گمشدہ سمندر کی آواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شاعر منیر مومن صاحب کی بلوچی نظموں کا اردو میں ترجمہ کر کے احسان اصغر نے واقعی نظم کے قارئین پر احسان کیا ہے کہ احساس کی اس درجہ نزاکت اور مشاہدے کی اس درجہ باریک بینی سے بنی نظمیں ہر ایک پر کہاں اترتی ہیں اور ہر پڑھنے والے کو باآسانی دستیاب کب ہوتی ہیں! منیر مومن کی آنکھ سے نتھری دنیا کو احسان نے جس شفافیت سے ہم تک پہنچانے کی سعی کی ہے اس کا پھل اسے تب تک یقیناً ملتا رہے گا جب تک شاعری میں تخلیقی تراجم کی اہمیت باقی رہے گی۔

نظمیں پڑھ کر سوچتی ہوں اگر ان تخلیقی پیرایوں کا لہجہ مصنوعی نہیں تھا۔ اگر ان نظموں کا احساس اس درجہ شدید تھا۔ اگر ان استعاروں نے میری راتیں مزید گمبھیر بنا دیں اور صبحیں مزید روشن۔ اگر ان نظموں کی سچائیاں کہیں نا کہیں مجھے رلاتی رہی ہیں۔ اگر یہ نظمیں مجھے میری زندگی ایسی قریں اور ہجر ایسی سنجیدہ محسوس ہوئیں۔ اگر یہ نظمیں میرے ساتھ کئی دنوں تک لپٹی رہیں تو پھر انہیں محض تراجم کہنا یقینا زیادتی ہوگی۔ احسان اصغر خود کتنا عمدہ شاعر و تخلیق کار ہے یہ ذکر پھر کبھی سہی! فی الحال پڑھنے والوں کے ساتھ نظموں کے خوبصورت حصے شیئر کر رہی ہوں۔ ادراک کے در وا کرتی سطریں دیکھیے :

” جو بات پرندوں کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی
شعر نہیں ہو سکتی ”
نظم: رومال
” تو جاگ اٹھتا
میں تجھے دکھاتا کہ آسمان
دن میں خواب
اور
رات میں ایسا دروازہ ہے
کس کی پچھلی طرف تالا ہو ”

نظم: خواب

” جہاں کچھ بھی نہیں رہتا
وہاں لازما کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا ہے ”
نظم: زمین
” وقت ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے
موت سے۔ کھیل سے
جنگ سے۔ جدائی سے
پھر بھی باقی رہ جاتا ہے ”

نظم: وقت کے تراشے
” تو حسین تر ہے
ہر عدم دستیاب مسرت سے
ہر سنگین غم سے
تو حسین تر ہے
رات کے داغدار ستر
اور صبح کی روشن پارسائی سے ”
” تو حسین تر ہے
اس جھوٹ سے
جو تیری محبت کے نام پر
ہر روز میں خود سے بولتا ہوں ”

نظم: تو حسین تر ہے
”اور عشق۔
خدا کے گھر سے چرایا ہوا ایک چراغ! ”

نظم: روشن بیر
”اسی دنیا کو تیرے دوری نے جنگ کا مورچہ بنا کر
میری آنکھوں کے درمیان رکھ دیا
یہ مورچہ نہ مسمار ہوتا ہے
نہ ہدیہ کیا جا سکتا ہے
بس اس مورچے سے بھاگا جا سکتا ہے
اور آج تک کوئی بھی
اپنی پیشانی سے فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکا ”
نظم: آنکھوں کے درمیان رکھی رزم گاہ
” میں نے دیکھا کہ تمہاری مسکراہٹ
اور میرے دل کے پھپھولوں کا رنگ ایک سا ہے ”

نظم: تلاش
” تم مجھ سے اس قدر نزدیک ہو
کہ اگر کوئی مجھ سے تمہارا پتہ پوچھے
میں کچھ نہیں کہہ سکوں گا ”
نظم: پتہ

ان مختلف نظموں میں استعاروں کی گہرائی، وسعت اور احساس کی سطح پر تکمیل کی چاشنی محسوس کی جا سکتی ہے۔ محبت، انسانیت اور اپنے ارد گرد کی دنیا سے گہرا تعلق، تجزیہ اور پھر ان کا تنقیدی اظہار دیکھا جا سکتا ہے۔ منیر مومن صاحب نے اس تنقیدی اظہار کو بھی اس قدر نرمی سے ہمارے سامنے رکھا ہے گویا دکھتی رگوں پر کوئی مسکرا کر مرہم رکھنے کی درخواست کر دے۔

”سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
میں ترے خیمے کے دریچے میں چاند رکھ دوں۔ ؟
تو کیا کہتی ہے؟ ”
نظم: سمو! تجھے کیا پسند ہے؟

بیک وقت بے بسی اور عطا کا اس قدر جامع اور خوبصورت اظہار ایک شاعر ہی کر سکتا ہے اور پھر اظہار کے بعد شاعری میں ہر لفظ کا ایک مکمل اثر ہوتا ہے جوحسب توفیق پڑھنے والوں کو اپنے حصار میں لیے رکھتا ہے۔ ایک زبان سے دوسری میں ڈھلنے کے بعد بھی اگر وہ اثر پڑھنے والوں تک پہنچ رہا ہے تو یقیناً یہاں مترجم کو داد ملنا اس کا جائز حق ہے۔

مزید ان نظموں کی قرات کے دوران کہیں بھی ہمیں مصنوعی لہجے کا گمان نہیں گزرتا۔ احسان نے ہر نظم کو جیسے اپنے اندر سمو کر ان کیفیات کو خود پر بیت جانے دیا اور پھر ہمارے حوالے کر دیا۔ مختلف نظموں میں ایک ہی لفظ کو ترجمہ کرتے ہوئے مختلف انداز سے پیش کرنا بھی ان نظموں کی خاصیت ہے جو اس بات کا واضح اظہار ہے کہ مترجم نے ڈوب کر ممکنہ حدود تک نظموں، تراکیب، کیفیات، بلوچی ثقافت اور شاعر کا مطلوبہ لہجہ تلاش کرنے کی تگ و دو کی ہے۔

بلوچی شاعر منیر مومن کو اس صورت میں دریافت کرنا میرے لیے نہایت خوشگوار تجربہ رہا ہے۔ روایتی استعاروں کی بجائے ثقافتی رنگوں کی ایک مخصوص فضا نے کئی دن مجھے اپنے حصا ر میں رکھا ہے۔ اپنے گرد و پیش کو انفرادی سطح سے اس اجتماعی شعور کا حصہ بنانا اور پھر اسے شاعری کی نزاکتوں سمیت سماج کے سامنے رکھنا منیر صاحب ایسے شعراء کا کمال ہے۔ یہ تمام نظمیں منفرد اور دلکش رنگوں کی منہ بولتی تصویر کی طرح مختلف جذبات و احساسات سے سجی ہوئی ہیں۔ جھینگر، جھاڑو، جھنڈا، خیمہ، رومال، بجوکا، مورچہ، سرمہ دان اور ایسے دیگر منفرد استعاروں کو اس درجہ واقفیت اور لطافت کے ساتھ نظموں میں لانا ایک الگ کار دشوار ہے جسے مومن صاحب نے کار عشق جان کر بخوبی نبھایا ہے اور احسان کی تخلیقی کاوشوں نے انہیں ہم تک ”گمشدہ سمندر کی آواز“ کی شکل میں پہنچایا ہے۔

کتاب میں سے ایک نظم:
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
۔
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
اس نگری میں رواں مہکتی پروا
یا بادلوں سے بنی ہوئی شام کا دل
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
میں تیرے خیمے کے دریچے میں چاند رکھ دوں۔ ؟
تو کیا کہتی ہے؟
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
وہ ستارہ لاؤں اور تیرے تئیں ناؤ میں تبدیل کر دوں
کیا تو سمندر کی نم آلود سرگوشیاں لیے
مجھ سے ملنے آئے گی؟
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
ان دنوں میرا دل مجھ سے کہتا ہے :
تیری خوبصورتی کو گرفت میں لوں اور تجھے ایک گیت میں ڈھال دوں
پھر شام کو ترتیب وار بیٹھے پرندوں کے سامنے یہ دھن پھیلا دوں!
پرندے بھی تری اداس دھن گنگنائیں
میں انہیں سنوں!
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
نگری میں بہتی پروا۔ شام کا دل
مہتابی دریچہ۔ ستارے کی ناؤ
یا پرندوں کی منقاروں پر موسیقیت سے پر تیرے حسن کا ترانہ!
سمو! تجھے کیا پسند ہے؟
کتاب: گمشدہ سمندر کی آواز (نظمیں )
بلوچی سے اردو ترجمہ: احسان اصغر
شاعری: منیر مومن
پبلشرز: عکس پبلیکیشنز
قیمت: 500
سن طباعت: 2020
کتاب کا حصول بذریعہ جاز کیش کے لیے رابطہ نمبر: 03484078844
فاطمہ مہرو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments