انسان اور کائنات وجود اور شعور۔ قسط دوئم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلی تحریر میں انسان اور کائنات کی امرجینس (برآمدگی) کو ایک ہی وجود کے دو تشکیلی عناصر کے طور پر متعارف کرایا گیا کہ جہاں دونوں کرداروں نے اپنی انفرادیت کو انسانی شعور میں متوازی حیثیتوں میں شناخت کیا، یہاں امرجینس کی مزید تشریح درکار ہے تاکہ بات واضح ہو جائے۔

ہر برآمدی نظام کو تشکیل دینے والے کردار مخصوص نسبتوں سے متعلق رہ کر ایک نیا شعوری دائرہ کار بناتے ہیں اس نظام کا قیام فطری قوانین کہ زیر اثر ایک ایسا وجود مرتب کرتے ہیں کہ جس میں کرداروں کے مابین ہم آہنگی کی اک نئی جہت بازیاب ہوتی ہے مثلاً انواع کے کے درمیان مشترکہ تقاضوں پر مبنی میکانکیت معنوی اعتبار سے حقیقت کی مختلف تشریحات کے باوجود ایک ہی مقصد کے حصول پر کاربند نظر آتے ہیں جسے ہم بقاء کا نام دیتے ہیں اس مقام پر انواع کے شعوری اعمال پیچیدہ اور نتائج سادہ ہوتے ہیں جبکہ اس کے بر عکس اس نظام کو قائم کرنے والے جزئیات کے لاشعوری اعمال سادہ اور نتائج پیچیدہ ہوتے ہیں اس ضمن میں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جیسا کہ انسان خود، اس کے وجود کو مرتب کرنے والے جزئی کرداروں کی سادہ میکانکیت انسان کے پیچیدہ شعور کو برآمد کرتے ہیں۔

اسی طرح چیونٹیوں کا انفرادی شعور اس قابل ہی نہیں کہ وہ اپنی کالونی کا کلی منظم وجود کا احاطہ کر سکے یعنی ایک ہی وجود کے مائکرو اور میکرو عناصر نہ صرف ایک دوسرے سے شعوری لاتعلقی میں رہتے ہیں بلکہ دونوں سطحوں میں کارفرما قوانین ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک با معنی وجود کی تکمیل کرتے ہیں، اسی طرح کائنات کا مائکرو سطح پر وجود امکانی ہوتا ہے جبکہ یہی وجود میکرو سطح پر آ کر متعین حیثیت اختیار کر لیتا ہے اس لیے وجود کا یہ تعین انسانی شعور کے لیے حقیقت کی کثیر الاجہتئی پھیلاؤ کا صرف ایک زاویہ ادراک ہے یہاں کائناتی مظاہر ایک ہی حقیقت کی مختلف صورتوں کہ علاوہ کچھ نہیں اس لیے لگتا یوں ہے کہ جیسے شعور مستقل اور مطلق ہے اور وجود اس کے ساتھ ہم آہنگی کی ایک مسلسل اور واقعاتی حرکت ہے۔

اس واقعاتی تسلسل میں اشیاء ایک دوسرے کو محل کی مناسبت سے اپنے اپنے تناظر شعور میں مفہوم کرتے ہوئے حقیقت کو ابسٹریکٹ کرتی ہیں مگر وہ حقیقت نہیں ہوتیں کیوں کہ جب تک چیزوں کو تناظر کلی میسر نہیں آئے گا اس وقت تک وہ مبہم صورتوں میں رہیں گی، یہی وجہ ہے کہ انسان کو صورتوں کی حقیقت جاننے کے لیے خوردبین اور دوربین کی ضرورت پیش آئی یہاں شعور نے دو انتہائی نظاموں میں بقاء کو منتظم نہ پایا بلکہ یہاں چیزوں کے درمیان نظام تعلق یکسر مختلف اصول و حرکت پر قائم ہیں یہاں جدید انسان کی عقل نے اسی نوعیت کا جھٹکا محسوس کیا کہ جیسا کہ قدیم مذہبی انسان کے گمان نے ارتقایت کی تصدیق پر محسوس کیا تھا

جاری ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عبید الرحمان ترین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments