چائنہ ریڈیو پر انٹرویو! دیس پردیس کا احوال


پیارے دوست اور بھائی زبیر بشیر پاکستان میں ریڈیو پروڈکشن کا جانا مانا نام ہیں ایک طویل عرصہ سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہیں اور آج کل چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروسز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کا حکم تھا کہ دیس میں بسنے والوں کو پردیس کا حال سنایا جائے۔ اس سلسلے میں ریڈیو چائنہ پر ہماری گفتگو پر مبنی ایک انٹرویو نشر ہوا، جس میں بیرون ملک بسنے والوں کے حالات اور یہاں آنے کے خواہشمندوں کو معاشی اور معاشرتی محاذوں پر جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

زبیر بشیر: سامعین محترم آج ہمارے ساتھ پروگرام میں شریک ہیں پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سینئیر پروڈیوسر، مصنف، کالم نویس اور نہایت شفیق و نفیس شخصیت کے مالک جناب عمر خان۔

عمر بھائی سب سے پہلے آپ کو چائنا ریڈیو انٹرنیشنل بیجنگ کی اردو سروس اور ایف ایم 98 دوستی چینل پاکستان کے سامعین کی جانب سے محبت بھرا سلام پیش کرتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں۔

عمر خان: السلام و علیکم زبیر بھائی، بہت شکریہ اور محبت کے آپ نے یاد کیا۔

زبیر بشیر: سب سے پہلے آپ سے جاننا چاہیں گے آج کل آپ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ مشرق سے مغرب تک کے اس تہذیبی، ثقافتی اور معاشی سفر کا تجربہ کیسا رہا؟

عمر خان: سچ پوچھیں تو اپنا ملک اپنے لوگ اپنا روزگار چھوڑ کر کسی دوسرے ملک، مختلف تہذیب اور نئے سرے سے کیریئر بنانا کافی مشکل کام ہے۔

اگر تہذیب و ثقافت کی بات کریں تو ایک طرف تو آپ یہاں کے معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کو کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری جانب انسان اپنے کلچر سے جڑے رہنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ تو یہ ایک دوہری لڑائی ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ انسان اسے مشرق و مغرب کا مقابلہ نا بنائے، اپنا دل و دماغ کھلا رکھے اور دونوں معاشروں کی اچھائیوں کو اپنانے میں عار نا سمجھے۔

زبیر بشیر: ہم نے اکثر یہ سنا ہے کہ کینیڈا میں شدید ترین برف باری ہوتی ہے۔ تو کیا اس دوران چھٹیاں ہوتی ہیں یا زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہتی ہے۔

عمر خان: ہاہا۔ زبیر بھائی، یہاں آنے سے پہلے ایک چھوٹا سا مزاحیہ کلپ دیکھا تھا کہ ایک امیگرنٹ کینیڈا کی سردی میں تھرتھراتے ہوئے اپنی ماں سے گلہ کرتا ہے کہ، ماں تو نے ہی دعا دی تھی کہ ”جا پتر تینوں تتی ہوا نا لگے“ ۔ تو سردی اور برف تو یہاں زندگی اور معمول کا حصہ ہیں۔ اب ہم تو عادی ایسے ماحول کے تھے جہاں ذرا سی بارش بھی زیادہ ہو جائے تو یار دوست چھٹی کا بہانہ بنا لیتے ہیں تو شروع میں بڑی حیرت ہوتی کہ یہاں ہفتہ بھر بارش برسے یا برف گرتی رہے معمولات زندگی رواں دواں ہیں۔ صبح ذرا معمول سے پہلے اٹھیے، بیلچہ اٹھائیں اور اپنے ڈرائیو وے اور گاڑی سے برف ہٹائیں۔ باقی سڑکیں اور سائیڈ واکس ریاست کی ذمہ داری ہیں جیسی بھی برف باری کو باقاعدگی سے انہیں صاف کر کے زندگی کو رواں دواں رکھا جاتا ہے۔

زبیر بشیر: ہم سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہم بیرون ملک کام کرنے کے لئے جانا چاہتے ہیں۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ بیرون ملک خاص طور کینیڈا میں نوکری باآسانی مل جاتی ہے یا اس کے لئے تگ و دود کرنی پڑتی ہے۔

عمر خان: یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ جو آ رہا ہے اس کی توقعات کیا ہیں۔ ہم میں سے اکثر اپنے مڈ کیریئر میں ملک چھوڑ کر نکلتے ہیں اور ہماری تعلیم اور تجربہ یہاں کے طریقہ کار سے میل نہیں کھاتا۔ جس وجہ سے نت نئے شعبوں میں نوکریاں تلاش کرنا پڑتی ہیں۔

تو چند خوش نصیبوں کے علاوہ، ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی کامیاب کیوں نا ہو، کو اپنی زندگی اور پروفیشن کا آغاز نئے سرے سے ہی کرنا پڑتا ہے۔

خاص طور پر اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل یا کسی بھی ایسے شعبے سے ہیں جس کا تعلق فلاح عامہ سے ہے تو واپس اپنی فیلڈ میں جانے کا راستہ لمبا اور صبر آزما ہے۔ اور ہر ایک میں نا تو اتنا حوصلہ ہوتا نا ہی موافق حالات کہ وہ سالوں کا انتظار کر سکیں۔

اب یہاں پر کامیابی کا ایک گر یہ ہے کہ آپ کوئی تکنیکی سکل لے آئیں، کہ یہاں کی جاب مارکیٹ میں شاید کسی صحافی یا پروڈیوسر کی فوری جگہ تو نا نکلے مگر اچھا کیمرہ مین یا ایڈیٹر اپنی جگہ نسبتاً آسانی سے بنا سکتا ہے۔ اسی طرح آگر آپ کنسٹرکشن کے کسی شعبہ میں مہارت یا گاڑی کے اچھے مکینک ہیں تو بھی آپ کی اچھی کٹے گی۔

اس کے علاوہ یہاں ”ریکروٹنگ ایجنسیاں“ بھی سرگرم ہیں کہ ایمپلائر اپنی افرادی ضروریات سے ان ایجنسیوں کو آگاہ کرتا ہے اور یہ اپنے پاس رجسٹرڈ افراد کے ڈیٹا میں سے متعلقہ لوگوں کو وہاں بھجواتے ہیں۔ ان ایمپلائرز میں بینک، فناننس کمپنیاں، ابلاغ عامہ کے اداروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کاروبار شامل ہیں۔ یہ بھی یہاں کی جاب مارکیٹ تک رسائی کا ایک اچھا وسیلہ بن جاتا ہے۔

زبیر بشیر: مجھے یاد ہے پاکستانی ٹیلی ویژن میں آپ کی ایک بڑی خدمت ”کھوئے ہوؤں کی جستجو“ ہے۔ اس پروگرام سے جڑے کچھ یادگار واقعات ہمارے سامعین کے ساتھ شیئر کریں۔

عمر خان: کیا یاد کروا دیا آپ نے۔ اس پروگرام سے وابستگی میرے لئے اعزاز بھی ہے اور اس سے میرے کیریئر کے بہترین یادیں بھی وابستہ ہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب کی شفقت میں بڑا خوبصورت وقت گزرا۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں قریب اسی پروگرام ریکارڈ کیے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ہم نے پنجاب سے نکل کر سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کی نامور ترین شخصیات، جن میں سیاستدان، شعراء، ادیب، صحافی اور فنکار شامل تھے، انہیں اس پروگرام کا مہمان بنایا۔

یہ ایک شاہکار پروگرام تھا جو قاسمی صاحب کی ذاتی دلچسپی اور فن و ادب سے ان کے گہرے لگاؤ کے باعث ممکن ہوا۔ اور مزے کے بات یہ ہے کہ پروگرام کا آئیڈیا تو قاسمی صاحب کا تھا مگر اوریجنل آئیڈیا میں وہ پروگرام کی ٹیم کا حصہ نا تھے تو میرے سمیت پی ٹی وی کی مینجمنٹ نے ان سے درخواست کی کہ قاسمی صاحب کی مستقل شمولیت سے پروگرام حقیقی طور پر کامیاب ہو پائے گا۔ ایک طرف تو قاسمی صاحب کی ادب و سیاست پر گرفت اور مزاح کی چاشنی۔

پھر جس طرح کے مہمان پروگرام میں شامل ہوتے ان سے قاسمی صاحب کی ذاتی تعلق کی بنا پر ایسی بے تکلف گفتگو ہوتی جو ان کے بنا ممکن ہی نا تھی۔ قاسمی صاحب اپنی ٹیم کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے۔ چاہے وہ ساتھ ہوتے یا میں ابرار اور فائزہ ان کے بنا سفر میں ہوتے خود سب کا پتہ رکھتے۔ دو سال ہو گئے وہاں سے نکلے ہماری پوری ٹیم کا رابطہ قائم ہے، قاسمی صاحب کی نصیحتیں ملتی رہتی ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان چکر لگا تو سب سے پہلے قاسمی صاحب کا حکم آیا کہ پہنچ گئے ہو تو مل کر بیٹھتے ہیں۔ اور کھوئے ہوؤں کی جستجو کی پوری ٹیم مل کر بیٹھ گئی۔ اور ہم سب کو جوڑے رکھنے میں سب سے زیادہ عمل خود قاسمی صاحب کا ہے۔

زبیر بشیر: آپ کی تحریریں بڑی پراثر ہوتی ہیں۔ میرے نزدیک یقیناً اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ان میں لفاظی کم اور قلبی کیفیات زیادہ غالب ہوتی ہیں۔ اس طرف کیسے مائل ہوئے؟

عمر خان: زبیر بھائی میں نے اپنے حالات کو لکھنے کا قصد صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ یہاں آئے ہم وطن بعض اوقات اپنے شروعاتی مسائل کا ذکر اس وجہ سے گول کر جاتے ہیں کہ کہیں جاننے والے ان کے فیصلے پر انگلی نا اٹھائیں یا شرمندہ نا کریں۔ اسی وجہ سے ہمارے ملک میں مقیم افراد اسی سراب میں رہتے ہیں کہ ایک بار امریکہ، کینیڈا یا یورپ پہنچ جائیں تو ساری فکریں ختم۔

تو میں نے، جو مجھ پر بیتا، جن مسائل کا سامنا کیا، جس درد کو محسوس کیا، اور جہاں جس شعبے میں بہتری نظر آئی اسے لکھ دیا۔ یہ میری نئی زندگی کی کہانی ہے۔ جہاں کبھی آپ کو نیو امیگرنٹ کے مسائل ملیں گے کہیں بچپن کی یادیں مچلتی نظر آئیں گی اور کہیں ارد گرد ہونے والے واقعات جو تاثر چھوڑتے ہیں انہیں قلم کی نوک پر لے آتا ہوں۔

زبیر بشیر: فنی زندگی کے علاوہ آپ کے مشاغل کیا ہیں؟

عمر خان: سچ پوچھیں تو زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے تو نوکری کرتے ہیں مگر پڑھنا اور لکھنا، میرا مشغلہ بھی ہے اور میرا کتھارسس بھی۔ اس کی علاوہ خدا نے کینیڈا کو بے شمار قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ جھیل، جنگل وادیاں اور خوبصورت راستے۔ تو نت نئی جگہیں تلاش کرنا اور اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ڈرائیوز اور پکنکس بھی وقت گزارنے یادیں اکٹھی کرتا ہوں۔

زبیر بشیر: بیرون ملک اپنے بچوں کو ملکی ثقافت سے جوڑے رکھنے کے لئے کیا کرتے ہیں؟

عمر خان: اگر پردیس میں اپنے بچوں کو اپنی ثقافت سے جوڑے رکھنا ہے تو سب سے پہلا کام کہ اپنی زبان، اپنے لباس اور اپنے کھانوں سے نا آشنا نا ہونے دیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنے ملکی تہواروں کو مناتے ہیں، اور رمضان عید وغیرہ پر خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ بچے بڑے کوئیک لرنر ہوتے ہیں تو جہاں جس ملک آپ آباد ہوں گے وہاں کا مزاج تو وہ اپنا ہی لیں گے مگر کوشش کریں کے وہ اپنی بنیاد کو نا بھول جائیں۔ اور اپنی ثقافتی قدروں سے جڑے رہیں۔

زبیر بشیر: دامن وقت میں وسعت نہیں رہی، کسی اور بزم میں پھر آپ سے ملاقات کریں گے۔ آپ کا شکریہ کہ ہزاروں میل کے فاصلوں اور 12 گھنٹے کے ٹائم ڈیفرنس کے باوجود آپ نے زمان و مکاں کے اس فرق کا احساس نہیں ہونے دیا۔ میں بیجنگ سے سوال کرتا رہا، آپ کینیڈا سے جواب دیتے رہے اور ہمارے سامعین پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک سے ہمیں سنتے رہے بہت شکریہ۔

Facebook Comments HS