یوزر فرینڈلی – صارف دوست


جنید جمشید مرحوم ایک بار کہنے لگے کہ ہمارے کاروبار میں بے برکتی کی بنیادی وجہ وہ نیت کا فطور ہے جو آج کل قریب قریب ہر دکاندار کی دکانداری میں شامل ہو چکا ہے، یورپ و امریکہ میں اس کے برعکس آپ کوئی چیز خریدیں اور جب چاہیں اسے واپس کر سکتے ہیں، اور دکاندار بلا چوں چرا کے چیز واپس لے لیتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں بڑے بڑے جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ ’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا‘ ، یہ ایک ایسی چشم کشاء حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں جا بجا بکھری پڑی ہے اور جن سے روزانہ ہمارا سابقہ پڑتا ہے، جو ہمارے معاشرے کے یوزر فرینڈلی ہونے کی راہ میں حائل ہے۔

یوں تو یوزر فرینڈلی یا صارف دوستانہ کی اصطلاح دنیا بھر میں خالصتاً کمپیوٹر سے متعلق ہے جو عموماً کسی سافٹ ویئر کے آسان استعمال اور عام فہم ہونے کے لئے استعمال ہوتی ہے، لیکن اگر ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو پائیں گے کہ ہمارا ماحول یا معاشرہ بالکل بھی یوزر فرینڈلی نہیں ہے۔ عام دکاندار سے لے کر سرکاری دفاتر تک، اور سڑک پر پیدل چلتے انسان سے لے کر قیمتی گاڑی میں بیٹھے سیٹھ تک، سب کا مزاج غیر دوستانہ اور معاندانہ ہوتا ہے، لگتا کچھ یوں ہے جیسے پورا کا پورا معاشرہ شدید مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہے، عمومی طور پر لوگ ہر وقت بد اخلاقی اور تلخ گوئی کے درمیانے درجے پر ہوتے ہی ہیں جو بعد میں حالات و واقعات کے مطابق دست و گریباں ہونے سے شروع ہو کر سر پھٹول تک بھی جا پہنچتے ہیں۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ کوئی بھی خود کو غلط ماننے کو بالکل تیار نہیں ہے، یعنی ایک موٹر سائیکل غلط جگہ پارک کرنے سے لے کر ایک بیس منزلہ عمارت غلط جگہ تعمیر کر لینے تک سب کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی غلط نہیں کر رہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت غلط ہے بھی تو باقی سب بھی تو یہی کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی انوکھی اور نامناسب تاویل ہے کہ خود پر ہر ناجائز فعل کو جائز قرار دے دینا صرف اس وجہ سے کہ کوئی دوسرا بھی تو یہی کر رہا ہے۔

کیا کسی کی بدکلامی، کسی کی بداخلاقی، کسی کی دھوکہ دہی، یا کوئی اور اخلاقی بیماری صرف اس لئے جائز اور قابل عمل قرار دی جا سکتی ہے کہ کوئی پہلے سے ہی اس میں مشغول ہے۔ مگر عملی طور پر ایسا ہی ہو رہا ہے، اگر کوئی ایک قطار توڑ دے، یا ٹریفک سگنل توڑ دے تو پھر باقی سب پر جیسے لازم ہوجاتا ہے کہ پورے ماحول کو تہہ و بالا کر دیں اور ہر قانون ہر ضابطہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اپنی مرضی سے چلائیں۔ اس ضمن میں سرکاری نظم کے تحت کام کرنے والے قریب قریب سب ہی ادارے اس بیماری کا شکار ہیں، وہاں کھڑکی پر بیٹھے کلرک سے لے کر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے بابو صاحب تک سب کا مزاج ایک خاص ڈھب پر یعنی غیر صارف دوستانہ طریق پر ڈھلا ہوا ہوتا ہے،

لہذا صارف بیچارہ بلا وجہ صرف محترم کلرک صاحب کی نظر کرم نہ ہونے کی وجہ سے جوتیاں گھس گھس کر تنگ آ جاتا ہے مگر اس کی شنوائی ہی نہیں ہو پاتی، ایک بار راقم کم عمری میں ایسے ہی ایک تجربے کا شکار اس وقت ہوا جب ڈومیسائل کے پیپر پر مجسٹریٹ صاحب کے دستخط درکار تھے، کم عمری تھی سرکاری دفاتر کے چلن کا کچھ عملی تجربہ نہ تھا، لہذا اعلی افسر کے دربان نے ہی راستے میں لپک لیا اور کہا کہ صاحب نہیں ہیں، عارض اس کی منشاء کو نہ بھانپ سکا اور وہیں بیٹھ گیا اور وقفے وقفے سے معلوم کرتا رہا کہ صاحب کب تک آئیں گے، کیسے ملا جا سکتا ہے، مگر نا تجربہ کاری آڑے آئے جا رہی تھی کہ چار گھنٹے اسی تگ دو میں گزر گئے، اتفاق سے ایک رشتہ دار جو کافی اثر رسوخ والے تھے کورٹ کی راہداری میں نظر آئے جو عارض کی جانب ہی آرہے تھے، انہیں بھی اسی مجسٹریٹ سے ملنا تھا، انہوں نے آتے ہی معلوم کیا کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں، ہم نے بتایا کہ بڑے صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، مگر وہ موجود ہی نہیں ہیں، چپڑاسی شاید ان سے واقف تھا لہذا جیسے ہی انہوں نے اس سے صاحب کی بابت معلوم کیا اس نے کہا کہ وہ بیٹھے ہیں اور صبح سے بیٹھے ہیں۔

یہ اور ایسے کئی واقعات جو ہمارے سرکاری دفاتر کے غیر صارف دوستانہ ماحول کی عکاسی کرتے ہیں کا راقم خود بھی گواہ ہے بلکہ غالب خیال یہ ہے کہ قریب قریب ہر شہری ان تمام تجربات سے بطریق احسن نہ صرف روشناس ہو گا بلکہ اس راہ خارزار سے کئی کئی مرتبہ گزر بھی چکا ہو گا۔ اس سے پہلے پرائیویٹ یا نجی اداروں کا حال بہتر ہوتا تھا اور بعض اداروں میں تو جگہ جگہ جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا کہ کسٹمر از کنگ مگر جب سے کاروبار کی فراوانی ہوئی ہے اور سرمایہ دار امیر سے امیر ترین ہوا ہے یہ فرق بھی مٹ گیا ہے، اب دکھاوے کے لئے کچھ چونچلے کرلئے جائیں تو الگ بات ہے مگر عملی طور پر یہ بھی سرکاری اداروں جیسے ہی ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ تو حال ہے اداروں کا اب اگر ہم انفرادی طور پر عوام الناس کے رویوں پر نگاہ ڈالیں تو پائیں گے کے وہ اپنے ساتھ کی گئی نا انصافی کا انتقام خود سے کمزور سے یا جس پر بھی داؤ چل جائے اس سے لے ہی رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو تصور سب سے زیادہ پنپ رہا ہے وہ ہے One time selling کا جبکہ گزشتہ ادوار میں Customer Loyalty بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور یہی اصطلاح عام تھی، ادارے اپنے گاہک کو مستقل اپنے ساتھ بنائے رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہوا کرتے تھے، مگر اب وقت بدل چکا ہے۔

ایک بار جو دکان سے اتر گیا تو سمجھا یہ جاتا ہے کہ اب یہ شاید ہی کبھی واپس خریداری کے لئے آئے گا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ غیر معیاری اشیاء اور خدمات فراہم کرنا اب معیوب نہیں سمجھا جاتا، اور یہ طریقہ بھی ایک عام ریڑھی بان سے لے کر بڑے بڑے پروڈکشن ہاؤسز تک رائج ہے۔ جو کاروباری معاملات کے معیار میں گراوٹ کا سبب بن رہی ہے،

دھوکہ دہی، چارسو بیسی اور وعدہ خلافی جیسے معاملات کاروبار کی کامیابی کی اساس بن کر رہ گئے ہیں۔ اب دکاندار اس بات کو ایمانداری مانتا ہے کہ اس نے گاہک کو یہ بتا کر چیز بیچی ہے کہ یہ دو نمبر، جعلی، یا نقلی ہے۔ اب ہر صارف خریداری یا خدمات کے حصول کے وقت بڑی الجھن کا شکار ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک ایمانداری والی ڈیل ہو جائے مگر سو سو جتن کرنے کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں دھوکہ، فریب یا چار سو بیسی ہو ہی جاتی ہے۔ ورنہ بتائے بنا نقلی شہ تھما دینا یا کام چند سو کا ہو جسے ہزاروں کا بنا دیا جانا، اور صحت جرم سے بعد میں مکر بھی جانا عام سی بات ہے۔

مندرجہ بالا بیان کیے گئے محض چند عوامل ہیں جو معاشرے میں بے ایمانی اور چور بازاری کو پروان چڑھانے کا سبب ہیں ایسے اور بے شمار معاملات ہیں جن کا عوامی سطح پر درست کیا جانا نہایت ہی ضروری ہے، ورنہ پورے معاشرتی نظام کا شیرازہ بکھر جانے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب لوگ برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے تو معاشرے میں شدید ابتری و انارکی پھیل سکتی ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کو ہر طرح سے یوزر فرینڈلی بنایا جائے، اخلاق و اقدار کی داغ بیل ڈالی جائے اور ان کی جڑوں کو عام آدمی کی سطح تک مضبوط کیا جائے۔ یقیناً اس کا فائدہ ہر خاص و عام کو پہنچے گا۔ جو ملک و ملت دونوں کے لئے یکساں مفید و سازگار ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS