شوگر اور پاؤں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم صاحب ویل چیئر میں بیٹھ کر میرے کلینک میں تشریف لائے۔ وہ ابھی ابھی ایک ڈائرکٹر کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ گزشتہ دس سال سے شوگر کے مریض تھے اور اب ایک پاؤں میں کافی بڑا زخم تھا جو ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے علاج کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ان کا شوگر کنٹرول میں ہے۔ مزید بتایا کہ مہینے میں ایک بار خون کے شوگر کا ٹسٹ کرتے رہتے ہیں اور وہ کنٹرول میں ہوتا ہے۔ تاہم جب میں نے علاج کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ کچھ ہومیوپیتھک اور کچھ حکیمی علاج پر زیادہ تکیہ رکھا ہوا تھا۔

میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے جدید علاج سے چشم پوشی کی تھی تو ان کے بیٹے گویا ہوئے کہ پہلے پہل چند ڈاکٹروں سے رجوع کیا لیکن شوگر کنٹرول نہ ہوا۔ میں نے پاؤں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اتنا گل سڑ چکا تھا کہ پاؤں کاٹے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ تاہم زیادہ افسوس کی بات یہ نکلی کہ ان کا شوگر خطرناک حد تک بے قابو ہو چکا تھا۔ میں نے جب ان کے خون کا تفصیلی ٹسٹ کیا تو یہ سب معلوم ہوا۔ میں نے ایک گہری سانس کھینچی اور ان کو سمجھانے بیٹھا۔

ہمارے جسم کے لئے شوگر یا گلوکوز ایک ریڈی میڈ پٹرول کی مانند ہے۔ جس کے بغیر خصوصاً دماغ کو کوئی غذا نہیں پہنچ سکتی۔ اسی لئے جو بھی غذا ہم کھاتے ہیں اس کے نشاستہ دار حصے سے آنتوں میں ہاضمے کے بعد شوگر بن جاتا ہے۔ اس شوگر کو ایک حد میں رکھنے کے لئے ہمارا لبلبہ ایک رطوبت خارج کرتا ہے جسے انسولین کہتے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بناء پر جب بدن میں انسولین کی کمی ہوجاتی ہے تو خون میں شوگر کی مقدار حد سے بڑھنے لگتی ہے۔

چونکہ شوگر بدن کے ہر حصے کی ایک بنیادی خوراک ہے اس لئے اس سے بدن کا ہر حصہ لازمی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ تاہم چار اعضاء پر یہ اثر زیادہ پڑتا ہے جن میں دل، آنکھیں، گردے اور پاؤں شامل ہیں۔ اسی لئے دل، گردوں اور آنکھوں کا معائنہ ہر چھ ماہ میں کسی ایکسپرٹ سے کرانا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم پاؤں کا دوسرا معاملہ ہے۔

خون میں شوگر کی زیادتی کا اندازہ کسی ایک دفعہ ٹسٹ سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اس لیے کہ ہر خوراک کے بعد خون میں شوگر کا اضافہ ہوتا رہتا ہے اور کھانے میں زیادہ وقفہ کرنے سے یہی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ اوسط مقدار دیکھنے کے لئے ایک اور معائنہ کرنا پڑتا ہے جسے HbA 1 C کہتے ہیں اور یہ شوگر کے مرض کا سب سے اہم ٹسٹ ہوتا ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں آپ کے شوگر کا کنٹرول کیسا رہا ہے۔ روزانہ کے حساب سے اپنے خون کا شوگر برقرار رکھنے کے لئے گھرمیں بیٹری والا آلہ بھی رکھنا ضروری ہے اور اگر چہ روزانہ ٹسٹ نہیں کرنا پڑتا بلکہ صرف ہفتے میں دو تین بار بھی یہ ٹسٹ کرنا کافی ہے۔ تاہم اس کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے تاکہ اپنے ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لئے جاتے وقت اسے ساتھ لے جاسکیں۔

شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کئی ایک غلط فہمیاں بھی پالتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب ان کا شوگر کنٹرول سے باہر ہوتا ہے تو ان کو پتہ چل جاتا ہے۔ ’ڈاکٹر صاحب، میں نے دو تین ماہ سے دوا نہیں کھائی۔ مجھے پتہ لگ جاتا ہے جب میرا شوگر ہائی ہوجاتا ہے‘ ۔ یہ ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ جب تک خون میں شوگر کی سطح یا بالکل ہی کم نہ ہو جائے یعنی پچاس سے ستر ملی گرام سے کم ہو جائے تب تک اندازہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح سے جب تک شوگر چار سو ملی گرام سے زیادہ نہ ہو، مریض کو کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ انسولین لگانے سے شوگر کا مرض بہت بڑھ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شوگر کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی گولیاں صرف لبلبے پر دباؤ ڈال کر زیادہ انسولین نکالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جب لبلبے میں بالکل گنجائش نہیں رہتی تو انسولین کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے اور ایک طرح سے انسولین انسان کے فطری نظام کے زیادہ قریب ہے۔ اس لئے صرف اس لئے اپنا ڈاکٹر یا علاج نہیں بدلنا چاہیے کہ آپ کو انسولین استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہو۔

اب آتے ہیں پاؤں کی طرف۔ ویسے تو ہمارے جسم کے لئے پاؤں کی اہمیت بہت ہے لیکن ہم اپنے پاؤں کا اتنا خیال نہیں رکھتے جتنا کہ چہرے کا رکھتے ہیں۔ حالانکہ پوری زندگی اگر ہمیں متحرک رکھتے ہیں تو صرف پاؤں ہی ہیں۔ شوگر کے مرض میں پاؤں کو دو قسم کے عوارض لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاؤں کے اعصاب آہستہ آہستہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ جس سے پاؤں میں احساس ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجاتا ہے اور پھر اگر اس میں کوئی زخم پڑ جائے تو جب تک وہ بڑھ نہ جائے، محسوس نہیں ہوتا۔

پاؤں کے وہ زخم جو درد نہیں کرتے، اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ شوگر کے مرض میں پاؤں کو دوسرا عارضہ خون کی رگوں کا بند ہوجانا ہے۔ یہ رگیں بھی آہستہ آہستہ سکڑتی جاتی ہیں حتیٰ کہ پاؤں میں خون کی روانی کم ہوجاتی ہے۔ خون کی کمی پاؤں میں درد کا باعث بنتی ہے اور معمولی زخم سے بھی انگلیاں اور بسا اوقات پورا پاؤں سیاہ پڑ جاتا ہے اور کاٹنا پڑتا ہے۔ اگر خون کی نالی گھٹنے یا اس سے بھی اوپر بند ہو گئی ہو تو اس کی سرجری کر کے اسے کھولا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر پاؤں کے آس پاس چھوٹی چھوٹی نالیاں ہی بند ہو گئی ہوں تو پھر پاؤں کاٹنا لازمی ہوجاتا ہے۔ اس میں تجربہ کار سرجن زیادہ سے زیادہ اوپر پاؤں کاٹتے ہیں ورنہ زخم نہیں بھرتا۔ اس طرح سے تھوڑا تھوڑا کر کے پوری ٹانگ کاٹنے سے بھی زخم ہرے کا ہرا رہتا ہے، حتیٰ کہ موت کا سر پر آجاتی ہے۔

پاؤں کی اہمیت کی وجہ سے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے لیکن شوگر کے مرض میں تو یہ اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ پاؤں کا خیال رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی جلد نرم رکھی جائے۔ روزانہ رات کو اسے نیم گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح صاف کیا جائے۔ پاؤں کی صفائی کے لئے پانی بہت ضروری ہے لیکن اسے گیلا چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ نرم تو لئے سے اچھی طرح خشک کرنا ضروری ہے۔ کسی لوشن یا ویسلین سے اس کی مساج بھی ضروری ہے ورنہ خصوصاً سردی میں جلد پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

شوگر کے مریضوں کو کاٹن کی جرابیں ہر وقت استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے استعمال میں درجن بھر جرابیں ضرور ہونی چاہئیں تاکہ روزانہ صاف جوڑا بدل سکیں (ہر وضو میں پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں بلکہ جرابوں پر مسح کی جائے ) ۔ ان کو جوتوں میں بھی بڑی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ جوتے بند ہونے چاہئیں۔ کھلے چپل، سینڈل یا پشاوری چپل کا استعمال بالکل بند کر دینا چاہیے کہ چلتے وقت اس قسم کے جوتوں میں چھوٹے کنکر گھس سکتے ہیں جن سے پاؤں میں زخم پڑ جاتے ہیں اور مریض کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

بند جوتے آرام دہ ہونے چاہئیں۔ اس کا چمڑا نرم ہو اور پاؤں کے اندرونی طرف اس کے تلوے میں ابھار ہونا چاہیے تاکہ پاؤں کے محراب پر زور نہ پڑے۔ شوگر کے مریضوں کی نظر عموماً کمزور ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے پاؤں کے ناخن خود نہ کاٹیں بلکہ کسی اور سے کٹوائیں جو یہ احتیاط رکھیں کہ بہت گہرائی میں یہ ناخن نہ کاٹیں۔

شوگر کا مناسب علاج کسی حکیم اور ہومیو پیتھک میں ممکن نہیں اور نہ اس کا فی الحال کوئی مستقل علاج معلوم ہے۔ (لبلبے کی پیوندکاری تجرباتی مراحل میں ہے ) ۔ ہاں البتہ ابتدائی مراحل میں ورزش، کھانے میں احتیاط، وزن کم کرنے اور کچھ مخصوص سبزیوں کے کھانے سے دوا کی ضرورت نہیں رہتی یا کم رہتی ہے لیکن اپنے خون کا معائنہ، آنکھوں، دل اور گردوں کے ڈاکٹروں سے رابطہ اور اپنے پاؤں کا خود خیال رکھنا پھر بھی ضروری ہوتا ہے۔

اب تو ایک ایسا آلہ پاکستان میں بھی دستیاب ہو چکا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک چھوٹا سا کاغذ کا ڈسک ہے جو بازو پر چسپاں ہوجاتا ہے اور دوسرا چھوٹا سا مانیٹر ہے جو موبائل فون کے آدھے سائز کا ہے۔ ایک ڈسک دو ہفتے تک کام کرتا ہے اور آپ مانیٹر اس کے قریب سے گزاریں تو آپ کو فوراً نہ صرف اپنے شوگر کا پتہ چل جاتا ہے بلکہ HBAIC کا گراف بھی بتا دیتا ہے۔ اس سے آپ کو شوگر کا کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ آلہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن ایک مڈل کلاس کے لئے قابل برداشت ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments