صنف نازک اور اس کا استحصال۔ ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت صنف نازک نہیں ہے۔ نا کبھی تھی نا کبھی ہو گی۔ یہ میری رائے ہے۔ اگر آپ کی رائے کے مطابق عورت صنف نازک ہے بھی تو یہ ہماری رائے کا اختلاف نہیں بلکہ ہمارے ذہنوں میں موجود نازک کی تعریف کا فرق ہے۔

عورت تخلیقی مراحل سے گزرتی ہے۔ تخلیق۔ ایک نئی زندگی کی تخلیق۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ ایک نئے وجود کو جنم دینے کی ساتھ ساتھ وہ اس عورت کا اپنا بھی دوسرا جنم ہوتا ہے۔ ایک لڑکی سے عورت تک کا ارتقا۔ یہ ارتقائی اور تخلیقی مراحل اتنے آسان نہیں۔ ذہنی جسمانی روحانی تمام توانائیاں مرکوز کرنی پڑتی ہیں تب ایک نئی زندگی نشو نما پاتی ہے۔ ان مراحل سے گزرنے والا وجود نازک کیسے ہو سکتا ہے؟

ہاں عورت پیچیدہ ضرور ہے۔ پیچیدہ۔ بہت پیچیدہ۔ جسے سمجھنے میں تمام فلسفی دانشور اور مفکرین ناکام رہے۔ یہاں تک کہ اسلام نے بھی یہ کہہ کر اس بحث پر خاتمے کی مہر ثبت کر دی کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے اسے ایسا ہی رہنے دو، سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ ٹوٹ جائے گی۔

دو پرزے، ایک عام سا اور دوسرا جس میں تہ در تہ نئی پرت ہو، ہر زاویے پر نیا رنگ ہر رنگ میں نیا روپ۔ جس کا میکنزم ہماری سمجھ سے باہر ہو۔ کیا ہم اسے نازک یا کمزور کہیں گے۔ ؟ نہیں وہ کمزور نہیں پیچیدہ ہے۔ سمجھ سے باہر کی حد تک پیچیدہ۔ مگر اس سب کے باوجود بہت مضبوط۔

عورت زندگی میں جن مراحل سے گزرتی ہے مرد ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بلوغت کو پہنچتے ہی وہ ایک دم سے سمجھدار ہو جاتی ہے۔ آنے والی زندگی کے لیے تو اسے بہت بچپن سے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایک دم سے سب چھوڑ چھاڑ کر بالکل نئی جگہ پر جانا اور وہاں ایڈجسٹ ہونا آسان تو نہیں نا۔

وہاں بھی خاوند اور اس کے گھر والوں کے دلوں میں اپنا مقام بنانا کوئی آسان کام تو نہیں۔

اسلام نے عورت کو مرد سے ایک درجہ کم دیا ہے۔ مجھے اس سے بالکل انحراف ہے نہ ہی کوئی اعتراض۔ مجھے اعتراض ہے تو اس استحصال سے جو اس صنف کو کمزور اور کمتر ثابت کر کے اس پر کیا جا رہا ہے۔ عورت کو ایک درجہ کم مرد کو اس پر ظلم کرنے اس کے حقوق پامال کرنے یا اس پر اپنا جابرانہ مسلط قائم کرنے کے لیے نہیں دیا گیا۔ بلکہ قدرت کو خاندانی نظام تشکیل دینا تھا۔ کسی بھی نظام میں کچھ کلاسز ہوتی ہیں۔ مرد کو طاقت کا منبع بنایا گیا اور اسے حفاظت اور معاش کی ذمہ داری سونپی گئی۔

یہ فرق ان میں ذمہ داریاں بانٹنے کے لیے اور پورے نظام کو خاص سمت میں چلا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ کسی بھی چیز کا غلط استعمال کیا جائے تو جلد ہی اس کے مضر اثرات سامنے آ جاتے ہیں۔ صدیوں کے ناروا سلوک سے بھی یہیں ہوا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ایک ایسی نئی نسل تیار ہو چکی ہے جسے مرد ذات سے ہی نفرت ہے۔ جو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس کے لیے مذہبی، معاشرتی، اخلاقی اور خاندانی حدود اور اقدار کوئی معنی نہیں رکھتی۔

میں ان کے مقصد کی حمایت کرتا ہوں مگر مجھ ان کے طریقے پر اعتراض ہے۔ مجھے ان پر ہوئے استحصال کا مکمل احساس ہے لیکن اس کے بدلے میں جو وہ ہم سے مانگ رہی ہیں جو رنگ وہ ہمارے معاشرے کی تصویر میں بھرنا چاہتی ہیں ہمیں ان رنگوں والی تصویر قبول نہیں کیونکہ وہ تصویر ہمارے مذہب اور ہماری اخلاقیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

میرے نزدیک اس کا ایک ہی حل ہے۔ کسی بھی کام کو سدھارنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے وہیں سے پرکھا جائے جہاں سے وہ بگڑا تھا۔ رسی کو سیدھا کرنے کے لیے اسے وہیں سے ٹھیک کیا جاتا ہے جہاں سے بل آئے تھے۔

میری رائے کے مطابق معاملہ وہیں سے بگڑا تھا جہاں ہم نے اپنے دین کے تشکیل کردہ نظام کو چھوڑ کر اس سب کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنا چاہا۔ ہم دوبارہ سے دین کا دامن پکڑ کر اس سب میں سدھار لا سکتے ہیں۔ کیونکہ دین اسلام میں پیش کیا گیا عورت کا روپ ہی بہترین روپ ہے۔ اور اس کے مقرر کردہ حقوق ہی عورت کی عظمت کے شایان شان ہیں جن پر عمل کر کے ہم ایک متوازن اور مثالی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

طلحہ حبیب کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments