ملک میں سماجی تبدیلی وسیع تر ترقی پسند تحریک ہی لا سکتی ہے
آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی سے انحراف کرنے والے ممالک کو تاریخ معاف نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے ہمارا وطن پاکستان بھی 73 برس سے اسی راستے پر گامزن ہے اور واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ مارکسی دانشور اور سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر محمد اعظم خان کا برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے کیے استقبالیہ سے خطاب۔ تقریب میں لیڈز، مانچسٹر، رچڈیل، اور نیو کاسل سے انقلابی کارکنوں کی شرکت۔
تقریب سے اظہار خیال کرنے والوں میں پرویز فتح، نامور صحافی ظفر تنویر، سابق لارڈ میئر راجہ غضنفر خالق، نامور صحافی اور عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر محبوب الہی بٹ، نائب صدر صغیر احمد، جنرل سیکرٹری لالہ محمد یونس، پروفیسر ریاض کھوکھر، نامور پریزینٹر شاہیں بٹ، پرویز مسیح، خالد سعید قریشی، کونسلر محمد شفیق، ڈاکٹر فیض رسول، محمد ضمیر بٹ، مبشر علی، نظر حسین، ناتھن جاوید اور اسد ضیاء شامل تھے۔
جسٹس ریٹائرڈ اعظم خان نے کشمیر کے تاریخی پس منظر پر بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر بات کی۔ انہوں نے تقسیم ہند سے قبل کشمیر کی آئینی، قانونی اور سیاسی حیثیت اور تاریخی پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور پاکستان کے ساتھ الحاق، بعد ازاں کشمیری عوام کے جمہوری حقوق اور خطے کی آزاد حیثیت سے روگردانی کا تاریخی حقائق کی روشنی میں تجزیہ پیش کیا۔ آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کے ایک ڈپٹی سیکرٹری کے لیول کا پاکستانی افسر کشمیری عوام اور وہاں قائم کی جانے والی حکومت کو کنٹرول کرتا ہے اور کسی کو اف کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔
جو پاکستانی سیاسی پارٹی اقتدار میں حصہ دار بنتی ہے، کشمیر میں بھی انہیں کے کارندے حکومت بنا لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی یہ صورت ہے کہ اس وقت 26 کے قریب ایسی سیاسی جماعتیں بنی ہوئی ہیں جو کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے کا دعویٔ تو کرتی ہیں لیکن جاگیردارانہ تنگ نظری اور انا پرستی کا یہ عالم ہے کہ ان کی لیڈرشپ آپس میں اکٹھے بیٹھ کی چائے پینے کو تیار نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں وہ کشمیر اور وہاں کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کر پائیں گے، آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1931 ء میں میرپور میں مالیہ کی عدم ادائیگی کی تحریک کے دوران پہلی بار انگریز فوج نے قدم رکھا تو عوامی حقوق کی جدوجہد شدت سے جاری تھی اور 1939 ء میں ریاست کے عوام کی آواز سنتے ہوئے انہیں پہلا آئین دیا گیا۔ لیکن آج جسے ہم آزاد ریاست یا پھر آزاد حکومت کہتے ہیں وہاں آئین نہیں بلکہ ایک ایکٹ نافذ ہے اور ہم سب اسی ایکٹ کے تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔
کشمیر میں ترقی پسند تحریک کے پنپنے کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب 1966 ء میں میرپور میں چند نوجوانوں نے مل کر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی تو اسے بڑی تیزی سے پورے آزاد کشمیر میں پذیرائی ملی اور ہر شہر میں نوجوان منظم ہونے لگے۔ اس کے قیام میں جاوید نظامی، عبدالمجید، ممتاز راٹھور اور کچھ دوسرے ساتھیوں کا اہم کردار رہا۔ یہ این ایس ایف، پاکستان کی این ایس ایف کا حصہ نہ تھی اور آزاد کشمیر میں اپنے آزادانہ تشخص کی وجہ سے اس قدر مقبول ہوئی کی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اسے واحد اپوزیشن تصور کرنے لگے، اور ملکی اشرفیہ، رولنگ الیٹ اور بیوروکریسی اسے توڑنے اور کمزور کرنے پہ لگ گئے۔ آج آزاد کشمیر میں متعدد ترقی پسند سیاسی جماعتیں موجود ہیں جو ایک دوسرے کے وجود کو کم ہی تسلیم کرتی ہیں۔
پاکستان میں ترقی پسند سیاست کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ اعظم خان نے کہا کہ آج کس طرح بالا دست طبقات نے ملک اور اس کے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور مذہبی کارڈ استعمال کر کے ایک طرف لوگوں کو بھڑکایا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکومت میں بیٹھے لوگ اسی مذہبی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی تو جو ان کے اصل مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ملک میں سٹیٹس کو کو قائم رکھنے کے لیے جاگیرداروں کے خاندان ملکی اکانومی اور سیاست پر اپنا کنٹرول بڑھا رہے ہیں۔
وہ ایک بیٹے کو فوج میں بھیج دیتے ہیں تو دوسرے کو سول بیوروکریسی میں بھیج دیتے ہیں۔ اب تو وہ چھوٹی موٹی صنعت لگا کر شہری اشرفیہ بھی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی پسند سیاست 1960 ء کی دہائی میں پنپی۔ جلد ہی ہر شہر میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگنے لگے اور سرخ پرچم لہراتے کارکنوں کے جتھے شہروں میں نظر آنے لگے۔ ملک میں نیشنل عوامی پارٹی کا قیام بہت ہی مثبت عمل تھا، جو مشرقی پاکستان سمیت ملک بھر میں ایک مضبوط اور منظم سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی۔
اسی کی بدولت صوبائی خود مختاری، سامراجی شکنجے سے آزادی اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی ملکی سیاست کا حصہ بنتی نظر آنے لگی جس نے ملک میں نوآبادیاتی باقیات کو چیلنج کر دیا۔ بدقسمتی سے یہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ورنہ آج پاکستان کا نقشہ اور جمہوری اداروں کی حیثیت مختلف ہوتے ؛ نہ بنگلہ دیش بنتا، نہ بار بار ملک میں مارشل لا لگتا اور نہ ہی طالبان، تحریک لبیک اور سپۂ صحابہ جیسے انتہا پسندوں کے جتھے بنانے کی نوبت آتی۔ ملک کی غیر جانبدار حیثیت اور آزاد خارجہ پالیسی ہوتی اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی زمانہ تھا جب میں بھی ترقی پسند سیاست کا اسیر ہوا۔ دنیا بھر میں زبردست لہر تھی، عالمی سطح پر حالات سازگار تھے، اور پاکستان بھر میں طلباء سیاست اور ٹریڈ یونین تحریک زوروں پر تھیں۔ خطے کے ہر ملک میں زرعی ریفارمز اور بنیادی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کے لیے آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ پاکستان میں این ایس ایف ایک ملکی سطح کی ترقی پسند تنظیم بن چکی تھی۔ بعد ازاں لاہور میں اسلامی جمعیت طلباء کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیشنلسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی، جو جلد ہی پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی قائم ہر گئی۔
این ایس او کے قیام اور تعلیم و تربیت میں ممتاز مارکسی دانشور پروفیسر عزیز الدین احمد، خالد محمود اور دیگر بائیں بازو کے راہنما کا اہم کردار رہا، جس کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشنوں میں ہم جمعیت کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کر پائے۔ ان دنوں میں بھی این ایس او میں سرگرم ہو گیا اور ترقی پسند سیاست میں بھرپور حصہ لینے لگا۔
یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے کہ چین، سوویٹ یونین اختلافات اور نیشنل عوامی پارٹی میں سوشلسٹوں اور قوم پرستوں کے کے درمیان معرکے نے نیشنل عوامی پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ترقی پسندوں کی گروہ بندی نے پارٹی کی ایکتا کو ختم کر دیا اور بہت ساری پارٹیاں اور گروپ وجود میں آ گئے۔ بہت سے ترقی پسند کارکن مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے یا پھر دائیں بازو کی جماعتوں میں شامل ہو گئے اور اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ جس سیاست کو ترقی پسندوں نے اپنے خون پسینے سے پروان چڑھایا تھا اس کا پھل مسٹر بھٹو نے کاٹا۔
سیاست میں شخصیت پرستی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی سے ترقی پسندوں میں بھی موجود ہے جس کی ایک واضح مثال 1970 ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد ہونے والی تاریخی کسان کانفرنس ہے، جس کا کریڈٹ دیتے وقت اسے بھاشانی کسان کانفرنس کہہ کر حقیقی کسان رہنماؤں سے کتنی آسانی سے چھین لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ہم اپنی تحریک میں سے حقیقی لیڈرشپ کو کیوں نہیں ابھرنے دیتے؟
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ایک منظم، متحرک اور قابل عمل ترقی پسند تحریک پیدا کرنے کے لیے ملکی سیاسی ڈھانچہ، معیشت، پیداواری رشتوں اور سماجی رویوں کا تفصیلی تجزیہ کر کے ایک متحدہ انقلابی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی کچھ جماعتوں کو ملا کر عوامی ورکرز پارٹی بنانے کا عمل قابل تحسین ہے مگر ابھی اور بہت کچھ کرنا ہو گا کیونکہ ابھی تک ملکی سطح پر بائیں بازو کی ایسی کوئی سیاسی جماعت ابھر کر سامنے نہیں آئی جو عوام کو قیادت فراہم کر سکے۔ ملکی عوام غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بیماریوں کی وجہ سے بری طرح سے پس رہی ہیں اور قیادت کے لیے منتظر ہیں۔ ملک کو سماجی تبدیلی کی ضرورت ہے جس کی قیادت صرف ترقی پسند تحریک ہی پیدا کر سکتی ہے۔
تقریب میں پاکستان کے نامور ترقی پسند راہنما راؤ طارق لطیف اور زمان خان کی پاکستان کا مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کو سیاسی شعور دینے اور ان کے حقوق کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ تقریب کے آخر میں برطانیہ میں پہلے ایشیائی لارڈ میئر محمد عجیب کی زندگی پر اشتیاق احمد، ظفر تنویر اور یعقوب نظامی کی مرتب کردہ کتاب ان نے بیٹے محمد عرفان نے اور پروفیسر محسن ذوالفقار اور پروفیسر فیبی حسین کی مرتب کردا کتاب ”الوسیو ڈان، فیض احمد فیض“ لالہ محمد یونس نے جسٹس ریٹائرڈ محمد اعظم خان کو پیش کیں۔






