انسانی رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رویہ کسی بھی انسان کی شخصیت کا بیان ہے۔ عام طور پر رویے دو طرح کے ہوسکتے ہیں۔ اول مثبت رویہ اور دوئم منفی رویہ۔ نامور مصنف، سپہ سالار، سیاست دان، اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم سر ونسنٹ چرچل ( 1874۔ 1965 ) کے مطابق ”رویہ ایک معمولی سی لیکن انسانی شخصیت میں بہت اہمیت کی حامل چیز ہے۔“ ایک مرد یا عورت کے رویے میں بڑی تبدیلی کا براہ راست تعلق اس کی مثبت سوچ سے ہے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک انسان کا مثبت اور تواناء طرز فکر دنیا کے سامنے ایک بہترین رویے کی کلید ہے۔

رویے کا انحصار انسان کے طرز فکر، نقطۂ نظر اور عقائد پر ہوتا ہے۔ آپ کا رویہ ہی آپ کو زندگی میں مختلف مسائل سے نمٹنے کے قابل بناتا ہے اور اپنے ہدف کے حصول کے لئے متحرک رکھتا ہے۔ علم نفسیات کے مطابق انسانی رویہ کی درج ذیل اقسام ہیں۔ 1 ) سنجیدہ رویے (Cognitive Attitudes) : سنجیدہ رویے کی بنیاد اس علم پر ہے جو ہم کتابوں سے یا پھر اپنے مشاہدات و تجربات سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ علم ہی ہمیں زندگی کے مختلف مراحل میں پر اعتماد بناتا ہے۔

2 ) جذباتی رویے (Emotional Attitudes) :جذباتی رویوں کا براہ راست تعلق انسانی جذبات سے ہے۔ ان جذبات میں پیار، محبت، نفرت، ملن، جدائی، دوستی، مسرت، غم و غصہ، دکھ، رنج، انتظار، فتح و شکست، کامیابی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام انسانی جذبات کسی بھی فرد کے رویے پر گہرے طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک بالغ انسان کو ان تمام عوامل کا فہم و فراست اور دانش مندی سے سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ 3 ) اخلاقی/سماجی برتاؤ کے رویے (Behavioral Attitude) :اخلاقی رویوں کا تعلق مختلف محرکات اور عوامل کے بارے ہمارے ردعمل سے ہے۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ ان رویوں کے اظہار کے ردعمل میں ہمیں احتیاط برتنا چاہیے۔ سماجی برتاؤ کے رویوں کو سمجھنے کے لئے ان کو مختلف اجزاء میں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ جو کہ یوں ہیں، مثبت سماجی رویے، منفی سماجی رویے، غیر جانبدار سماجی رویے اور بدترین تخریبی سماجی رویے۔

دیکھا گیا ہے کہ انسانی رویے سیاسی، سماجی و معاشرتی، معاشی، مذہبی، قومی و بین الاقوامی اور موسمی و جغرافیائی عوامل کے زیر اثر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ دور حاضر میں سیاسی رویوں میں زیادہ تر ایک دوسرے کی ذات اور طرز سیاست کے بارے میں منفی بیان بازی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نظر ڈالیں تو سیاسی محاذ آرائی اور ذاتیات پر تنقید، اثاثہ جات کے انباروں کے بارے میں سوالات اور اسی طرز کی منفی بیان بازی کے نمونے ملیں گے۔

انسانی رویوں پر اثر انداز ہونے والے چند ایک سیاسی بیانات ملاحظہ ہوں جو کہ قومی اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے۔ حکمرانوں سے نجات کے لئے اسلام آباد جائیں گے، (اپوزیشن راہنما) ، سیاسی بے روزگاروں کے پلے کچھ نہیں رہا (وفاقی وزراء) ، تربت، فورسز کا آپریشن، جھڑپ، 3 جوان شہید (اسٹاف، مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) ، بھارت: مسلم مخالف تشدد، مساجد پر حملوں کے خلاف احتجاج (اسٹاف، مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) ، پشاور: انتظامیہ کا بلاول کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار (اسٹاف) ، یورپ میں کورونا دوبارہ پھیل گیا، ہالینڈ میں جزوی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ، لاہور: آلودگی کے سائے گہرے ہونے لگے، سانس لینا دوبھر (اسٹاف) ، لاہور: ائر کوالٹی انڈکس 350 سے تجاوز، اسپیشل اینٹی اسموگ اسکواڈ قائم کرنے کا فیصلہ (اسٹاف) ، کا بل: بم دھماکہ میں 6 افراد ہلاک کئی زخمی (مانیٹرنگ ڈیسک) ، مخصوص افراد سے متعلق رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی (اسٹاف) ، کلر کہار: لاہور کے 3 نوجوان آبشار میں نہاتے ڈوب گئے (مانیٹرنگ ڈیسک) ، مہنگائی عمران خان کی مقبولیت کو زمین پر لے آئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ۔ چند دن پہلے کے یہ تمام مختلف نوعیت کے سیاسی، معاشرتی، مقامی اور عالمی بیانات سے مختلف رویوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت موسیٰ ایک مثبت رویے کے حامل شخص تھے۔ لیکن قوم بنی اسرائیل، ملک مصر سے نکل آنے کے بعد کمزور اور ڈانواں ڈول ایمان کے باعث اپنے منفی اور مایوس کن رویوں کی وجہ سے خداوند خدا کے قہر اور عتاب کا شکار ہوئی۔ اور وعدہ کی سرزمین کا چند ماہ کا سفر 40 برس پر محیط ہو گیا۔ ایک ضدی نسل کا خاتمہ اپنے باغیانہ رویوں کو باعث بیابان میں ہو گیا۔ جبکہ یشوع اور کالب پر فضل الٰہی تھا اور وہ اپنے وفادار اور مثبت رویوں کی وجہ سے وعدہ کی سر زمین میں اپنی قوم کی نئی نسل کو لے کر داخل ہوئے۔

حضرت مسیح کی اس زمین پر 3 سالہ تبلیغی زندگی کے دوران، آپ نے کئی معجزات کیے ۔ کیونکہ انسانی رویوں کا انحصار عقائد پر بھی ہے، لٰہذا انہی لوگوں نے آپ سے شفا اور زندگی پائی جو اس ضمن میں مثبت و محکم رویہ اور ایمان کے حامل تھے۔ شکی مزاج اور کمزور و منفی رویوں کے حامل لوگوں کو قرب الہٰی کی برکات سے محروم، خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

اگر بحیثیت قوم یا فرد واحد، ہمیں خود کو ایک مکمل انسان یا قوم منوانا چاہتے ہیں تو ہر معیار پر ہمیں اپنے رویے درست اور مثبت رکھنا ہوں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں معتبر جانیں تو اس کے لئے لوگ ہمیں، رویوں کے پیمانے پر پرکھیں گے۔ یہ بات ہر طرح وزن رکھتی ہے کہ بہترین رویہ ہی کسی فرد یا قوم کو ایک فاتح ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ دنیاوی مفادات کے علاوہ اپنے عقائد اور ایمان پر مبنی تواناء اور مثبت رویوں کے باعث ہم الٰہی نعمتیں اور برکات حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments