کیا شوگر کے مریض  آم کھا سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آم برصغیر میں ایک مقبول پھل ہے۔ مرزا غالب آم کے بہت شوقین تھے۔ انہوں نے کہا کہ آموں میں صرف دو خوبیاں ہونی چاہییں۔ ایک یہ کہ میٹھے ہوں اور دوسرے بہت سارے ہوں۔ ایک مرتبہ مرزا غالب بہادر شاہ ظفر کے ساتھ باغات میں چہل قدمی کر رہے تھے ۔ بادشاہ نے محسوس کیا کہ غالب آموں سے لدے درختوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے استفسار کیا گیا تو مرزا غالب نے جواب دیا ، "بادشاہ سلامت میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ دانے دانے پے لکھا ہے کھانے والے کا نام۔ ابن فلاں کا نام ابن فلاں کا نام۔ میں دیکھ رہا ہوں کسی آم پر میرے باپ دادا کا نام بھی لکھا ہے کیا؟ شہنشاہ سمجھ گئے تھے کہ غالب کیا چاہتے ہیں اور انہوں نے اسی دن ان کو آموں کی ٹوکریاں روانہ کر دیں۔

وقت بدل گیا۔ دلی میں بگھیوں اور تانگوں کی جگہ گاڑیوں نے لے لی۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے بحری جہازوں تک سفر محدود نہ رہا بلکہ ہوائی جہازوں نے دنیا کو ایک گاؤں کی طرح بنا دیا ۔ صرف دن میں تین مرتبہ تردد سے کھانے پکانے کے بجائے فاسٹ فوڈ کے چین ریستوران ہر جگہ کھل گئے۔ زندگی اپنے پرکھوں سے مختلف تو ہوگئی لیکن جینیات بدلنے میں اس سے بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ ذیابیطس انتہائی عام ہوگئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟

آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ یہ عام خیال ہے کہ آم میں بہت سادہ کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جو خون میں تیزی سے شوگر کی سطح بڑھاتے ہیں اور یہ ذیابیطس کے مریضوں میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو عام طور پر آم کھانے کے خلاف مشورہ دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ در حقیقت ، آم ایک انتہائی غذائیت بخش پھل ہے جس میں متعدد صحت سے متعلق فوائد ہیں۔ ہاں ، آپ نے اسے صحیح طور پر پڑھا ہے۔ معیاری حوالہ کے لئے یو ایس ڈی اے کے قومی غذائیت والے ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار کے مطابق ، 100 گرام تازہ آم میں 14.98 گرام کاربوہائیڈریٹ ، 0.82 گرام پروٹین ، 0.38 گرام چربی ، اور 1.6 گرام فائبر ہوتا ہے ، جس میں تقریبا 60 کلو توانائی موجود ہوتی ہے۔ تمام کھانے کی اشیاء کی گلائسیمک انڈیکس برابر نہیں ہوتی۔ مختلف گلائسیمک انڈیکس کا مطلب ہے کہ اگر دو کھانے کی اشیاء میں برابر کاربوہائیڈریٹ بھی موجود ہو تو خون میں گلوکوز کی سطح پر ان کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ گلائسیمک انڈیکس کو زیرو سے لے کر سو تک کے اسکیل سے ناپا جاتا ہے۔ زیادہ گلائسیمک انڈیکس 70 سے زیادہ سمجھی جاتی ہے ، کم 55 سے کم اور 56 سے 69 کے درمیان ، درمیانی۔

جب میں اپنے خاندان کے ساتھ 1993 میں امریکہ منتقل ہوئی تو ایک بار مجھ سے کسی نے پوچھا کہ میرا پسندیدہ پھل کون سا ہے؟مینگو! میں نے جواب دیا۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ مینگو کیا ہے؟ شمالی امریکہ میں کافی عرصہ تک عام لوگ آم کو نہیں جانتے تھے جبکہ جنوب ایشیا میں آم کی تقریباً چار سو اقسام پائی جاتی ہیں۔ شمالی امریکہ میں اب بھی زیادہ تر میکسیکو سے آئے ہوئے بے مزہ اور روکھے پھیکے آم ہی دستیاب ہیں۔ اسی لیے جب میں ہوائی گھومنے گئی اور وہاں میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے آموں سے لدے ہوئے درخت دیکھے تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ اتنے سالوں بعد ڈھیر سارے آم کھانے کا موقع ملا۔ بہت مزا آیا۔

او دیس سے آنے والے بتا

کیا آم کے اونچے پیڑوں پر

اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں

شاخوں کے حریری پردوں میں

نغموں کے خزانے گھولتے ہیں

(اختر شیرانی)

امریکی فوڈ انڈسٹری کے ہاتھ مینگو لگا تو انہوں نے اس کا بھی تیا پانچا کیا اور طرح طرح کی پراڈکٹس میں بدل کر پلاسٹک میں لپیٹ کر بیچنا شروع کیا جس سے آم کے فائدوں کے بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے۔ کچھ باتوں میں آگے بڑھنا اور کچھ نیا بنانا مناسب ہوتا ہے اور کہیں کہیں چیزوں کو سادہ ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہوتا ہے۔

آم کے گودے، چھلکے اور بیجوں میں پایا جانے والا فینولک مرکب خون میں شوگر کو کم کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے جس سے خون میں شوگر کی مقدار کو اعتدال میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ فینولک مرکب کاربوہائیڈریٹ کے انہضام کے لئے ذمہ دار کیمیائی مادوں کو روک کر اور آنتوں میں گلوکوز جذب ہونے کو کم کرکے اپنا اثر مرتب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آم کو کھایا جائے تو اس سے خون میں شوگر ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں ہوتا لیکن اگر پھل کے ریشے کے بغیر آم کی انتہائی پروسیس شدہ شکلیں ، جیسے آم کی بوتل یا آم کی آئس کریم وغیرہ استعمال کی جائیں تو وہ خون میں شوگر بڑھا سکتی ہیں۔

آم کی خوبصورتی یہ ہے کہ نہ صرف وہ کھانے میں مزے دار ہوتے ہیں بلکہ ان میں نمایاں مقدار میں غذائی اجزاء ہوتے ہیں جن میں

سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم، فولاد، زنک، وٹامن اے ، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن بی نیاسن شامل ہیں جن کی ہمیں مستقل بنیادوں پر ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آم میں اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو آنکھوں ، اعصاب، گردوں یا خون کی نالیوں کو ذیابیطس کی بیماری میں نقصان پہنچنے سے بچاتے ہیں۔ مزید برآں ، وٹامن سی پر ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تجویز کردہ روزانہ کی انٹیک (آر ڈی اے) بالغ خواتین میں تقریبا 75 ملی گرام اور بالغ مردوں میں 90 ملی گرام (حمل اور تمباکو نوشی کرنے والوں میں زیادہ) ہوتا ہے ۔ آم کھانے سے شوگر کی سطح ، کولیسٹرول کی سطح ، اور ہائی بلڈ پریشر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ان خصوصیات کے علاوہ، آم کھانے سے انفلامیشن، کینسر کے خطرے، جگر کی بیماری اور چھوت کی بیماریوں کے خلاف مدافعت میں مدد ملتی ہے۔

ایلوپیتھک معالج ثبوت پر مبنی دوائیوں سے حاصل کردہ غذائی مشورے فراہم کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف ایسی سفارشات دے سکتے ہیں جن کا سائنسی انداز میں تجزیہ کیا گیا ہو ، پیمائش کی گئی ہو اور یہ دوائیں، مشینیں یا پروسیجر اس طرح سے فائدہ مند ثابت ہوسکیں جس کو مختلف اداروں میں دوبارہ سرانجام دیا جاسکے۔ انسانوں میں آم سے متعلق کچھ تحقیقی مطالعات یہ ہیں۔

 ایک اسٹڈی میں ذیابیطس ٹائپ 2 والے دس افراد میں پانچ پھلوں یعنی کیلے ، سنترے ، اناناس ، پپایا اور آم کے خون میں گلوکوز کے ردعمل کا مطالعہ کیا گیا ۔ ہر مریض کو 50 گرام کاربوہائیڈریٹ کے برابر پھل دیا گیا۔ دیگر پھلوں کی نسبت آم کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں سب سے کم اضافہ دیکھا گیا۔ منجمد خشک کیے ہوئے آم کھانے سے بھی مرد و خواتین دونوں میں بلڈ شوگر کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔ آم پر کی گئی ایک تحقیق میں بیس سے پچاس سال تک کی عمر کے فربہہ افراد میں وزن کی کمی اور شوگر کنٹرول کرنے کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا تو اس سے یہ نتائج سامنے آئے کہ اگرچہ ان شرکاء کا وزن کم نہیں ہوا لیکن مردوں کے کولہوں کے گھیروں میں کمی دیکھی گئی اور خون میں شوگر کی مقدار میں بہتری آئی۔ جب آم کا ریشہ نکال کر اس کو مریضوں کو دیا گیا تو اس کا اثر ایسا ہی تھا جیسے کہ سفید آٹے کی چپاتی کا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آم کا ریشہ اہم ہے۔ اسی وجہ سے پراسیسڈ فوڈ کے بجائے پورے آم کھانا زیادہ مناسب ہے۔

ایک مرتبہ علامہ اقبال کو ان کے ڈاکٹر نے آم کھانے سے منع کیا۔ علامہ اقبال نے اصرار کیا کہ صرف ایک آم کھانے کی اجازت دی جائے۔ جب یہ ڈاکٹر صاحب ان کو دیکھنے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ علامہ اقبال کے سامنے ایک کلو کا آم رکھا ہے اور وہ اس کو کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔

ہم عام طور پر آم کو اس کے حجم سے ماپتے ہیں جیسا کہ ایک چھوٹا آم ، درمیانے حجم کا آم یا بڑا آم۔ لیکن آم کے اندر ایک بڑی گٹھلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی خوراک کے سرونگ سائز کو اس طرح نہیں ناپ سکتے ہیں۔ آم کو درست طریقے سے ناپنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ اس کا چھلکا اتار کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک کپ میں ڈالیں۔ ایک اسٹینڈرڈ کپ تقریباً 16 اونس کا ہوتا ہے اور خوراک دانوں کے مطابق آم کی ایک سرونگ اس کا تین چوتھائی ہوتی ہے۔ یعنی کہ 12 اونس اور اس کی گلائسیمک انڈیکس تقریباً 19 ہے۔

ذیابیطس جیسی دائمی بیماری کا سامنا کرتے ہوئے بھی، زندگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے میں آم کا استعمال مناسب ہے لیکن اعتدال ضروری ہے۔ آم ایک مزیدار پھل ہے۔ اس کی مقدار پر نظر رکھتے ہوئے اور خون میں گلوکوز کی سطح کی باقاعدگی سے نگرانی کر کے مریض اسے اپنی غذا میں شامل کر سکتے ہیں اور اس کے ذائقہ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments