ریاست مدینہ۔ مفہوم اور تقاضے
اسلام کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں کئی حکمران آئے، اور اپنے اپنے انداز سے حکومت کرتے ہوئے رخصت ہو گئے، جن کے مفصل حالات اب تاریخ کی کتب میں بتمامہ موجود ہیں، اور جن کو منطقی اور فلسفیانہ انداز میں پڑھنے سے جہاں اس وقت کے حالات کا علم ہوتا ہے، وہیں ہم اس سے اپنے موجودہ دور کا موازنہ کر کے حالات کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
اسلام میں فرمانروائی کی ابتداء خلافت علیٰ منہاج النبوۃ سے ہوتی ہے، جس کی کل مدت تیس سال بنتی ہے۔ اس کے بعد احادیث نبویہ کی رو سے ملوکیت کا دور دورہ شروع ہوتا ہے۔ اور یوں یہ ملکیت شخصی حکومت کی شکل میں نمودار ہونے کے بعد خاندانی استحقاق کی صورت میں بدلی اور بنو امیہ، بنو عباس، فاطمی اور عثمانی خاندان اپنے اپنے وقت پر خلافت کے دعویداری کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلاد عرب سے باہر عجم کے اندر صفوی خاندان ایران کے اندر اور سادات، غلاماں، لودھی اور مغلیہ خاندان ہندوستان کے اندر حکمرانی کرتے رہے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک خاندان اور بادشاہ نے اپنے آپ کو خلافت کا نمائندہ اور اپنی حکومت کو اسلامی حکومت کا نام ہی دیا اور جیسے تیسے کر کے اپنی حکومت کو چلاتے رہے۔
تاہم یہاں ہم ان دو ادوار کا اعنی خلافت علی منہاج النبوۃ اور دور ملوکیت کا موازنہ کریں، تو ہمیں ان دو ادوار کے اندر کئی ایسی چیزیں ملتی ہیں جو باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں، اور اسلامی تاریخ پہ گہری نظر رکھنے والا انسان کسی صورت دور ملوکیت کو اسلامی خلافت کا نمائندہ کہنے سے اپنے آپ کو معذور پاتا ہے۔ اس میں سب سے پہلا فرق خلیفہ کے جانشین کا آتا ہے، جہاں خلفائے اربعہ نے اپنے بچوں کو خلیفہ کے چناؤ والے عمل سے باہر رکھا اور اس شخص کو ہی خلافت کا بار دیا، جس کے اندر اس کو اٹھانے کی اہلیت اور صلاحیت اس میں موجود تھی۔
(سیدنا حسن مجتبیٰ گو حضرت علی کے بعد خلیفہ راشد بنے، مگر ان کا نام ان کے والد گرامی نے نہیں پیش کیا تھا، بلکہ آپ کے شیعہ نے برضا و رغبت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی) ۔ اس کے علاوہ بے لاگ احتساب، قانون کی حکمرانی، بلا تفریق رنگ، نسل اور قومیت انصاف کی فراہمی، انسانی بنیادی حقوق کی پاسداری، وسائل روزگار کے یکساں مواقع اور صرف اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے جہاد با السیف وغیرہ کا اجراء اس دور زریں کی درخشندہ مثالیں ہیں۔ مگر اس کے بعد نفسی خواہشات اور ذاتی اثر و رسوخ کے بل پر کاروبار حکومت کو چلانے اور اپنی ذاتی رائے کو عقل کل مانتے ہوئے اختیارات اور عہدوں کی تقسیم کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج موجودہ زمانے میں اتنی بھیانک صورت اختیار کر چکا ہے کہ عقل حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ یہ مقدس شعبہ کیا سے کیا ہو گیا۔
ہمیں موجودہ زمانے میں جو جماعتیں اسلامی نظام کے نام پر دعوت دیتی نظر آتی ہیں، ان کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، بلکہ ماضی بعید اور قریب میں بھی جب کسی کے اندر شخصی حکومت اور ذاتی انا کی تسکین کا شوق پنپتا تھا تو وہ اسی آسان نعرے کا سہارا لے کر عوام الناس کے جم غفیر کو اپنا ہمنوا بنا کر اس وقت کی قائم حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر براجمان ہوتا تھا۔ اور حکومت میں آتے ہی وہ سب کچھ کرتا تھا، سوائے اسلام کو نافذ کرنے اور مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کے۔
اور یوں وہ اسلام کو بطور سیڑھی استعمال کرتے ہوئے اقتدار پہ قابض ہو کر ان تمام اقدامات کو اپنے لئے جائز سمجھتا تھا جس میں خالصتاً اس کی اپنی ذات کا فائدہ اور اس کی نسلوں کا معاشی تحفظ تو شامل ہوتا مگر حقیقت میں اسلام کے ساتھ اس کا دور دور تک کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ بنو امیہ کے آخری دور میں بنو عباس نے یہی چال استعمال کی اور آل محمد ﷺ کو اقتدار دلوانے کے خوشنما نعرے کو استعمال کرتے ہوئے، بنو امیہ کا تختہ الٹا۔ مگر حکومت ملتے ہی اسی آل محمد سے آنکھیں پھیر لیں، جن کو بطور وسیلہ استعمال کر کے وہ اقتدار کی منزل تک پہنچے تھے۔
ہمارے ملک میں بھی اسی نسخہ کیمیاء کا استعمال اس شاطرانہ انداز میں کیا جاتا ہے اور ہر دس، بیس برس کے بعد ایک نیا دعویدار سامنے آتا ہے، جو اسلامی حکومت کے نفاذ کا نعرہ لگا کر حکومت وقت کے ایوانوں میں لرزہ برپا کرتا ہے۔ اور اسلامی ریاست کے ملفوف میں ذاتی اقتدار کو حاصل کرنے کی خاطر عوام کو اپنے ساتھ ملا کر، تحریکات چلا کر ان کو بیوقوف بناتا ہے۔ اور نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس جھوٹ کی ابتداء اس ملک کے بننے سے کچھ عرصہ قبل رکھی گئی اور سادہ لوح عوام کو مذہب کے نام پر بیوقوف بنا کر اپنی جاگیروں، صنعتوں اور بے پناہ دولت کو تحفظ دینے کی خاطر اسلامی اور پاک ملک کے حصول کا نعرہ بلند کیا گیا۔
چنانچہ ان زعماء نے ایک مخصوص وقت کے لئے، اسلامی شعار کا لبادہ اوڑھ کر اور کٹھ پتلی ملاؤں اور صوفیوں کی مدد سے عوام الناس کو اسلام کے نام پر ایسے ورغلایا کہ ان کو ہر مخالف اٹھنے والی آواز صدائے کفر معلوم ہوتی تھی، اور یوں اسلامی حکومت کا سہانا سپنا سجائے، ریاست مدینہ کی جھلک دیکھنے کی خاطر اپنا تن من دھن لٹا کر ان لوگوں نے ہجرت کی صعوبت برداشت کی اور جب اس ملک میں وارد ہوئے تو ان کو سبھی کچھ نظر آیا سوائے اسلام اور اسلامی حکومت کے۔ چنانچہ ان کے ارمانوں پر آہستہ آہستہ اوس پڑتی رہی، اور وہ مایوس ہو کر دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔
مگر جیسے ہی اس حادثہ دلفگار کی یاد، اذہان و قلوب سے محو ہوئی تو ان شاطر اور لومڑی کی مانند چالاک چہروں نے اس کے بعد کئی بار اسلام کو خطرے میں بتا کر عوام الناس کو بیوقوف بنایا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اگر کسی نے اسلامک سوشلزم کو بنیادی منشور کہا تو کہیں روس کو دہریا بنا کر اقتدار پہ قبضہ کیا گیا۔ کہیں سودی نظام سے چھٹکارا دلانے کی امید دلائی گئی، تو کہیں پورے خطے میں شریعت کے نفاذ کا وعدہ کر کے عوام الناس کی توجہ ریاست مدینہ کے قیام کی جانب مبذول کروائی گئی۔
اے کاش! کہ ہم تھوڑی سی عقل بھی اگر رکھتے ہوتے تو یہ سوال ہمارے اذہان میں ضرور اٹھتا کہ جو جماعت اسلام کے نام پر تحریک اٹھا رہی ہے اس کا بنیادی منشور کیا ہے اور اس جماعت کے ارکان کا طرز عمل اسلامی فرامین کے ساتھ کس حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ جس جماعت کا سربراہ اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر رکھنے پہ یقین رکھتا ہو، اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھ کر ہر تنقید اور اصلاح سے مبرا جانتا ہو، اس کی قائم شدہ جماعت سے ہم اسلامی نظام کے نفاذ اور ریاست مدینہ کے قیام کی اگر امید باندھ لیں تو اس سے بڑی حماقت کا شاید تصور بھی محال ہے۔
اسلام کہیں بھی نظام کو نافذ کرنے سے پہلے ان افراد سے کچھ تقاضے کرتا ہے، جن کو پورا کرنا اس جماعت کے ذمہ ہوتا ہے۔ ان تقاضوں میں تزکیہ نفس، کردار کی پاکیزگی، معاملات میں شفافیت، رنگ، نسل ، مذہب اور قومیت کے تعصبات سے انکار، اپنے آپ کو قانون کے سامنے جوابدہ سمجھنا اور ماننا، نفسی اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کی بجائے محض اور محض اعلائے کلمتہ اللہ کا پرچار اور ذہن و قلب میں کل انسانیت کی فلاح و بہبودی کا منشور ہونا لازم اور فرض ہے۔ اور یہی چیز اس جماعت کے سربراہ کے قول و فعل سے مترشح ہو کر جماعت کے دوسرے ارکان کے واسطے لائحہ عمل کا کام دیتی ہے۔ گویا یہ وہ بنیادی پیمانہ ہے جس کی مدد دے ہم اس جماعت اور اس کے ملحقہ ارکان کی ذاتی زندگی کا موازنہ کر سکتے ہیں۔
اگر جماعت کے اندر خود احتسابی کا عمل ندارد اور کل انسانیت کی جامع فلاح کی بجائے محض ذاتی نمود و نمائش اور من مانے اصولوں کی حکمرانی کا رواج ہو تو اس جماعت کا اسلامی حکومت کے احیاء کا نعرہ بلند کرنا ایک بہت بڑی منافقت ہے اور اس کے ماسواء کچھ نہیں۔
ایک اور بہت بڑا مغالطہ جو ہم ان اسلام کے نام پر تشکیل پانے والی جماعتوں سے کھا جاتے ہیں، وہ چند بظاہر جبہ و دستار سجائے ان مذہبی نمائندوں کا وجود ہے جو جماعت نے اپنے مطلوبہ مقاصد کے واسطے اور عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر بادل نخواستہ اپنے ساتھ رکھے ہوتے ہیں، جو اپنی شیریں زبانی، بے مثال خطیبانہ صلاحیت اور جسمانی اداکاری سے عوام الناس کے اذہان و قلوب کو ایسے مسخر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں خیرہ اور اذہان و قلوب کچھ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔
لہذا ان کے واسطے اسلامی حکومت کے قیام کی سب سے بڑی امید اور نشانی ان افراد کا وجود نظر آتا ہے، جو جماعت نے مذہبی ڈھال کے طور پر اپنے ساتھ رکھے ہوتے ہیں، مگر ان خود ان صاحبان جبہ و دستار کو ریاست مدینہ کے تقاضے اور اس کے خد و خال سے قطعاً کوئی آگاہی نہیں ہوتی، ۔ مگر پیٹ کا رزق پالنے اور اپنے ذاتی کاروبار کو چمکانے کی خاطر وہ بھی اس امید پر ساتھ ہو لیتے ہیں کہ اقتدار نصیب ہونے کے بعد ان پر بھی رزق کے دروازے وا ہوجائیں گے اور یوں ان کی آنے والی نسلیں بھی معاشی فکر سے آزاد ہوجائیں گی۔
لہذا کسی بھی مذہبی اور غیر مذہبی جماعت کی طرف سے ریاست مدینہ کے احیاء کا نعرہ بلند ہوتے ہی، اس جماعت کا حصہ بننے کی بجائے پہلے ہمیں ریاست مدینہ کے بنیادی خد و خال اور تقاضوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور اس کسوٹی سے اس جماعت کو پرکھ لینا چاہیے۔ محض چند ظاہری عبادت گزار چہروں، جبہ و دستار والے اجسام اور کھوکھلے نعروں پہ قناعت کرتے ہوئے اگر ہم بیوقوف بنتے رہے تو اس میں کسی اور کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہی قصور ہو گا۔ چنانچہ کسی بھی حال میں جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا سب کچھ لٹانے کی بجائے، پہلے عقل و خرد سے مشورہ ضرور کیا جائے اور عقل و خرد انسان کو کبھی غلط راہ نہیں سجھاتے بشرطیکہ انسان نفسانی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر عقل کو اپنا رہنما اور مشیر جانے۔


