قبر میں لیٹا ہوا ایک شخص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زندہ اور مردہ انسان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہ سوال میں نے ایک ایسے شخص سے کیا جسے مرنے کے بعد تازہ تازہ دفنایا گیا تھا۔ اس کی قبر کافی تنگ تھی جس کی وجہ سے مجھے اس سے بات کرنے میں دقت ہو رہی تھی، شاید مرنے والے کے رشتہ داروں نے اسے دفنانے سے پہلے قبر میں لیٹ کر اس کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اس کے لواحقین تدفین کے بعد واپس جا چکے تھے اور اب بظاہر وہ اپنی قبر میں تنہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے پھر اپنا سوال دہرایا جس کے جواب میں وہ کچھ بڑبڑا کر رہ گیا۔

میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے چہرے پر کھچاؤ کے آثار نظر آرہے تھے جیسے وہ کسی تکلیف میں ہو۔ مجھے لگا کہ اسے کوئی شے تنگ کر رہی ہے۔ اس کی آواز کی منمناہٹ سے مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے لیکن جب اس نے اپنے کفن میں کروٹ لینے کی کوشش کی تو مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے لیٹے رہنے کو کہا اور پھر اس کا کفن ڈھیلا کر دیا۔

مردے کی جان میں جان آ گئی۔ اس نے گہری سانس لی اور پہلی مرتبہ کچھ کہا لیکن ان الفاظ کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ پھر مجھے خیال آیا کہ تازہ دفنائے گئے مردے کی بات سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے، وہ فوراً ہی بولنا شروع نہیں کرتا، پہلے وہ بچوں کی طرح غوں غاں کرتا ہے، پھر اس کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلتے ہیں اور پھر کہیں جا کر وہ با معنی فقرہ کہنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس مردہ شخص کو بھی کچھ وقت دینا چاہیے، میں نے دل میں سوچا۔

وہ اب بھی گہرے گہرے سانس لے رہا تھا جیسے بہت جد و جہد کے بعد کسی تکلیف سے نجات پائی ہو، شاید اس کا کفن بہت کس کے باندھا گیا تھا۔ ”کیا یہاں پینے کو پانی ملے گا؟“ ۔ یہ پہلا با معنی فقرہ تھا جو میں نے اس کی زبان سے سنا تھا۔ ”پتا نہیں“ ۔ میں نے جواب دیا ”کل اگر تمہارے گھر والوں میں سے کوئی قبر پر حاضری دینے آیا تو شاید گورکن اس کی آمد پر پانی کا کچھ چھڑکاؤ کر دے، اس کے علاوہ تو کوئی صورت نہیں۔“ میرا جواب سن کر اسے کچھ مایوسی ہوئی۔ ”لیکن یہاں تمہیں پانی وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“ میں نے اسے تسلی دی۔ ”چونکہ تم ابھی ابھی دنیا سے آئے ہو اس لیے تمہیں دنیاوی چیزوں کی طلب ہو رہی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سوچ کر بتاؤ کیا واقعی تمہیں پیاس لگ رہی ہے؟ “ میری بات کے جواب میں وہ پھر کچھ بڑبڑایا جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔

اب ہم اندھیرے کے عادی ہو چکے تھے اس لیے میں اس کی ہئیت کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ اس نووارد مردے کی عمر زیادہ نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ چالیس برس کا ہو گا، جسم پر کسی چوٹ یا زخم کے نشان بھی نہیں تھے جن سے پتا چلتا تھا کہ وہ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا بلکہ طبعی موت مرا ہے۔ لیکن مجھے اس کی موت کی وجہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، مجھے تو فقط اس سے یہ پوچھنا تھا کہ جب دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تو اس لمحے ایسا کیا ہوا جو پہلے نہیں ہوا تھا۔

اچانک مجھے اس کے رونے کی آواز آئی، میں نے غور سے دیکھا تو وہ شخص ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا اور ساتھ میں کچھ بولتا بھی جا رہا تھا، اس کے الفاظ سے میں نے اندازہ لگایا جیسے وہ دنیا کو یاد کر کے رو رہا ہے۔ یہاں قبر میں چونکہ دلاسا دینے والا نہیں ہوتا اس لیے بہت سے مردے خود ہی رو دھو کے چپ ہو جاتے ہیں سو میں نے بھی اسے چپ کروانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ مردہ بھی تھوڑی دیر بعد خاموش ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ اپنے سوال کو دہرانے کا یہ مناسب موقع ہے۔

سو میں نے دوبارہ گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔ ”مرتے وقت تمہارے احساسات کیا تھے؟ کیا تمہیں واقعی ایسا لگا کہ روح تمہارا جسم چھوڑ کر جا رہی ہے؟ یا پھر تمہارا اپنے وجود پر اختیار ہی ختم ہو گیا؟“ ۔ میری باتیں سن کر پہلی مرتبہ قبر میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور وہ بولا ”کیا تمہیں یاد ہے کہ اپنی پیدائش سے پہلے تم کیا تھے؟ یا دنیا میں آنے سے پہلے تمہاری کیا کیفیت تھی؟“ میں نے نفی میں سر ہلایا۔ ”بالکل اسی طرح مرتے ہوئے بھی کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس وقت کیا کیفیت ہوتی ہے، اس وقت کوئی احساس نہیں ہوتا، نہ جسم سے جان نکلنے کا اور نہ اپنے وجود کے ختم ہونے کا۔ آخری سانس تک کیفیت وہی رہتی ہے اور پھر یک دم سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، بلکہ یہ کہنا بھی درست نہیں کیونکہ ختم ہونے کا احساس بھی تو نہیں ہو پاتا۔ بالکل ویسے جیسے اپنی پیدائش سے پہلے مجھے پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کب میں لوتھڑے سے جسم بنا اور دنیا میں آ گیا، بالکل اسی طرح مرتے وقت بھی مجھے پتا ہی نہ چل سکا کہ کب میں مرنے کے بعد دنیا سے قبر میں آ گیا۔“

چند لمحوں تک قبر میں سناٹا رہا۔ ہم اندھیرے میں گھورتے رہے۔ پھر میں نے گلا کھنکار کر بات وہیں سے جوڑی جہاں مردے نے ختم کی تھی۔ ”تمہاری بات ٹھیک ہے، مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے جیسے مرنے کے بعد ہماری وہی حیثیت ہوجاتی ہے جیسے پیدائش سے پہلے۔ نا معلوم۔“

”نہیں، اب ایسا بھی نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو میں اس وقت جنت کے انتظار میں یوں قبر میں نہ لیٹا ہوتا۔“ مردے کے لہجے میں تیقن تھا۔ ”بلکہ اس صورت میں تو ہم یہ باتیں بھی نہ کر رہے ہوتے۔“

”اوہ! تو تمہیں اس قدر یقین ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے؟“
”ہاں، کیوں نہیں!“ مردے کا اعتماد اب کافی حد تک بحال ہو چکا تھا۔

”لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ ابھی تھوڑی دیر میں کیڑے مکوڑے یہاں قبر میں تمہاری لاش پر رینگنا شروع کر دیں اور چند ہی دنوں میں تمہارا یہ بچا کچا جسم مٹی میں مل جائے۔ تمہارے لواحقین تو شاید سال میں ایک مرتبہ ہی قبر پر آئیں گے مگر تمہیں اس کا بھی کچھ پتا نہیں چل سکے گا کہ ان میں سے کون آیا اور کون نہیں آیا، کون کس حال میں ہے، تمہاری جائیداد کا کیا بنا، بچوں نے آپس میں کیسے تقسیم کی، کیا وہ خوش ہیں یا نا خوش، تمہیں ان کی کسی بات کا علم ہی نہیں ہو سکتا، کیونکہ جونہی تم زندہ سے مردہ ہوئے تمہارے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، تمہارا جسم ناکارہ ہو گیا، بالکل ایسے جیسے کوئی مشین ناکارہ ہو جاتی ہے، اس وقت اگر کوئی تمہاری لاش کو ہاتھی کے پاؤں کے نیچے بھی دے دیا جاتا تو تمہیں کچھ فرق نہ پڑتا۔“

”چپ ہو جاؤ، خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔ تم کون ہو اور کیوں مجھ سے یہ سب سوال کر رہے ہو؟“ مردہ خوف زدہ ہو کر بولا۔

”میں تو کوئی بھی نہیں ہوں۔ کیا تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ تمہاری قبر میں تو ویسے بھی تاریکی ہے۔ ابھی کچھ دنوں میں یہاں فقط تمہاری ہڈیاں رہ جائیں گے اور وہ ہڈیاں بھی ایک دن ختم ہو جائیں گی اور تمہارا وجود ان کروڑوں اربوں مردہ لوگوں کی طرح صفر اور بے معنی ہو جائے گا جو یہ!“

”تم۔ تم۔ یقیناً ابلیس ہو۔ شیطان ہو۔ دفع ہو جاؤ یہاں۔“ مردہ میری بات کاٹتے ہوئے چلایا۔ ”میرا وجود ختم نہیں ہو سکتا، تم مجھے ورغلا رہے ہو، تم یہ چاہتے ہو کہ میں۔ کہ میں۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔“ مردے نے اپنی بات ختم کرنے کی بجائے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے بھگانا چاہتا ہے، میں اب اس کی قبر میں مزید نہیں رہ سکتا تھا، میں اسے چھوڑ کر وہاں سے دنیا میں واپس آ گیا جہاں میرا بہت سا کام باقی تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 251 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments