لحاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو میرا ماننا ہے کہ جیسے مذہب پر بحث لاحاصل ہے بالکل اسی طرح انسان پر بحث بھی عین بے معنی ہے۔ مگر ہمارے اس معنی خیز دور میں کسی بھی شے کو بے معنی کہنا زود رنج ہو گا۔ تو جب کبھی اس گردش دوراں کے دیے گئے تجربات کو شعور کے تناظر میں تولنے بیٹھتا ہوں تو ایک عجیب سی کشمکش میں پڑ جاتا ہوں۔ شعور ذات ہی وجود ذات کا منکر نظر آنے لگتا ہے۔ اگر ذات کو ہی وسیع تر تناظر میں لئے جاؤں اور خیال کی دوربین لگاؤں تو شاید کائنات بھی اسی ذات پر دلالت کرتی نظر آتی ہے۔ پھر! کائنات پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ بھی ابھی شعور اور وجود کی کسی گمبھیر گتھی میں الجھی داستان ہے۔ یا وجود پر شعور کا لبادہ اوڑھے حقیقت کی کوئی کڑی ہے۔ لہذا ذہن میں الجھے سوالات کا گچھا سا بن جاتا ہے۔

حقیقت ازلی بھی شاید میرے اس خیال سے کہیں مسکراتی ضرور ہو گی کہ سب لحافوں میں لپٹا ہے چاہے حقیقت ہے یا کہیں اس کا مظہر۔ کہیں ذات انساں وجود کی چادر میں لپٹی نظر آتی ہے اور کہیں شعور کی کرنوں میں چندھیاتی ہے۔ زور بیاں سے اگر میں یہ کہ دوں کہ انسان لحافوں، لفافوں میں لپٹا ایک سراب ہے تو شاید غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ روز ازل سے یہ خود اپنے ہی وجود و شہود کی بحث میں الجھا ہوا مجسمہ ہے۔ پہلے تو حقیقت نے خود حضرت انسان کو بہت سے لحافوں میں لپیٹ بھیجا تھا اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ اس نے خود اپنے لیے اور بہت سے لفافے سلوا لیے جو وجود کی قیود پر مسلسل استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ جب تلک انسان وجود کو لگے لپٹے لحافوں میں مقید کر کے رکھے گا تب تک ہمارا اس وجود پر مشہود ہونے کا دعوی بے سود ہے۔

کہا جاتا ہے کہ آج کا انسان خود کو بہت سے رنگیں لفافوں میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے۔ یہ بات عین حقیقت تو ضرور ہے مگر اس بات کو صرف آج کے انسان تک محدود کر کے بیان کرنا نا انصافی ہو گی۔ انسان دلنشینی کی خاطر ازل سے ہی، اصل کو لفافوں میں ڈھانپ کر پیش کرنے کو ہی خوبی ذات گردانتا آیا ہے۔ کہیں نہ کہیں انسان کا معترفانہ مزاج بھی اس کا بنیادی عنصر ہے۔ یہ غلافیت در اصل سراب ہے۔

یہ انسانی شباب یہ جوبن یہ بچپن، جوانی، بڑھاپا سب ڈھنپا سراب ہے۔ یہ سب موجود و غیر موجود کسی حقیقت کی حسرت شباب کا لحاف ہے۔

Latest posts by خالد جنید (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments