سیندک: بلوچستان کا مقدمہ اور ریکوڈک کا مخمصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1961 میں پاکستان کے جیولوجیکل سروے نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سیندق کے تانبے کے ذخائر دریافت کیے تھے۔ کل معدنی ذخائر میں، سابق سیکرٹری خزانہ اور ماہر اقتصادیات جناب محفوظ علی خان کے مشاہدے کے مطابق، اوسطاً 412 ملین ٹن کے حساب سے دھات میں 0.37 فیصد تانبا، 0.44 گرام سونا، اور 1.5 گرام فی ٹن چاندی تین مختلف مائن فیلڈز میں موجود ہے۔

1990 میں، ایک چینی کمپنی چائنا میٹالرجیکل گروپ کارپوریشنز (MCC) اور RDL کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 1995 میں، 1500 میٹرک ٹن تانبا اور سونا نکالا گیا۔ بعد میں 1996 سے 2001 تک، ہنر مند افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے، اور دنیا میں تانبے کی قیمت غربت کی وجہ سے سیندق منصوبہ بھی متاثر ہوا نتیجتاً، مذکورہ مد میں صوبے کو تنخواہوں اور دیکھ بھال پر 300 ملین روپے خرچ کرنے پڑے۔

2001 میں، حکومت پاکستان نے ایم سی سی کے ساتھ لیز کا معاہدہ کیا، جسے 10 فروری 2002 سے نافذ کیا جانا تھا۔ معاہدے کی شرائط و ضوابط میں یہ نکات تھے : 1۔ معاہدہ دس سال کی مدت کے لیے ہو گا۔ 2 : SML کو سالانہ 0.5 ملین ڈالر ملنا تھے۔

3: SML کے پاس منافع کا 50 فیصد اضافی نقد حصہ بھی تھا۔
4: حکومت بلوچستان کو رائلٹی کا 2 فیصد رکھا گیا تھا، جسے 2009 میں بڑھا کر 5 فیصد کر دیا گیا۔

2012 میں، معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد ، اس کی مزید 5 سال کے لیے تجدید کی گئی، پھر 2017 میں، اسے مزید 5 سال کے لیے 2022 تک بڑھا دیا گیا۔

چاغی وہ علاقہ جس میں ایٹم بم کا تجربہ ہونے سے عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ بد ترین سماجی اشاریوں کی زد میں ہے۔ یہ صوبے کا سب سے بڑا، وسائل سے مالا مال اور سب سے کم ترقی یافتہ اضلاع میں سے ایک ہے۔ جہاں خواندگی کی شرح صرف 29 فیصد جبکہ غربت کی شرح 59 فیصد ہے۔ بلوچستان وفاقی حکومت کی طرف سے اس طرح کی غفلت کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے عوام کے زخموں پر مرہم کی ضرورت ہے۔ اس قسم کا رویہ بیگانگی کو مزید تیز کرے گا

ریکو ڈک کا مخمصہ

1993 میں حکومت بلوچستان کی جانب سے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز (BHPM) کے ساتھ ایک مشرکہ منصوبے کی بنیاد پر ضلع چاغی میں 33,47226 ہیکٹر یا 13,546 کلومیٹر رقبے پر معدنیات کی تلاش کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے لیے 10 لائسنس بھی الاٹ کیے گئے۔ یہ معاہدہ 75 / 25 شیئر کے فارمولے پر مبنی تھا، جہاں 25 فیصد بلوچستان حکومت کا حصہ تھا۔ بعد میں، 1000 کلومیٹر مربع کی مزید اجازت دی گئی۔ معاہدے میں معدنیات کی تلاش کی مدت 6 سال مقرر کی گئی تھی۔

سابق سکریٹری برائے خزانہ اور معروف ماہر معاشیات جناب محفوظ علی خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق، کمپنی کو یہ حق دیا گیا تھا کہ اگر وہ چاہے تو اپنا حصہ دوسری کمپنیوں کو فروخت اور منتقل کر سکتی ہے۔ چنانچہ BHP نے MINCOR کے نام سے ایک دوسری کمپنی بنائی اور اپنا حصہ نئی کمپنی کو منتقل کر دیا۔ MINCOR نے بعد میں اپنا حصہ آسٹریلیا کی ایک کمپنی، TETHYAN Copper Company، کو منتقل کر دیا۔ نئی کمپنی نے جب مزید تحقیق کی تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ یہاں پر ذخائر معاشی طور پر قابل عمل اور کافی مقدار میں ہیں۔

اس کامیابی نے تھیتھیان کمپنی کے حصص کی قیمت کو آگے بڑھایا اور لندن اسٹاک ایکسچینج میں ان حصص کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے۔ اس نے، 2006 میں ایک کنسورشیم، اینٹوفاگاسٹا (کاپر اور گولڈ) کو متوجہ کیا۔ اس کنسورشیم میں دو کمپنیاں شامل تھیں، ایک چلی کی کمپنی جو کہ دنیا میں تانبے کی سب سے بڑی پروڈیوسر تھی اور بارک گولڈ کارپوریشن آف کینیڈا، جو کہ دنیا کا نمبر ایک گولڈ پروڈیوسر تھی۔ تھیتھیان کو ان دو شیئر ہولڈرز کمپنیوں نے پیشکش کی کہ وہ اپنے حصص انہیں اوپن مارکیٹ میں بیچ دیں۔ ٹیتھیان نے ان کی پیشکش کو قبول کیا اور اینٹوفاگاسٹا اور بیرک آف گولڈ، کینیڈا نے مشترکہ طور پر اور یکساں طور پر TCC کا 100 % حصہ خرید لیا۔

فروری 2011 کو TCC کمپنی نے مائننگ لائسنس کے لیے حکومت بلوچستان کو درخواست دی جسے مسترد کر دیا گیا۔ نتیجتاً، TCC نے ICSID اور ICC میں درخواست دائر کی۔ 12 جولائی 2019 کو ٹیتھیان کاپر کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو کان کنی کی لیز نہ دینے اور اس کے 2011 کے نقصانات کے لیے ICSID نے 5.84 بلین امریکی ڈالر حکومت بلوچستان پر جرمانہ عائد کیا

اس دلدلی اور ناموافق صورتحال نے کچھ سوالات کو جنم دیا جیسے کہ،

1: شروع سے ہی، ایک معاہدہ حکومت بلوچستان اور BHPM کے درمیان، دوسرا، حکومت بلوچستان، حکومت پاکستان، اور BHPM کے درمیان ہونے چاہیے تھے۔ بنیادی اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر معاہدے پر دستخط کیسے کیے گئے؟

2: سوال اٹھتا ہے کہ معدنیات کی تلاش کے دوران، BHPM نے کس قسم کی معلومات شیئر کیں کیونکہ صوبے کو 25 % لاگت کا خرچ جو پیداوار کی صورت میں کمپنی کو لوٹانا تھا اس کا مطلب کہ 300 ملین امریکی ڈالر کی مستقبل کے قرض کا بوجھ حکومت بلوچستان پر ڈال دیا گیا تھا

3: میزبان کمپنی کو لینڈنگ کے حقوق کس کی اجازت سے اور کس بنیاد پر دیا گیا؟
4: ملکی قوانین کی موجودگی میں، معاہدے میں ثالثی کے لیے ICC اور ICSID کی شق کو کیوں رکھا گیا؟
5: کس بنیاد پر اس وقت کی صوبائی حکومت نے میزبان کمپنی کے لیے 13 قوانین میں نرمی کی؟

تاریخ بتاتی ہے کہ جب معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے تو اس وقت صوبائی اسمبلی نہیں تھی اور نگران حکومت اس وقت کے گورنر کے ساتھ مل کر معاملات چلا رہی تھی جنہوں نے معاہدے سے صرف 10 دن قبل چارج سنبھالا تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ معاہدے کو مرتب کرتے وقت P@D اور دیگر ذمہ دار محکموں جیسے کہ کان کنی اور معدنیات کے ڈیپارٹمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے صوبے کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ صوبے کے لیے درد سر بن گیا ہے۔ کیا معاملات کو خراب کرنے والے ذمہ داروں کا احتساب ہو گا؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments