چھٹی قسط۔ ” ایک اور خوب صورت دن“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ رات محفل شعر و غنا آخر شب جا کے اختتام پذیر ہوئی۔ چار سوا چار بجے میں سوئی لیکن زیادہ دیر نہ سو سکی۔ ساڑھے چھ بجے آنکھ کھل گئی۔ اب میں دوبارہ نہیں سو سکتی تھی لہٰذا اٹھ گئی۔ پتوکی کے برعکس فاروقہ میں رات نسبتاً خنک تھی۔ صبح بھی خنکی لیے ہوئے تھی لیکن یہ خنکی خوش گوار اور قابل برداشت تھی۔ میرے دیگر ہم سفر اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ میں کمرے سے باہر آئی۔ ہمارے میزبان میجر کھوسہ صاحب صحن میں اپنے ملازمین کو کاموں کے بارے میں ہدایات دے رہے تھے۔

ان سے دعا سلام ہوئی۔ انھوں نے دیکھا کہ میں صبح کی سیر کے لیے باہر جانا چاہ رہی ہوں تو انھوں نے اپنی کچھ رشتے دار خواتین کے حوالے کر دیا جو گیسٹ ہاوٴس کے پچھلے لان میں صبح کی خوشگواریت سے لطف لے رہی تھیں۔ ان میں کچھ بچیاں تھیں اور کچھ ان کی والدہ محترمہ۔ بہت خوش اخلاق لوگ تھے۔ لان کے کنارے درخت لگے ہوئے تھے۔ سلیقے سے ترشی ہوئی سبز گھاس پر سفید میز کرسیاں بہت نمایاں ہو رہی تھیں ایک طرف سوئمنگ پول بنا ہوا تھا لیکن اس لان کی جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھے جھولے۔

مجھے ہمیشہ سے ہی جھولے پسند اور بہت زیادہ پسند ہیں اتنے کہ میں کہیں جھولا دیکھ لوں تو اس کی پینگ لینے کو دل مچل جاتا ہے چناں چہ یہاں بھی میں جھولا دیکھ کے رہ نہ سکی اور فوراً اس کی طرف لپکی۔ صبح کی نتھری ہوا، سرسبز ماحول، پرکیف فضا اور ایسے میں جھولے کی بہت بلند پینگیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ گویا میں ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو سکتی ہوں۔ بہت پرلطف کیفیت تھی جو شاید پرندوں کو اس وقت محسوس ہوتی ہو جب وہ نیلگوں آسمان کی بے کراں وسعتوں میں پر پھیلائے اڑتا چلا جا رہا ہو۔

یقیناً اسے بھی یہ ہی لگتا ہو گا کہ آسمان کو اپنے بازووٴں میں لے سکتا ہے۔ بہت دیر میں اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ بچپن میں پڑھی گئی انگریزی کی ایک نظم یاد آ گئی جس میں جھولا جھولنے کی اس کیفیت کو بہت خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ میں اس قدر لطف اندوز ہو رہی تھی کہ معلوم ہی نہ ہوا وقت کیسے گزرا۔ ملازمہ ناشتے کے لیے بلانے آ گئی۔ ناشتے کے بعد سب نے کھوسہ صاحب کی زمینوں کی سیر کا پروگرام بنایا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ چاروں طرف تاحد نگاہ صرف سبزہ ہی سبزہ تھا اور درمیان میں گیسٹ ہاوٴس کی عمارت تھی۔

سورج کی سنہری کرنیں آسمان کی نیلاہٹ کو سنہری سی جھلک دے رہی تھیں۔ نیلے آسمان کے پیش منظر میں یہاں سے وہاں حرکت کرتے ہوئے سفید بادلوں کے ٹکڑے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے نیلے سمندر کے فراخ سینے پر سفید بجرے تیر رہے ہوں۔ کھیتوں کے درمیان کچے راستے، کھیتوں کے کنارے کہیں کہیں درخت، ایک کھیت کے کونے پہ نلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا ہوا دیکھ کر سب اس سمت چل پڑے۔ شہر کے لوگوں کے لیے یہ ایک انوکھی چیز تھی۔ اس نلکے کے ساتھ بھی تصویریں بنوائی گئیں۔

جس کو جب جو منظر جو جگہ زیادہ اچھی لگتی وہ وہاں تصویر یا سیلفی لے لیتا۔ ان کھیتوں میں کہیں تو فصل موجود تھی اور کہیں سے فصل کاٹ لی گئی تھی۔ خوش گوار ہوا اور ماحول کی کشادگی کا احساس روح تک کو سرشار اور ایک انوکھی تازگی کے احساس سے معمور کر رہا تھا۔ آج ہمارے میزبان نے ہماری دل بستگی کے لیے نیزہ بازی کے مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔ گھڑ سوار دور سے گھوڑا تیزی سے دوڑاتے ہوئے آتے اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے نیزے سے زمین میں گڑا ہوا لکڑی کا ٹکڑا پرو کے اٹھا لیتے۔

یہ بہت مہارت کی بات تھی۔ ہم سب گھڑ سواروں کی مہارت کو تالیاں بجا کے داد دے رہے تھے۔ پھر گروپ کے کچھ لوگوں کو ارطغرلی جوش آیا اور انھوں نے گھوڑوں پہ سوار ہوکے نیزے تھام کے تصویریں کھنچوائیں تاکہ لوگوں پر ان کی بہادری کا رعب پڑے۔ تصویر کشی سے فارغ ہوکے گنے کے کھیتوں کا رخ کیا گیا اور گنے توڑ توڑ کے خوب ہی کھائے گئے۔ ہم جب گیسٹ ہاوٴس پہنچے تھے تب ہمیں سب سے پہلا مشروب جو دیا گیا تھا وہ میجر صاحب کی زمینوں کے گنے کا تازہ رس تھا جو بے حد لذیذ اور فرحت بخش تھا۔

سچ ہے تازہ اور خالص چیزوں کا ذائقہ ہی اور ہوتا ہے۔ میجر صاحب کی زمینوں پہ گھومتے پھرتے ہم نے ان کے گھوڑوں کا اصطبل بھی دیکھا جہاں اعلیٰ نسل کے گھوڑے موجود تھے۔ گیسٹ ہاوٴس واپسی سہ پہر کو ہوئی۔ واپس آنے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تاکہ کچھ دیر آرام کرسکیں۔ شام کی چائے قدرے تاخیر سے پی گئی۔ چائے پینے کے بعد پھر محفل جمی لیکن یہ صرف ہمی لوگوں کی محفل تھی۔ کرکٹ میچ بھی تھا۔ کچھ لوگوں کی توجہ اس پہ بھی تھی۔

حسب روایت باتوں کے ساتھ گانے کا سلسلہ بھی چلا۔ ویسے تو ہمارے گروپ کے مستقل گلوکار زیفرین ہیں جنھیں گروپ ممبرز کبھی اکیلے گانے کا موقع نہیں دیتے۔ ادھر زیفرین نے گانے کا بول اٹھایا فوراً ہی یاسمین، آئرین، صائمہ، میں غرض کہ گروپ کا ہر فرد زیفرین کی آواز میں آواز ملانے لگتا۔ ہمارے گروپ کا سب سے ننھا رکن ثمر کبھی تو اپنے امی ابو کی گود میں بیٹھے بیٹھے حیرانی سے ہم سب کی شکلیں دیکھتا رہتا اور کبھی ایں آں کر کے سب کا ساتھ دینے کی کوشش کرتا۔

یہ شام، انوکھے جذبوں کی سی رنگینی لی ہوئی یہ شام بہت مختلف تاثر کی البیلی سی شام تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم سب ایک ہی خاندان کے فرد ہوں جو مل جل کے خوشیاں منا رہے ہیں۔ ویسے تو گلوکاری کے فرائض زیفرین ادا کرتے ہیں لیکن اس شام پہلی مرتبہ ہم نے آئرین اور زیفرین کی نوعمر صاحب زادی علیزا عرف دیا کو سنا۔ کیا زبردست گایا دیا نے۔ خاص کر ”جاں نثار“ تو دیا نے ایسے عمدہ انداز میں گایا کہ سماں باندھ دیا۔ میں نے یہ گانا پہلی مرتبہ سنا اور اس گیت نے اس شدت سے مجھے اپنے سحر میں لیا کہ میں اس کے بعد بھی کئی دنوں تک اس کے تاثر سے نکل نہیں پائی۔

یہ خوب صورت شام بہت پر تاثر تھی۔ کسی کا بھی اس محفل سے جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ ملازمہ کھانا تیار ہونے کی اطلاع دینے آئی تو میجر صاحب نے اسے کھانا وہیں لانے کا کہا۔ سب لوگوں نے کھانا وہیں کھایا۔ کھانے میں مرغی کا بھنا ہوا سالن، مکس سبزی اور میٹھا تھا۔ دو تین طرح کی کولڈ ڈرنک بھی کھانے کا حصہ تھی۔ کھانے کے بعد بھی کچھ دیر گانے گائے گئے۔ پھر کچھ لوگ تو ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھنے لگے اور بقیہ نے اپنے کمروں کا رخ کیا تاکہ نیند لے سکیں کیوں کہ اگلی صبح ہمیں پھر سفر کرنا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments