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن اسے ہماری بات کا یقین نہیں آیا اس نے اتنا کہا کہ اس نے کچھ پیسے دے کر انہیں روانہ کر دیا تھا۔
ہم اکثر رات کو مختلف اوقات میں اس مخصوص ڈھابے پر چھا پا مارتے جہاں یہ بیٹھا کرتے تھے۔ قریبی جاننے والے ان کی موجودگی کے بارے میں مختلف اطلاعات دیتے۔
دوسرے روز ان کے کراچی میں ہی مختلف جگہوں پر دیکھے جانے کی اطلاع ملی۔ ہم نے ہادی سے استفسار کیا تو جواب ملا ”وہ روحانی شخصیت ہیں ایک وقت میں مختلف جگہوں پر دیکھے جا سکتے ہیں“
ہم نے محترمہ کی بہن کو بھی فون کر کے احمد کی گمشدگی کا بتا یا، انہوں نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ ( بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے چند مداحوں اور اس شدید مداح گھرانے کے ایک ایک فرد کو ان کے مقام کا علم تھا)
ہم کیوں کہ تیس سالوں سے ان کی سیمابی، اضطراری و اضطرابی کیفیت سے آگاہ اور براہ راست اولین متاثرین میں سے ہیں اس لیے پریشانی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ اور کراچی میں کسی نے مختلف جگہوں پر دیکھے جا نے کا بتا یا تو خود تلاش میں سر گرداں ہو گئے۔ بچے باپ کے اس بچکانہ رد عمل پر سخت خفا تھے۔ کیوں کہ اس عرصے میں کسی بھی جھگڑے میں انہوں نے کبھی یہ حرکت نہ کی تھی۔ چھوٹے اور بڑے بیٹے کا کہنا یہ ہی تھا کہ وہ خود گئے ہیں، آ جائیں گے۔
لیکن منجھلا والا میری ذہنی کیفیت دیکھ کر مسلسل انہیں تلاش کر رہا تھا۔ چھٹے روز جب ہماری اعصابی اور جسمانی تھکن نے ہمیں تقریباً مفلوج اور ان کی باز یابی سے مایوس کر دیا تھا۔ کسی نے بتا یا کہ احمد جعفر طیار میں دیکھے گئے ہیں۔ ہم سویرے ہی بچوں کو سوتا چھوڑ کر جعفر طیار چلے گئے۔ دن کے ایک بجے مختلف گلیوں ڈھابوں امام بارگاہوں میں تلاش کرنے کے بعد ہم نے دن کے ایک بجے جوہر مہدی کو بھی بلا لیا وہ بھی ہمیں بائک پر بٹھا کر مختلف گھروں میں پوچھ گچھ کرتا رہا۔
وہ ہمارا شاگرد بھی رہ چکا تھا۔ ہماری ذہنی اور جسمانی حالت دگر گوں تھی۔ الہام کے او لیول کے امتحانات ہو رہے تھے۔ اس لیے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا دیا ہوا تھا۔
جوہر ہمیں اپنے گھر لے گیا زبر دستی کھانا کھلایا۔ اس کی بیوی جویریہ بھی ہماری حالت دیکھ رہی تھی۔ واپسی پر جوہر مہدی نے بصد اصرار ہمیں گھر ڈراپ کیا ہمارے ساتھ گھر کے اندر آیا۔ رامش نے ناراضی کا اظہار کیا کہ ہم کیوں گھر سے اکیلے انہیں ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ باپ کی اس بچکانہ حرکت پر بچے خفا تھے۔ مگر ہمیں بہت سے اوہام تھے۔ جن کا ہم بچوں سے اظہار کر کے انہیں پریشان نہیں کرنا
چاہتے تھے۔
اچانک ہم نے ایک خیال کے تحت محترمہ کے بھائی کو فون کر دیا۔ یہ متوازن شخصیت کا حامل ہے اس کا یہ قصور تھا کہ اسی نے اپنے گھرانے سے احمد نوید کا تعارف کروایا تھا۔
اس معصوم کا تا زندگی ہمارے گھرانے پر احسان رہے گا کہ اس نے میسج کیا کہ ان دنوں ان کی بہن آئی ہوئی تھیں۔ بہن نے میر صاحب کو لاہور کے لیے ائر پورٹ چھوڑا تھا۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہمیں ٹکٹ کی رسید بھیجیں۔
کہا گیا کہ ان کی بہن ایر پورٹ چھوڑ کر چلے آئی تھیں۔ مزید کچھ نہیں معلوم۔
ہم نے کہا ہمیں تو پولیس میں رپورٹ لکھوانی ہو گی۔ کیوں کہ آپ کی بہن وہ فرد ہیں جن سے احمد کے بارے میں کچھ پتہ چل سکتا ہے۔
ہم نے وہ میسج فوراً ہادی کو روانہ کیا تو پریشان ہو کر ان کا میسج آیا کہ انہیں کیوں کہ شاعر صاحب نے منع کیا تھا اس لیے ان کے حکم کے احترام میں وہ خاموش رہے ورنہ انہیں تو اول روز سے ان کے مسکن کا علم تھا اور مختلف بیانات دے کر ہمیں بھٹکانے کی شعوری کوشش وہ شاعر صاحب کے ”حکم“ پر کرتے رہے۔ پھر بیان بدلا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں۔ اور واقعی وہ اسلام آباد میں ان کے گھر تھے۔
اتنے دن گزرنے پر احمد کی اضطرابی کیفیت، جنون کو چھونے لگی۔ ان کے چیخنے چلانے، سے اب گھر بھر پریشان رہنے لگا تھا۔ پھر پولیس کی دھمکی پر انہوں نے اپنی عقیدت کو کچھ دیر ایک طرف کیا۔
ہمارے پاس میسج آیا کہ فلاں نمبر پر جب چاہیں شاعر صاحب سے بات کر سکتے ہیں۔ اور ہم سے معافی مانگی کہ کیوں کہ شاعر صاحب کا ”حکم“ تھا اس لیے ہمیں لاعلم رکھا گیا۔ محترمہ کے میاں نے بھی بوکھلا کر وائس میسج کیا۔ اور عذر، وہی کہ ہم میر صاحب کے حکم کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
خیر ہمارے شاعر صاحب نے ہماری آواز سنتے ہی ٹکٹ کٹایا اور اگلے دن سراسیمہ حالت اور وحشتوں کے ہمراہ ہمارے پاس تھے۔ ہمیں ان کی وحشتیں بھی عزیز ہیں سو چند دن بعد آہستہ آہستہ کیفیت معمول پر آئی۔
اب آپ بتائیے ایسے مداحوں کو جو ممدوح کی اضطرابی کیفیت میں دیے گئے بیان کو حکم سمجھیں اور اس کے پیاروں کو اس کی اپنے پاس موجودگی سے اس وقت آگاہ کریں، جب وہ ان سے سنبھل نہ رہے ہوں تو ایسے مداحوں کو مار دیا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
ایسے مداح سانپ کی مانند ہوتے ہیں جو اپنے ممدوح کے گھرانے میں زہر پھیلا کر کر اسے اپنے پیاروں سے دور کر دیتے ہیں۔


