کیا آپ کترینہ کیف کے ساتھ چائے پینا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ واقعی کترینہ کیف کے ساتھ گھومنا یا چائے پینا چاہتے ہیں تو مستقبل قریب میں میٹاورس نام کی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ ممکن ہے۔ اسی لئے فیس بک نے اپنا نام حال ہی میں تبدیل کر کے میٹا رکھ دیا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی فروزاں حقیقت (augmented reality) اور مجازی حقیقت ( virtual reality) پر محیط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت آپ کہیں بھی جا سکتے ہیں، مشہور شخصیات کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں، ورلڈ کپ کے میچز گراؤنڈ میں بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں، غرض ہر طرح کی کیفیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔

اس کے لئے آپ کو ایک چشمہ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید دستانے بھی پہننے پڑیں گے اور شاید ایک اسپیشل کرسی بھی۔ اسی طرح کا چشمہ جو آپ 3 D فلم دیکھتے یا کوئی ویڈیو گیم کھیلتے وقت پہنتے ہیں۔ آپ فلم دیکھتے ہوئے اور ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے ان چیزوں کو نہ ہاتھ لگا سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ آئندہ آنے والوں دنوں میں یہ سب چیزیں ہونے والی ہیں۔

آپ کی اپنی دنیا ہو گی۔ چشمہ پہنیں، دنیا گھومیں اور جو کرنا چاہیں کریں۔ فیس بک، مائکروسافٹ، ایپل، گوگل اور دیگر کمپنیاں اس پر کام مکمل کر کے اب تجرباتی مراحل تک پہنچ گئی ہیں اور عنقریب میٹا ورس کے لئے چشمے، اسپیشل کرسیاں، دستانے اور دیگر لوازمات مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔

اب ہم یونیورس سے نکل کر میٹاورس کے دور میں داخل ہو رہیں ہیں جس میں ہم 3 D اور 4 D کی تمام حدوں تک پہنچ سکتے ہیں، نہ صرف پہنچ سکتے ہیں بلکہ محسوس بھی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذیابیطس کا مریض چشمہ پہن کر ڈھیر ساری مٹھائی کھا سکتا ہے لیکن اس کی شوگر میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ حقیقت میں وہ مٹھائی نہیں کھا رہا۔ اس کے چشمے سے نکلنے والے شعاعیں اس کے دماغ تک یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ مٹھائی کھائی جا رہی ہے اور اس کا جسم اس کو انجوائے بھی کر رہا ہو گا۔ اس سادہ مثال سے آپ پر واضح ہو گیا ہو گا کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور کتنی تیزی سے ساری چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں۔

میٹاورس کے لئے ہی بلاک چین ٹیکنالوجی (blockchain technology ) اور این ایف ٹی ٹوکن (NFT) کو لایا گیا ہے جو کہ دنیا کے تمام بینکوں اور کھاتہ داروں نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ این ایف ٹی آپ کو اپنا اوتار (avatar) بنا کر دے گی جو ایک کمپیوٹر ایڈریس کے ذریعے محفوظ ہو گا۔

یعنی آپ اگر اس دنیا سے چلے بھی جائیں تب بھی آپ کے گھر والے آپ کے اوتار کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔ آپ کا اوتار آپ کی طرح دکھتا ہو گا، آپ ہی کی آواز ہو گی اور آپ کی ہر پسند ناپسند اس کو معلوم ہو گی۔ ایک بیوی کو شاید ہی یہ کبھی محسوس ہو کہ اس کا شوہر اب اس دنیا میں نہیں ہے۔

میں آپ کو اس طرح کی کئی اور مثالیں دے سکتا ہوں جن کو پڑھ کر آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ بلیک میرر (Black Mirror) نامی فلمی سیریز Netflix پر موجود ہے۔ اس کی سات یا آٹھ قسطیں ہیں اور ہر قسط ایک نئے موضوع پر مبنی ہے۔ اس کو دیکھ کر آپ کو میٹا ورس کا پتا چلے گا۔

میٹا ورس ٹیکنالوجی کے بہت نقصانات بھی ہیں لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ صرف نقصانات کو دیکھ کر دنیا کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ہمیں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانا ہو گا۔ ایلون مسک مریخ پر انسانی دنیا بسانا چاہتا ہے کیونکہ اس کے بقول دنیا کا درجہ حرارت اتنا بڑھ چکا ہو گا کہ یہ دنیا رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور ہم مسلمان ابھی اسی بات کا فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ مغرب کے بعد گھر میں جھاڑو دینا جائز ہے یا نا جائز۔ چھپکلی کو مارنا بری بات ہے یا ثواب کا کام ہے۔ نماز پڑھتے وقت شلوار ٹخنے سے اوپر ہونی چاہیے یا نیچے۔ ہم مسلمان یونیورس کا تو حق ادا کر نہیں پائے، میٹا ورس میں کیا خاک داخل ہوں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments