کیا حکمران کھیلوں کے لیے بھی سبز قدم ہوتے ہیں
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ توہم ہار گئے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ عمران خان کے علاوہ کس پاکستانی حکمران کے دور میں پاکستان کو کھیلوں کے میدان میں ایک بھی عالمی اعزاز حاصل نہیں ہوا؟ جواب شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہو، مگر اس سے قبل بھی ایک حکمران کے تقریباً ایک دہائی پر محیط دور اقتدار میں پاکستان عالمی سطح پر کسی بھی مشہور کھیل میں میڈل یا ٹرافی جیتنے میں ناکام رہا تھا۔ حالیہ دور حکومت میں بھی تاحال قومی ڈرائینگ روم میں کسی میڈل یا ٹرافی کا اضافی نہیں ہو سکا۔
جمعرات کو پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل آسٹریلیا سے ہاری تو سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان آ گیا۔ جہاں کئی صارفین نے حسن علی سمیت دیگر کرکٹرز کو طنز و مزاح کا نشانہ بنایا، وہیں بہت سے لوگوں نے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ عمران خان نے سیمی فائنل جیتنے کی صورت میں دبئی جا کر فائنل میچ دیکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک صارف نے سیمی فائنل سے قبل لکھا کہ وزیراعظم نے ورلڈ کپ کا نوٹس لے لیا ہے لہذا اب پاکستان کا سیمی فائنل جیتنا نا ممکن ہے۔
ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی کرکٹر وزیر اعظم کی ”پنوتی“ (سبز قدمی) کی وجہ سے اولمپک میڈل آتے آتے رہ گیا اور اب ورلڈ کپ بھی گیا۔ یاد رہے کہ بیجنگ اولمپکس میں 1992 کے بعد پہلی بار پاکستان کے لیے میڈل ٹیبل پر آنے کا امکان روشن ہوا تھا جب ایک طویل عرصے بعد دو پاکستانی اتھلیٹس، ارشد ندیم اور طلحہ طالب فائنل راؤنڈ میں پہنچے تھے۔ تاہم ارشد ندیم محض ایک میٹر کے فرق سے جیولن تھرو کے مقابلے میں میڈل ٹیبل پر آنے سے محروم رہے جب کہ وہ پچھلے راؤنڈرز میں اس سے بہتر پرفارم کر چکے تھے۔ کچھ یہی صورت حال ویٹ لفٹنگ میں طلحہ طالب کے ساتھ رہی، جن کا وکٹری اسٹینڈ کا سفر برونز میڈل سے صرف دو کلوگرام کی دوری پر ختم ہو گیا۔
موجودہ وزیراعظم عمران خان کے تین سال سے زائد دور حکومت میں پاکستان اب تک کھیلوں کا کوئی بھی عالمی مقابلہ جیتنے میں نا کام رہا ہے۔ عمران خان، 1992 کا ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے اور اسی وجہ سے امید تھی کہ ان کے دور میں سپورٹس پر خاص توجہ دی جائے گی۔ مگر دیگر شعبوں کی طرح کھیلوں کے میدان میں بھی گراس روٹ لیول پر اب تک کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہو سکی۔ کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل اسی طرح سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں جس طرح اس سے قبل کیے جا رہے تھے۔
قومی کھیل ہاکی کی ریکارڈ بکس میں 1992 کے اولمپکس برونز میڈل اور 1994 کے ورلڈ کپ کے بعد مکمل خاموشی ہے۔ سکواش میں ناقابل تسخیر سمجھا جانے والا پاکستانی قلعہ، 1997 کے بعد سے ایسا زمیں بوس ہوا کہ اب اس کی بنیادیں بھی نہیں ملتیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کون سا حکمران پاکستان کے لیے کھیلوں کے میدان میں بابرکت رہا اور کس کی جھولی خالی رہی۔
آزادی کے ایک سال بعد ہی نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کا 39 اتھلیٹس پر مشتمل دستہ قائد اعظم کی خواہش پر 1948 کے اولمپکس میں شریک ہوا۔ اور پہلے ہی ایونٹ میں ہاکی ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے بھارت اور دیگر ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ 1952 کے ہیلسنکی اولمپکس میں بھی پاکستان اتھلیٹکس اور ہاکی کے سیمی فائنل تک پہنچ پایا۔ مگر دوسری جانب لیاقت علی خان کے دور حکومت میں پاکستان کے ہاشم خان نے 1951 کی برٹش اوپن جیت کر سکواش کے میدان میں پاکستان کے تابناک دور کا آغاز کیا۔ برٹش اوپن کو اس زمانے میں ورلڈ چیمپئن شپ کا قائم مقام سمجھا جاتا تھا۔ شہید ملت سے لے کر ایوب خان تک آنے والے ہر حکمران کے دور میں پاکستان 1963 تک مسلسل 12 سال برٹش اوپن کا فاتح رہا۔
ہاشم خان نے چھ مرتبہ 1951 تا 1956، 1958، اعظم خان نے چار مرتبہ 1959 تا 1962، جب کہ روشن خان 1957 اور محب اللہ خان 1963 نے ایک ایک بار برٹش اوپن کا اعزاز اپنے نام کیا۔
ادھر سکندر مرزا کے دور حکومت میں 1956 کے میلبورن اولمپکس میں ہاکی کا سلور میڈل پاکستان کے نام رہا۔ جب کہ اتھلیٹکس میں چار مقابلوں میں پاکستانی اتھلیٹس سیمی فائنل تک پہنچے۔
ان کے بعد آنے والے فوجی حکمران، جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں پاکستان نے 1960 کے روم اولمپکس میں ہاکی کا طلائی تمغہ اور ریسلنگ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ صدر ایوب خان کے گیارہ سالہ دور حکومت میں ہی ہاکی ٹیم نے 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں چاندی کا تمغہ اور 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں سونے کا تمغا جیتا۔
جنرل یحیٰی خان کے دور میں پاکستان نے 1971 میں ہاکی کا پہلا عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدار ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا۔ بھٹو دور میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1972 کے میونخ اولمپکس میں چاندی اور 1976 کے مونٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ ہاکی کے ورلڈ کپ میں 1975 میں پاکستان رنر اپ رہا۔ اسی دور میں قمر زمان نے 1975 کی برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں ہم وطن گوگی علا الدین کو شکست دے کر اعزاز اپنے نام کیا۔
جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور حکومت میں پاکستان ہاکی ٹیم نے 1982 کا ورلڈ کپ اور 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں اپنا آخری گولڈ میڈل جیتا۔ جب کہ 1978 اور 1980 کی چیمپئنز ٹرافی بھی اپنے نام کیں۔ اسی دور میں 1981 کی ورلڈ اوپن سکواش چیمپئن شپ سے دنیا کے کامیاب ترین کھلاڑی، جہانگیر خان کے شاندار دور کا آغاز ہوا۔ جنہوں نے چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اور متواتر دس مرتبہ برٹش اوپن چیمپئن شپ جیت کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
بحالی جمہوریت کے بعد برسراقتدار آنے والی محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے تین مرتبہ برٹش اوپن اور دو مرتبہ ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دور میں پاکستانی باکسر حسین شاہ نے 1988 کے سیول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا۔
نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں پاکستان موجودہ وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت 1992 میں کرکٹ کا عالمی چیمپئن بنا۔ جب کہ اسی برس، بارسلونا اولمپکس میں ہاکی کے برونز میڈل کی بدولت پاکستان آخری بار میڈل ٹیبل پر اپنا نام سجانے میں کامیاب رہا۔ اس دور میں جان شیر خان نے دو مرتبہ ورلڈ چیمپئن شپ اور تین بار برٹش اوپن جیتی۔ جب کہ جہانگیر خان نے 1990 اور 1991 کی برٹش اوپن اپنے نام کی۔
بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں پاکستان نے 1994 کا ہاکی ورلڈ کپ جیتا۔ اسی سال پاکستان نے ہاکی چیمپئنز ٹرافی بھی آخری بار اپنے نام کی۔ 1994 میں ہی محمد یوسف، سنوکر کے عالمی چیمپین بنے۔ جب کہ سکواش کے میدان میں جان شیر خان ناقابل تسخیر رہے اور 1993 سے 1996 کے دوران تین عالمی چیمپین شپ اور چار برٹش اوپن اپنے نام کیے ۔ 1994 کو پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا گولڈن ائر بھی کہا جاتا ہے جب پاکستان بیک وقت چار کھیلوں، کرکٹ، ہاکی، سکواش اور سنوکر کا عالمی چیمپئن بنا۔
نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں جان شیر خان نے 1997 کی برٹش اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ سکواش کی دنیا میں پاکستان کا اب تک کا آخری بڑا اعزاز تھا۔ جس کے بعد اس کھیل میں نصف صدی پر محیط پاکستانی فتوحات کا سورج غروب ہو گیا۔
پاکستان کے چوتھے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کا دور اس لحاظ سے انتہائی بدقسمت رہا کہ ان 9 سالوں میں پاکستان کسی بھی کھیل میں عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔ یوں جنرل پرویز مشرف وہ واحد پاکستانی حکمران ہیں جن کے دور میں پاکستان کو کھیل کے میدانوں میں بد ترین نتائج کا سامنا رہا۔ اور ایک بھی کھیل میں عالمی کپ یا میڈل حاصل کرنے میں ناکامی حاصل ہوئی۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں پاکستان نے 2009 کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔ جس کے بعد نواز شریف ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ان کے تیسرے دور حکومت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلی بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریف بھارت کو فائنل میں شکست دے کر اعزاز اپنے نام کیا۔
موجودہ دور حکومت میں پاکستان کھیلوں کی دنیا میں تا حال کسی قابل ذکر عالمی اعزاز سے محروم ہے۔ تاہم 2020 میں علاقائی کھیل کبڈی کی ورلڈ چیمپئن شپ جو پاکستان ہی میں منعقد ہوئی، اس میں پاکستان فاتح رہا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کھلاڑی وزیر اعظم کے باقی ماندہ دور میں کیا پاکستان کھیلوں کی دنیا میں کوئی نمایاں مقام حاصل کر پائے گا؟


