کُچھی- طنزیہ و مزاحیہ تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ لوگ بڑے ”کچھی“ ہوتے ہیں، لفظ ”کچھی“ کا مطلب آپ کو کسی بھی ڈکشنری میں شاید نہ ملے کیونکہ یہ میرا ذاتی ایجاد کردہ ہے، جس کے معنی ہے ”نا ماننے والے“ ۔

کچھی وہ لوگ جن کو آپ جو بھی حوالہ دو، جس حقیقت سے بھی روشناس کرواؤ، وہ ”میں نہ مانوں“ پر اٹکے ہوتے ہیں۔جادو ٹونہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ آپ میں سے بے شمار لوگ نہیں مانتے ہوں گے لیکن میں سو فیصد یقین رکھتا ہوں اس پر۔ میرے پاس یقین کرنے کے لئے کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

ہمارے سکول کے قریب ہر جمعرات کو بہت بڑا میلہ لگتا تھا، وہاں ایک مداری کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم ہوتا ہر وقت۔ ایک دن وہاں بھی ایک کچھی شخص آیا تھا، جس نے اچانک کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ میں مداری کے کسی جادو کو نہیں مانتا یہ جھوٹ بول رہا ہے، جادو سرے سے ہوتا ہی نہیں۔

مداری کو شدید غصہ آیا، کچھی بندے کو گستاخ بھی قرار دیا۔ کچھی کا سر تو سلامت رہا لیکن اس سے ملتی جلتی سزا سنا دی مداری نے۔ مداری نے کوئی منتر پڑھا۔

”جال توو، جلال توو، آئی بلا ٹال توو۔“
اب کچھی اپنے جسم کے ”خاص عضو“ سے محروم ہو چکا تھا۔ کچھی بڑا رویا، منت کی سماجت کی لیکن مداری نے ایک نہ سنی ان کی۔ میں مداری کے جادو سے بڑا متاثر ہوا تھا۔

اگر چہ میرا دوست کافی عرصہ تک مجھے سمجھاتا رہا تھا کہ وہ کچھی مداری کا اپنا ہی بندہ تھا لیکن تب میں خود بھی دوست کے سامنے کچھی بن جاتا تھا۔

”کچھی بے چارہ اب ایک نا مکمل مرد بن کر زندگی گزار رہا ہو گا“ یہ سوچ کر میں کئی بار آبدیدہ ہوا تھا۔

جادو پر یقین کی ایک اور وجہ میرا ایک قریبی رشتہ دار ہے، وہ کوئی کام، دھندا بالکل نہیں کرتا۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ اصغر لالا آپ کیوں کوئی کام مستقل کرتے؟

جواب دیا کہ مجھ پر کسی نے بڑا سخت قسم کا جادو کیا ہوا ہے، میں کوئی بھی کام کرنے سے روکا گیا ہوں اس جادو کی زور سے۔

میرے کان کے بالکل قریب آ کر بولا ”جانتے ہو مجھ پر کیا گیا جادو اتنا سخت ہے کہ اس کا توڑ دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔“

ہر گھر میں جادو ٹونے کی ایک کہانی موجود ہوتی ہیں بس آپ کو سائنس پر یقین کی پٹی آنکھوں سے اتارنی ہوں گی۔

ساس کو بہو پر شک ہوتا ہے کہ انہوں نے جادو ٹونے کی طاقت سے ان کا بیٹا اپنی مٹھی میں بند کیا ہے جب کہ بیوی اپنی ساس پر الزام عائد کرتی ہے کہ شوہر ان سے باتیں نہیں کرتا ماں کی جادو سے۔ شوہر بیچارہ مر جاتا ہے لیکن یہ جان نہیں پاتا کہ دونوں میں سے جادو کیا کس نے ہے؟

یقین کی سب سے بڑی وجہ میں اب بتانے لگا ہوں۔ مجھے میری بیوی کی ایک دوست بہت اچھی لگتی تھی، تب میری بیوی میری بیوی نہیں تھی۔ میں کئی کوششوں کے باوجود ان کی دوست کا دل اپنے لئے نرم نہ کر سکا۔ پھر مجبوراً مجھے گھی نکالنے کے لئے انگلی ٹیڑھی کرنی پڑی۔

کئی ”بابوں“ کے پاس گیا میں لیکن کوئی بابا بھی کام پانچ ہزار سے کم کرنے پر راضی نہ تھا اور پانچ ہزار سے زیادہ کی میری قوت نہیں تھی۔ ایک دن مجھے ایک بک شاپ پر ستر روپے میں ایک کتاب ملی۔
”محبوب کو زیر کرنے کے پچاس اعمال“

اسی رات میں نے بائیس دن والا عمل شروع کیا، ہر دن کے عمل کے بعد ایک پرچی سائڈ ٹیبل کے دراز میں رکھتا۔ عمل کے ساتویں دن ہی مجھے پہلی خوشخبری ملی جب اس نے مجھے ہنس کر دیکھا تھا، تیرہویں دن دوسری خوشخبری ملی جب اس نے بازار سے مہندی اور چوڑیاں لانے کو کہا تھا، پورے سات سو روپوں کی لایا تھا یہ چیزیں۔ عمل اختتام کو پہنچا، اب مجھے آخری بڑی خوشخبری کا انتظار تھا۔

ایک شام کام سے واپس آیا تو گھر والوں نے مٹھائی پیش کی، مٹھائی کا ابھی تیسرا دانہ منہ میں ٹھونسا ہی تھا کہ امی نے طوفانی خبر سنائی کہ موصوفہ کی منگنی ہو گئی ہے آج۔ مجھے شدید دکھ ہوا، میرا تو جادو پر سے آپ لوگوں کی طرح اعتماد ہی اٹھ گیا تھا، لیکن پھر میری شادی ہوئی۔

پہلی رات۔

میں دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں داخل ہوا، اس سے پہلے کہ بیوی سے میں مخاطب ہوتا، بات کرتا، ہاتھ پکڑتا۔ پہل انہوں نے کی۔ ”گھر آ کر سب سے پہلے مجھ سے سلام دعا کرو گے، جاتے وقت جگانے کی کوشش ہرگز نہ کرنا، ناشتہ خود ہی تیار کرو گے، اپنی جوتے خود پالش کرنا، کپڑے میں دھوؤں گی، استری تم کرنا، کمرے میں جھاڑو تم لگاؤ گے، البتہ باہر میں لگاؤں گی، فلاں کام تم، فلاں کام میں کروں گی۔ ”

میں معصومیت سے ان کو سن رہا تھا، حیران تھا، کون کرتا ہے اس رات ایسی باتیں؟ دوستوں نے جو جو قصے سنائے تھے اپنی شادی کی پہلی رات کی حوالے سے، سب جھوٹ تھے کیا؟

اچانک بیڈ پر سے پاؤں نیچے کیے بیوی نے، اور میرے ہاتھ میں تیل کی شیشی پکڑا دی۔ میں خوش ہوا کہ بیوی کا موڈ بدلنے لگا ہے، اس سے پہلے کہ میں مزید کچھ گندا سوچتا، انہوں نے حکم جاری کیا کہ پاؤں مالش کرو تھک گئی ہوں بہت۔ میں حکم کی تعمیل میں لگ گیا، کافی دیر بعد جب اوپر دیکھا تو وہ ہنس رہی تھی، اب میری برداشت جواب دے گئی،

پوچھا ظالم کی بچی کیوں ہنس رہی ہو۔ جواب دیا کہ آپ کو اپنے قدموں میں دیکھ کر اپنے کیے ”عمل“ کی کامیابی پر خوشی ہو رہی ہے۔ پوچھا کون سا عمل؟
بولی ”محبوب آپ کے قدموں میں“ والا عمل۔

پوچھا کب کیا تھا؟ کس پر کیا تھا؟ کیسے کیا تھا؟
بولیں بدھو شادی سے ایک مہینہ پہلے کیا تھا، تم پر کیا تھا، ٹیبل کی دراز میں پڑے کتاب ”محبوب کو زیر کرنے کے پچاس اعمال“ والی کتاب سے۔

پوچھا کون سا عمل کیا تھا؟ بولیں بائیس دن والا عمل۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ عمل تو میں نے بھی کیا تھا پھر میرا عمل کیوں ضائع ہوا؟
بولیں تم نے بائیس دن کا عمل پچیس دن میں کیا تھا، کیونکہ میں نے تین پرچیاں دراز سے غائب کی تھیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

امجد اسلام، پشاور کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments