مچ گیلری شعاع امید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور شہر کے پر رونق علاقہ کے درمیان میں واقع شملہ پہاڑی پر صحافیوں کا کلب اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے نوے کی دہائی میں اس پریس کلب کے قیام کے بعد یہاں سے کئی نامور صحافیوں نے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے صحافت میں اپنا نام بنایا لاہور پریس کلب پر لگنے والی ہر اینٹ ایک تاریخ بیان کرتی ہے آپ جیسے ہی اس کلب کے سامنے پہنچ جاتے ہیں تاریخ کا ایک سفر شروع ہو جاتا ہے اور جو اس تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اس کی درو دیوار سے نکلنے والی شعاعوں کی ساعت کو سمجھ پاتے ہیں یہاں کی عمارت ہو یا یہاں کے لہلہاتے درخت اور ہلکی سی مسکان کی خوبصورتی جیسے پودے سب ہی اپنے اندر تاریخ کے دریچے کھولنے کو تیار نظر آتے ہیں بس تھوڑی سی سمجھنے کی صلاحیت سے ان کی آواز سب کچھ بتا جاتی ہے۔

لاہور پریس کلب کی عمارت کے عقب میں پہاڑی کی اونچائی کو جاتے ہوئے درمیان میں ایک ایسی شکار گاہ ہے جس کو دوستوں کی محبت خلوص اور رواداری کا عظیم کلاسک نمونہ کہا جائے تو کسی طور بھی غلط نہ ہو گا۔ شملہ پہاڑی کوہ ہمالیہ سے بلند تو نہیں لیکن اس پر بسیرا کرنے والوں کی سوچ کوہ ہمالیہ سے کہیں بلند مقام رکھتی ہے کیونکہ دنیاوی سوچ اور قدرت کے رموز کو سمجھنے والی سوچ میں ایسا ہی فرق ہوتا ہے اور یہ سوچ ہٹ سے سفر شروع کرتے ہوئے مچ گیلری تک پہنچ گئی ہے جہاں پر لگے مچ سے ہر سو قوس قزح کے رنگ بکھرتے نظر آتے ہیں انہیں رنگوں میں فلسفہ بھی ہے دین کی شمع اور نور کی روشنی بھی رعنائیاں بکھیر رہی ہے جہاں محبت کے درس اور قدرت کے رموز بھی آشکار ہوتے ہیں جہاں تاریخ کے ورق الٹے بھی جاتے ہیں اور تاریخ بدلنے کے فن سے بھی پردہ اٹھتا ہے جہاں روح کی تسکین ہی نہیں اس کے اندر چھپی قدرت کی سائنس کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں مچ کے دھواں سے اٹھنے والے مرغولے جب فضا میں گم ہوتے ہیں تو اس مچ گیلری کی عظمت کو بھی فضاؤں تک پہنچا دیتے ہیں۔

یہاں ہیروں کے سوداگر نہیں ہیرے کی پہچان والے نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مچ گیلری کا ہر باسی ہیرے تراشنے کے فن سے لبریز ہے اور ہیرا تو وہ ہی بن پاتا ہے جو اپنی نفی کرنے کے فن سے آگاہ ہوجاتا ہے ورنہ تو انسان صرف پتھر کا ایک بے جان ٹکرا ہی رہ جاتا ہے۔ مچ گیلری میں پہنچنے والے ہر فرد کی سوچ مثبت رویے کے ساتھ پنپتی ہے اور اس کے اندر کے منفی روئیے یہاں کے مچ کی خاک بن جاتے ہیں اس منفی سوچ میں اتنی طاقت نہیں رہتی کہ وہ مچ کی سلگتی لکڑیوں کی اگ سے نکلنے والے دھواں تک پہنچ سکے اور نہ ایسا ممکن ہے کیونکہ جیسے ہی دھواں کے مرغولے فضا کی طرف جاتے ہیں تو وہ قوس قزح کے رنگوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان رنگوں کی شفافیت کسی ایسی سوچ کو اپنے اندر داخل ہی نہیں ہونے دیتی جو انسانیت کے لیے زہر قاتل ہو۔

مچ گیلری موجود تو لاہور پریس کلب ہے اور اس کے بارے یہی سوچا جا سکتا ہے کہ یہ گیلری صرف صحافیوں کے لیے مخصوص ہے اور یہاں پر صحافیوں کا مخصوص طبقہ ہی جلوہ افروز ہوتا ہے لیکن حقیقت اس حوالے سے یکسر مختلف ہے بلکہ یہ بات انسانی دانشمندی کے برخلاف کہی جا سکتی ہے اگر مچ گیلری مخصوص افراد کی کمیں گاہ ہوتی تو اس کا مچ کب کا تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتا یہ بات اس حد تک درست مانی جا سکتی ہے کہ مچ گیلری کوئی شارع عام نہیں لیکن جو مصمم ارادہ کر لے وہ کسی نہ کسی حوالے سے پہنچ ہی جاتا اور پھر یہیں کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے یہاں پر آنے والے تاریخ دان ڈاکٹر وکلاء حکیم عالم دین اساتذہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات یہاں کہ مستقبل مہمان نہیں یہاں کی باسی ہیں جو ہر آنے والے کا خیر مقدم کرنے کو موجود ہوتی ہیں اس مچ گیلری میں پہنچنے والا نہ میزبان کی تلاش میں رہتا ہے اور نہ مہمان بن کر سوچوں میں گم ہوتا ہے یہ بھی تاریخ کی پہلی گیلری ہو گئی جہاں پر ہر آنے والا ہی میزبان بن جاتا ہے ایسا رویہ شاید ہی انسانوں کو کہیں پر دیکھنے کو ملتا ہو مچ گیلری میں موجود ہر فرد عظیم تر ہے اور ندیم کی طرح ہم نشین علی کی شمشیر کی کاٹ اور اقبال کی طرح بلند مرتبہ رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہی نہیں رنگوں اور خوشبوؤں کی مہک فضاؤں کو معطر کر رہی ہے یہاں اللہ کے پیاروں سے محبت کرنے والوں نے جو شمع روشن کر رکھی ہے وہ اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ معاشرے کی ایسی تربیت گاہ ہے جہاں وہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جو کسی کالج یونیورسٹی سے ملنا ممکن نہیں مچ گیلری ایک ایسی درس گاہ کا مقام حاصل کرتی نظر آ رہی ہے جہان وقت اور آواز کی رفتار کے فاصلے کو جاننے کی سائنس سے اگاہی بھی ملتی ہے اور اللہ کے انسانوں سے رابطے کے اشاروں کی زبان کو سمجھنے کا سبق بھی ملتا ہے اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے عاجزی کے ساتھ زندگی میں سیکھنے کے عمل کو اپنانا بھی مچ گیلری کا بنیادی سبق ہے یہاں پر بھٹکے ہووں کو جب گھوٹا لگتا ہے تو وہ ملنگ بھی لگتا ہے اور قلندر کی آواز کا شیدائی بن کر کندن ہو جاتا ہے مچ گیلری سے باہر نکلنے والا جسمانی طور پر تو روانہ ہو جاتا ہے پر روحانی رشتہ یہاں ہی موجود رہتا ہے یہ انسانی رشتوں کی ایسی درس گاہ ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان کے سفر پر بحث جاری رہتی ہے اور اس دوران مچ کا دھواں یہاں کی کہانی لیے فضاؤں میں گم ہو جاتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments