ماحولیاتی سفارتکاری: پیرس سے گلاسگو تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلا، بلا، بلا۔ باتیں باتیں اور صرف باتیں۔ یہ تھا گلاسگو میں منعقد ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس سی او پی 26 کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے پر نوجوان ماحولیاتی کارکنوں کا ردعمل۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کے نتائج پر مایوسی کا یہ اظہار اب احتجاج کرنے والے نوجوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس حوالے سے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زیادہ ماحولیاتی ماہرین اور سائنسدانوں کی طرف سے ایک کھلے خط کے ذریعے اس کانفرنس کو ایک ناکامی قرار دیا گیا ہے۔

ان ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس کانفرنس میں سرمایہ دارانہ مفادات کو حد سے زیادہ نمائندگی دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔ ان ماحولیاتی ماہرین کے مطابق گرین ہاؤس گیسز کا اخراج روکنے، فطری نظاموں کی بحالی اور ماحولیاتی بحران کے تلخ نتائج سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک سبز انقلاب کی ضرورت ہے۔ لیکن دوسری طرف مختلف حلقوں کی جانب سے اس کانفرنس کے نتیجے میں طے پانے والے گلاسگو ماحولیاتی معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

معروف ماحولیاتی سائنسدان مائیکل ای مین نے سسان جوئے ہیسول کے ساتھ لاس اینجلس ٹائمز کے لئے لکھے گئے آرٹیکل میں گلاسگو اعلامیے کو ماحولیاتی جنگ کے نازک مرحلے پر امید کی ایک کرن سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ہم اس پیش قدمی کی رفتار کو ناکافی قرار دے سکتے ہیں لیکن بہرحال جنگلات کی کٹائی روکنے، میتھین گیس کے اخراج میں کمی اور فوسل فیولز کے استعمال سے کاربان اخراج کی روک تھام کے حوالے سے بات آگے ضرور بڑھی ہے۔

گلاسگو ماحولیاتی معاہدے میں آئندہ دس سالوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عالمی ایجنڈا طے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ معاہدے میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ کانفرنس کے شریک ممالک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کے اہداف کو مزید بہتر بنا کر آئندہ سال مصر میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ جس کا مقصد درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے لیکن بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس وقت جو وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے بھی ہو جائیں تب بھی درجہ حرارت میں اضافے کو زیادہ سے زیادہ دو عشاریہ چار فیصد تک محدود رکھنا ہی ممکن ہو سکے گا۔

اس کانفرنس میں پہلی دفعہ کوئلے کے استعمال میں کمی کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے اور اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ دنیا کے غریب ملکوں کو اپنی معیشت توانائی کے متبادل ذرائع پر منتقل کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کی فراہمی کو بڑھایا جائے گا۔ کانفرنس کے دوران دنیا کے ایک سو ملکوں نے 2030 تک جنگلات کے خاتمے کو مکمل طور پر روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، یہ بات اس لئے بھی خوش آئند ہے کہ دنیا کے پچاسی فیصد جنگلات ان ملکوں کی جغرافیائی حدود میں واقع ہیں۔

اسی طرح ایک سو سے زیادہ ملکوں نے میتھین گیس کے اخراج میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔ مزید براں، دنیا کے بڑے سرمایہ کار اداروں کی طرف سے اس بات کا عہد بھی کیا گیا ہے کہ مستقبل میں وہ توانائی کے متبادل ذرائع میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں گے اور فوسل فیولز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ان تمام وعدوں پر عملدرآمد کو متعلقہ حکومتیں اور ادارے ہی یقینی بنائیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر احتساب کا کوئی خاص نظام موجود نہیں ہو گا۔

اس کانفرنس کے دوران ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور چین نے آئندہ دس سالوں کے دوراں میتھین گیس کے اخراج میں کمی، متبادل توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانے سمیت دیگر ماحولیاتی اقدامات میں ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا جن کی مدد سے درجہ حرارت کو پیرس معاہدے کی حدود و قیود کے اندر رکھنا ممکن ہو سکے گا

کانفرنس کے دوران ماحولیاتی انصاف کے لیے سرگرم کارکنوں اور دنیا کے غریب ملکوں کے سفارتکاروں کی طرف سے اس بیانیے پر مسلسل زور دیا جاتا رہا کہ امیر ملکوں کی صنعتی ترقی اور امیر لوگوں کی طرز زندگی کی وجہ سے جنم لینے والے بحران نے نہ صرف ترقی پذیر ملکوں کی معیشت کو متاثر کیا ہے بلکہ تیسری دنیا کے لاکھوں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اس لیے یہ امیر ملکوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ملکوں کے نقصانات کا ازالہ کریں جن کی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ داری تو بہت کم ہے لیکن نقصانات کے حوالے سے وہ فرنٹ لائن پر ہیں۔

اس تناظر میں آج سے بارہ سال پہلے کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں غریب ملکوں کی مدد کے لیے 2020 تک ایک ٹرلین ڈالرز کا سالانہ فنڈ قائم کرنے کی بات کی گئی تھی اور پھر پیرس معاہدے میں بھی اس چیز کی تجدید ہوئی تھی لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ کانفرنس کے دوران صرف اسکاٹ لینڈ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ملکوں کی مدد کے لیے کلائمیٹ جسٹس رزیلیئنس فنڈ میں رقم جمع کروانے کا اعلان کیا باقی ملکوں کی طرف سے واضح اعلانات کا انتظار ہی ہوتا رہا۔

بہر حال گلاسگو کانفرنس کے بارے میں ماحولیاتی کارکنوں اور سائنسدانوں کے تحفظات سے قطع نظر ماحول کے حوالے سے عالمی سفارتکاری 1972 میں اقوام متحدہ کی جانب سے منعقد ہونے والی پہلی عالمی کانفرنس سے لے کر آج تک آدھی صدی کا سفر مکمل کر چکی ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس سال ماحولیاتی تحرک کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی ہے۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک کے لیے ہونے والی عالمی سفارتکاری 1995 میں جرمنی میں منعقد ہونے والی پہلی کانفرنس آف پارٹیز سے لے کر پیرس معاہدے تک اور پھر پیرس معاہدے سے لے کر گلاسگو کانفرنس تک سرمایہ دارانہ نظام، عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، بڑے صنعتی ملکوں کی اس بحران کے حل کے حوالے سے ان پر عائد ہونے والی بھاری ذمہ داریوں سے روگردانی سمیت ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے طبقاتی سوال اور دیگر تضادات کی پیچیدہ گھاٹیوں سے گزر کر پہنچی ہے۔

یہ مشکل سفر عملی اقدامات کے حوالے سے ضرور سست روی کا شکار رہا ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ اب دنیا کی نئی نسل میں بڑھتا ہوا ماحولیاتی شعور عالمی سفارتکاری کی رہنمائی کرے گا اور ہمیں آئندہ سال مصر میں ہونے والی کانفرنس آف پارٹیز سے اس سیارے کو بچانے کے حوالے سے مزید عملی اقدامات کی نوید سننے کو ملے گی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments